مدرسہ عارف العلوم
فتوے
طلاق ثلاثہ کا اقرار کرنے کےبعد اس کا انکار کرنا
سوال
حمزہ کی اپنی بیوی سے ناچاقی ہوئی اسی دوران حمزہ نے اپنی بیوی کو بہت مارا،اس کے بعد بیوی نے اپنے گھر اپنی بہن کو فون کیا اور کہا کہ حمزہ نے مجھے طلاق دے دی ہے ،لڑکی کے والدین اپنی بیٹی کو لینے گئے تو حمزہ سے پوچھا کہ تونے طلاق دی ہے تو حمزہ نے اقرار کیا کہ چار پانچ مرتبہ دی ہے ،والدین اپنی بیٹی کو گھر لے آئے ،دوسرے دن بیٹی نے کہا کہ ایک مرتبہ حمزہ نے کہا کہ میں طلاق دے دوں؟دوسری مرتبہ کہا کہ میں نے طلاق دی۔میں فوراً وہاں سے بھاگ گی اس کے بعد مجھے پتہ نہیں ۔پھر حمزہ سے پوچھا گیا کہ تو نے کتنی طلاق دی ہے؟ تو اس نے کہا کہ ایک مرتبہ نے کہا کہ میں طلاق دے دوں؟دوسری مرتبہ میں نے کہا کہ میں نے طلاق دی یعنی دونوں میاں بیوی کا بیان ایک جیسا ہے ۔
پھر حمزہ سے پوچھا گیا کہ آپ نے پہلے اقرار کیا کہ چار پانچ مرتبہ دی ہے اور اب بیان بدل لیا ہے؟تو حمزہ نے کہا کہ اس وقت میں غصہ میں تھا مجھے ہوش نہیں تھا حقیقت میں نے وہی دو جملے بولے ہیں جو اوپر مذکور ہوئے ہیں ۔گذارش ہے کہ قرآن وحدیث کی صورت میں مسئلہ کی وضاحت فرمائیں۔
جواب
تفصیلات دیکھیں
پلاٹ کی قیمت تاخیر سے ادا کرنے پر اضافی رقم کا مطالبہ کرنا
سوال
محترم مفتی صاحب / دارالافتاء، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں ایک معاملے کے متعلق فقہِ حنفی کی روشنی میں شرعی رہنمائی چاہتا ہوں۔ براہِ کرم مکمل صورتِ حال پڑھ کر واضح فرمائیں کہ میرے لیے درج ذیل رقم بطور نقصان کا ازالہ (Loss Compensation) لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں۔
معاملے کی تفصیل
میں نے اپنا گھر 2 کروڑ 78 لاکھ روپے میں فروخت کیا تھا۔ خریدار کے ساتھ طے ہوا تھا کہ گھر کی مکمل رقم 6 ماہ کے اندر اندر ادا کر دی جائے گی۔
معاہدے کے وقت کوئی Late Payment Penalty یا اضافی رقم کی شرط نہیں رکھی گئی تھی، کیونکہ مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ خریدار مقررہ مدت کے بعد بھی ادائیگی میں اتنی تاخیر کرے گا۔
خریدار نے 6 ماہ کے اندر مکمل ادائیگی نہیں کی بلکہ تقریباً ایک سال میں مکمل رقم ادا کی۔ اس دوران باقی واجب الادا رقم تقریباً 90 لاکھ روپے تھی۔
میں نے مقررہ 6 ماہ کی مدت گزرنے کے بعد خریدار کو واضح طور پر بتایا کہ آپ کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے مجھے مالی نقصان ہو رہا ہے۔ میری صورتحال یہ تھی کہ میں اس گھر کی رقم سے اپنا دوسرا گھر تعمیر کر رہا تھا۔ اگر مجھے رقم طے شدہ 6 ماہ کے اندر مل جاتی تو میں اسی وقت تعمیراتی سامان خرید کر اپنا گھر تعمیر کر لیتا۔
