فتوے
تم لوگ پریشان مت ہومیں اس کو طلاق دے کر جاؤں گا
سوال
میرا نام ذوالفقار علی ولد احمد دین ہے ،میری شادی کو تقریباً 45 سال ہوگئے ہیں اور اس عرصے میں میری اپنی اہلیہ کے ساتھ مختلف مواقع پر گھریلو جھگڑے اور لڑائیاں ہوتی رہی ہیں اور میری جب بھی اپنی اہلیہ کے ساتھ لڑائی ہوئی تھی تو میں اکثر اس کو یہ کہتا تھا کہ "میں آپ کو طلاق دے دوں گا" پھر معاملہ رفع دفع ہوجاتا تھا ،اور ابھی تقریباً 25 دن قبل میری دوبارہ بیوی کے ساتھ لڑائی ہوئی اور میں اس وقت گاؤں میں تھا تو بیچ میں میرے بیٹے آگئے اور انہوں نے مجھے کہا کہ اباجان آپ ہر وقت جب بھی لڑائی ہوتی ہے یہی الفاظ ہماری والدہ کو کہتے ہو کہ میں طلاق دوں گا ،طلاق دوں گا ۔آپ ابھی ہماری والدہ کو طلاق دو ،معاملہ ختم کرو،پھر میری بیوی بھی سامنے آگئ اور اس نے بھی یہی کہا کہ مجھے طلاق دے دو۔میں نے اس وقت اپنے بیٹوں اور بیوی کو کہا کہ "میں طلاق دے کر جاؤں گا"(یعنی گھر سے باہر طلاق دے کر جاؤں گا)اور یہ الفاظ میں نے ان کو کئ مرتبہ کہا کہ"تم لوگ پریشان مت ہومیں اس کو طلاق دے کر جاؤں گا" اس کے بعد مزید کوئی لفظ نہیں کہا اور میں اپنی بات پر حلف کھانے کو بھی تیار ہوں ،اس کے بعد رات میں اپنی بہن کے گھر گذاری ،میری بہن کا گھر بھی قریب تھا ،اس کے اگلے دن میرا ایک بیٹا کراچی میں ہوتا ہے اس نے مجھے کراچی بلالیا ،اب میری بیوی اور بیٹے کہ رہے ہیں کہ میری بیوی کو طلاق ہوگئ ہے ۔قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
جواب
صورت مسؤلہ میں سائل کا اپنی اہلیہ کے چند دن پہلے کسی بات پر جھگڑا ہوا اور اس نے اپنے بیٹوں اور بیوی کو مخاطب کرکے یہ کہا کہ "میں طلاق دے کر جاؤں گا،تم لوگ پریشان مت ہو میں اس کو طلاق دے کر جاؤں گا"اور اسی طرح گذشتہ لڑائیوں میں بھی کئ مرتبہ سائل کا اپنی بیوی کو یہ کہنا کہ "میں تمہیں طلاق دوں گا"یہ تمام الفاظ طلاق کی دھمکیاں ہیں ،ان سے طلاق واقع نہیں ہوئی لہذا اگر سؤال حقیقت پر مبنی ہے اور سائل نے مذکورہ الفاظ کے علاوہ کوئی مزید لفظ اپنی بیوی کو نہیں کہا تو اس کی بیوی پر شرعاً کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی لیکن سائل کو آئندہ ایسے الفاظ استعمال کرنے سے احتیاط کرنا چاہئے۔
فتاوی شامی میں ہے:
بِلَفْظٍ مَخْصُوصٍ) هُوَ مَا اشْتَمَلَ عَلَى الطَّلَاقِ، فَخَرَجَ الْفُسُوخُ كَخِيَارِ، عِتْقٍ وَبُلُوغٍ وَرِدَّةٍ فَإِنَّهُ فَسْخٌ لَا طَلَاقٌ،
(کتاب الطلاق 3/227 ط سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
(وأما ركنه) فقوله: أنت طالق. ونحوه كذا في الكافي
(کتاب الطلاق ،الباب الاول 1/348 ط رشیدیہ)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
|
فتوی نمبر:556 |
تاریخ :17ربیع الثانی1448ھ/30 ستمبر 2026ء |