لیکن چونکہ خریدار نے رقم مقررہ وقت پر ادا نہیں کی، اس لیے میں بروقت تعمیراتی سامان نہیں خرید سکا۔ بعد میں جب رقم موصول ہوئی تو تعمیراتی سامان، مزدوری اور دیگر تعمیراتی کاموں کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے مجھے اپنے گھر کی تعمیر میں اضافی رقم خرچ کرنا پڑی۔
میں نے خریدار کو اسی دوران اس نقصان کے بارے میں بتایا تھا۔ خریدار نے واضح طور پر کہا تھا کہ “آپ کا Loss Compensation کر دیں گے”۔ یعنی اس نے میری طرف سے بتائے گئے نقصان کی تلافی کرنے کی بات واضح طور پر تسلیم کی تھی۔ اس بات کا میرے پاس ثبوت بھی موجود ہے اور وہ آج بھی اس بات سے انکار نہیں کر رہا کہ اس نے Loss Compensation دینے کا کہا تھا۔
نقصان کا حساب
اب چونکہ اصل رقم مکمل طور پر ادا ہو چکی ہے، میں نے اپنے اور خریدار کے ایک باہمی جاننے والے شخص، جو تعمیراتی کام کے شعبے سے وابستہ ہے، سے اس نقصان کا حساب لگوایا ہے۔
اس حساب میں یہ دیکھا گیا کہ مقررہ 6 ماہ کے بعد جس عرصے میں ادائیگی مؤخر ہوئی، اس دوران تعمیراتی سامان اور مزدوری کے نرخوں میں کتنا اضافہ ہوا۔
مثلاً:
- سیمنٹ کی قیمت میں تقریباً 15 فیصد اضافہ
- ریت میں تقریباً 40 فیصد اضافہ
- ماربل میں تقریباً 23.5 فیصد اضافہ
- پینٹ میں تقریباً 15 فیصد اضافہ
- کیبلز میں تقریباً 10 فیصد اضافہ
- سینیٹری فٹنگز میں تقریباً 10 فیصد اضافہ
- دروازوں میں تقریباً 37.5 فیصد اضافہ
- کھڑکیوں میں تقریباً 55 فیصد اضافہ
- کچن کے کام میں تقریباً 15 فیصد اضافہ
- مجموعی مزدوری میں تقریباً 25 فیصد اضافہ
ان تمام اشیاء کو تعمیر میں ان کے استعمال اور اہمیت کے اعتبار سے مختلف Weightage دی گئی، جس کے بعد تعمیراتی کام کی مجموعی لاگت میں تقریباً 23.5 فیصد اضافہ بنتا ہے۔
باقی واجب الادا رقم تقریباً 90 لاکھ روپے تھی۔ اگر اس پر 23.5 فیصد کے حساب سے دیکھا جائے تو تقریباً 21 لاکھ روپے بنتے ہیں، یعنی تقریباً 20 سے 21 لاکھ روپے کا اضافی مالی نقصان۔
میرا مقصد یہ نہیں کہ خریدار نے میری رقم ایک سال استعمال کی، اس کے بدلے مجھے سود یا منافع دیا جائے۔ بلکہ میرا مؤقف یہ ہے کہ اگر وہ مقررہ 6 ماہ میں رقم ادا کر دیتا تو میں اسی وقت تعمیراتی سامان خرید لیتا اور اپنے گھر کی تعمیر مکمل کر لیتا۔ اس کی طرف سے تقریباً ایک سال تک ادائیگی مؤخر کرنے کی وجہ سے جب مجھے رقم ملی تو وہی تعمیراتی کام زیادہ مہنگا ہو چکا تھا، جس سے مجھے حقیقی مالی نقصان ہوا۔
مزید یہ کہ اس دوران مجھے گھر کی حفاظت وغیرہ کے لیے چوکیدار کی تنخواہ بھی ادا کرنا پڑتی رہی، اور میں نے خریدار کو اس اضافی خرچ اور نقصان کے بارے میں بھی بتایا تھا۔
خریدار کی طرف سے تاخیر
خریدار نے اپنی ادائیگی اس وجہ سے مؤخر کی کہ اس کے اپنے تین فلیٹس فروخت نہیں ہو رہے تھے۔ یعنی اس کی اپنی مالی منصوبہ بندی کی وجہ سے میری رقم تقریباً ایک سال تک رکی رہی۔
دوسری طرف میری اپنی مجبوری یہ تھی کہ میں نے اپنا گھر اس لیے فروخت کیا تھا کہ مجھے اپنے قرض کی ادائیگی کرنی تھی اور اسی رقم سے اپنا دوسرا گھر تعمیر کرنا تھا۔
خریدار کی طرف سے مقررہ وقت پر رقم ادا نہ کرنے میں میری کوئی کوتاہی یا قصور نہیں تھا۔ میں نے اپنی طرف سے معاہدے کے مطابق گھر فروخت کر دیا تھا اور باقی رقم مقررہ وقت پر ملنی تھی۔
میرے سوالات
براہِ کرم فقہِ حنفی کی روشنی میں درج ذیل سوالات کا واضح جواب عنایت فرمائیں:
1۔ چونکہ خریدار نے مقررہ 6 ماہ کے بجائے تقریباً ایک سال میں ادائیگی مکمل کی اور اس تاخیر سے مجھے واقعی تعمیراتی لاگت میں نقصان ہوا، کیا میں اس حقیقی مالی نقصان کی تلافی بطور Loss Compensation لے سکتا ہوں؟
2۔ خریدار نے ادائیگی میں تاخیر کے دوران خود واضح طور پر کہا تھا کہ وہ میرے نقصان کی تلافی کرے گا، اور اس کا ثبوت بھی موجود ہے۔ کیا اس وعدے کی شرعی حیثیت ہے؟
3۔ اگر 90 لاکھ روپے کی باقی رقم پر تعمیراتی لاگت میں ہونے والے حقیقی اضافے، یعنی تقریباً 23.5 فیصد، کے حساب سے تقریباً 20 سے 21 لاکھ روپے کا نقصان بنتا ہے، تو کیا یہ رقم لینا شرعاً جائز ہوگی؟
4۔ اگر پورے 20 سے 21 لاکھ روپے لینا جائز نہ ہو تو براہِ کرم یہ بھی واضح فرمائیں کہ میرے حقیقی نقصان کا کون سا حصہ شرعاً وصول کیا جا سکتا ہے، مثلاً چوکیدار کی اضافی تنخواہ، اضافی تعمیراتی اخراجات وغیرہ؟اورجو نقصان ہوا ہے اس کا وعدے کے مطابق اخلاقی دائرے کے اندر کتنا وصول کیا جاسکتا ہے؟
5۔ کیا اس معاملے کو صرف “تاخیر سے رقم دینے پر اضافی رقم” سمجھا جائے گا، یا چونکہ خریدار نے دورانِ تاخیر خود Loss Compensation کا وعدہ کیا تھا اور مجھے واقعی تعمیراتی لاگت میں نقصان ہوا، اس لیے اس کی شرعی حیثیت مختلف ہوگی؟
براہِ کرم اس معاملے کا واضح اور دو ٹوک حنفی فتویٰ عنایت فرمائیں تاکہ میں حلال و حرام کے معاملے میں اطمینان کے ساتھ فیصلہ کر سکوں۔
جزاکم اللہ خیراً کثیراً
جواب
تفصیلات دیکھیں
ایک وارث اپنا حصہ کسی کو ہدیہ کرسکتا ہے نہ کہ دوسرے کے حصے کو
سوال
سؤال: میرا نام عظمٰی اقبال ہے۔ میرے شوہر کی وفات 2022 میں ہوئی۔ ان کے والدین حیات ہیں۔ ان کی والدہ ٹھیک ہیں، جبکہ میرے سسر بستر پر ہیں، ان کی یادداشت ختم ہو چکی ہے اور وہ کسی کو بھی نہیں پہچانتے۔
میرے شوہر کی گریجویٹی کے پیسے سب میں تقسیم کر دیے گئے ہیں۔ ان کی والدہ نے اپنا حصہ لے لیا، جبکہ میرے سسر کا حصہ ابھی میرے پاس ہے۔ میرا دیور اپنے والد کی تنخواہ وصول کرتا ہے اور والدہ کو دیتا ہے۔ یعنی میرے سسر کے بینک اکاؤنٹ کی دیکھ بھال اور لین دین وہی کرتا ہے۔ میں اس سال پاکستان گئی تو اپنی ساس کو قطر کے گھر کے سامان وغیرہ کے پیسے دیے۔ میری نیت یہ تھی کہ پہلے والدہ کو دوں، پھر کچھ پیسے جمع کرکے والد کو دوں گی۔ لیکن والدہ نے کہا کہ گھر کا سامان، ساری چیزیں، گاڑی اور زیور ہم نے تمہارے بچوں کو دے دیے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ابا کی طرف کے پیسے بھی بچوں کو دیتی ہیں اور یہ سب وارثوں کی طرف سے دیتی ہیں۔ میرے دیور کا کہنا ہے کہ چونکہ ابا حیات ہیں، اس لیے ان کے بچے بھی اس میں شامل ہونے چاہئیں۔
اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے، اور اس صورتِ حال میں شرعی طور پر کیا طریقہ ہونا چاہیے؟
جواب
تفصیلات دیکھیں
زندگی میں اپنی جائیداد اولاد میں تقسیم کرنا
سوال
میں اقبال علی خان ولد عثمان علی خان (مرحوم) آپ کی خدمت میں کچھ گذارش کرنا چاہتا ہوں ،میں اپنی زندگی میں اور بیوی کی موجودگی میں اپنی اولادوں میں اپنی جائیداد اور رقم ترکہ کرنا چاہتا ہوں ،میری والدہ کا انتقال ہوچکا ہے ۔میری اولادوں میں 6 بچے ہیں ،تین لڑکے اور تین بیٹیاں ہیں اور سب اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے حیات ہیں ۔
سب رقوم ملا کر اس وقت 59 لاکھ روپے بنتی ہے میں اس وقت پینشنرز ہوں اور اس رقم کے کے ترکہ کرنے کے بعد جو رقم پینشن ملتی ہے ،کیا اس میں ان کا حق ہوگا؟اس کی شرعی تقسیم کس طرح ہوگی؟
جواب
تفصیلات دیکھیں
متروکہ سامان کی باہمی رضامندی سے تقسیم
سوال
مفتی صاحب ایک مسئلہ معلوم کرنا تھا کہ ایک صاحب کا انتقال ہوا ہے ان کے کل 9 وارثین ہیں (جس میں ان کی اہلیہ،بیٹے،اور بیٹیاں وغیرہ شامل ہیں)۔تمام وارثین ماشاء اللہ عاقل ،بالغ اور شادی شدہ ہیں۔ ان کا مکان و غیرہ بیچ کر وراثت کے شرعی قانون کے مطابق جس کا جتنا حصہ بنتا ہے ،رقم تو تقسیم کی جارہی ہے ،مگر گھر کا جو سامان ہے،جس میں فرنیچر،بیڈ ،الماریاں،برتن ،صوفے،اے سی،ڈائنگ ٹیبل،جرنیٹر اور چھوٹا بڑا دیگر سامان شامل ہے ،اس کی تقسیم کرنی ہے۔تمام وارثین کی موجودگی میں کچھ واثین نے تو یہ کہ دیا ہےکہ ہمیں اس سامان میں سے کچھ نہیں چاہئے،جبکہ کچھ وارثین اس میں سے سامان لے رہے ہیں ۔آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ:
1۔اس کی شرعی ترتیب کیا ہوگی؟
2۔کیا اس طرح سامان لیا جاسکتا ہے یا پہلے تمام سامان (فرنیچر ،بیڈ،الماریاں،برتن وغیرہ )کی قیمت (ویلیو)لگانا ضروری ہے؟
3۔جو وارث سامان نہیں لے رہے وہ کہتے ہیں کہ ہماری طرف سے اختیار ہے جسے جو لینا ہے لے لے اور باقی اللہ واسطے صدقہ میں دے دیں،تو کیا دیگر وارثین کے لئے اس طرح سامان لینا جائز ہے؟
جواب
تفصیلات دیکھیں
قرآن وسنت سے ثابت دعاؤں کے الفاظ میں تبدیلی
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مفتیان عظام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ قرآن وسنت سے ثابت شدہ دعاؤں کے الفاظ میں تبدیلی کرنا مذکر ومونث کے اعتبار سے واحد جمع کے اعتبار سے تقدیم و تاخیر کے اعتبار سے کمی بیشی کے اعتبار سے کس حد تک جائز اور گنجائش ہے واضح فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔
جواب
تفصیلات دیکھیں