info@bismillah.com +(00) 123-345-11

مدرسہ عارف العلوم

فتوے

Banner

فجر کی نماز کے بعد قضا عمری ادا کرنے کا حکم

سوال

فجر کی نماز باجما عت ادا کر نے  کے بعد فجر کے انتہائے وقت سے  پہلےقضا  ئے عمری کی نماز  و نوا فل ادا کرنا درست ہے؟

جواب

فجر کی فرض نماز کے بعد اشراق کے وقت داخل ہونے سے پہلے نفل نماز پڑھنا منع ہے ،البتہ قضاء عمری اس وقت پڑھی جاسکتی ہیں ،لیکن بہتر یہ ہے کہ اس وقت  قضا ء نمازاکیلے میں  ایسی جگہ پڑھی جائے جہاں کوئی موجود نہ ہو ،تاکہ کسی کو یہ معلوم نہ ہوسکے کہ...

تفصیلات دیکھیں

Banner

اگر بیوی نے دوہزار روپے لئے تو اس کو تین طلاق

سوال

کیا فرماتے ہیں علما دین بیوی اور شوہر کی لڑائی میں اگر شوہر کہے دوہزار دو ورنہ تمھیں تین طلاق ہے اور بیوی ٹال مٹول کے بعد آخر کار بیگ سے نکال کر دینے ہی والی ہو کہ ہاتھ سے چھین کر شوہر لے لے۔پھر کہے اگر بیوی نے یہ لیے یا میں نے دے دیئے تو بھی تین طلاق۔اس کے بعد بیوی کوشش کرے لینے کی مگر شوہر نہ دے ۔پھر دوسرے دن شوہر وہی پیسے میں 100 مزید ملا کر بیوی کے آگے رکھے کہ اٹھالو ہاتھ میں نہ دے لیکن بیوی نہ اٹھائے کہے یہ تو وہی ہیں ۔پھر شوہر اپنے بٹوے سے اپنے دوہزار نکال کر دے کہ مجھے پتہ نہیں چلا چلو اب یہ دوہزار ایک سو رکھ لو لیکن بیوی وہ نہ لے اور کہے کہ بس بچون کو دیں  اور شوہر کہے ٹھیک ہے ان کو بازار سے کچھ لے کر دے دینا جب جانا۔اور بیوی پیسے واپس بچوں کو دے۔ ہزار تمھارے ہزار تمھارے ۔اور بچے لے لیں بعد میں بچے ماں کے پاس رکھوالیں۔ تو کیا طلاق واقع ہوجائے گی یا نہیں؟

جواب

صورت مسؤلہ میں شوہر نے بیوی سے دو ہزار روپے کا مطالبہ کیا  اور نہ دینے پر طلاق  دینے کا کہا ،ابتداءً بیوی نے دینے سے ٹال مٹول کیا پھر شوہر نے اس سے وہ رقم چھین لی اور یہ جملہ کہا کہ "اگر بیوی نے یہ(دو ہزار روپے)لئے یا میں نے دے دئیے تو بھی...

تفصیلات دیکھیں

Banner

ٹیبلو میں لڑکوں کا لڑکیوں کا کردار ادا کرنا

سوال

سؤال : کیا فرماتے ہیں علماء کرام کہ بعض اسکولوں میں طلبہ اصلاحی ڈرامے پیش کرتے ہیں یا ٹیبلو پیش کرتے ہیں اور اس میں بعض بچے بچیوں کا کردار نبھاتے ہیں جس کے لیے وہ اپنے سر پر دوپٹہ یا کوئی چادر اوڑھ لیتے ہیں اپنے ڈائیلاگ میں مؤنث کے صیغے استعمال کرتے ہیں کیا یہ صورت تشبہ  بالنساء  میں داخل ہوکر موجب لعنت ہوگی یا اس عمل کی گنجائش ہے؟

سائل:طلحہ منیر

جواب

حدیث مبارکہ میں لڑکوں کو لڑکیوں کی (صورت،لباس،ھئیت،حرکات وسکنات وغیرہ میں ) مشابہت اختیار کرنے اور لڑکیوں کو لڑکوں کی (صورت،لباس،ھئیت ،حرکات وسکنات وغیرہ میں ) مشابہت اختیار کرنےسے  منع کیا گیا ہے اور مشابہت اختیار کرنے پر لعنت کی وعید آئی ہے۔...

تفصیلات دیکھیں

Banner

ترکہ سے دستبردار ہونے کا شرعی طریقہ

سوال

 ہمارے والد مرحوم نے اپنی زندگی میں اپنی اولادوں کو  ایک ایک پلاٹ مالکانہ حقوق کے ساتھ  دئیے تھے،اور فائل  وغیرہ بھی ان کے نام کی خریدی تھیں اور پھر سب کو فائلیں بھی دے دی تھیں  ،ان میں سے ایک پلاٹ ہماری بہن اور اپنی بیٹی روشن ناز کو دیا تھا ،روشن ناز کا ذہنی توازن کچھ ٹھیک نہیں تھا ،پھر اپنی زندگی وفات سے قبل والد صاحب نے یہ کہا تھا کہ جو پلاٹ میں روشن ناز کو دیا ہے اس کی فائل اب میں اپنے بھتیجے محمد عتیق اللہ کو دینا چاہتا ہوں ،اور یہ بات انہوں نے اپنی اولاد کے سامنے کہی تھی بلکہ اس پلاٹ کی فائل اپنے بیٹے خالد مرحوم (جو ایڈوکیٹ بھی تھے)کو دی تھی کہ اس فائل کو محمد عتیق اللہ کے نام ٹرانسفر کردو لیکن ہمارے والد کی زندگی میں ایسا نہیں ہوسکا ،والد کے انتقال کے بعد بھائی خالد بھی ایسا کرنا چاہتا تھے لیکن پھر اچانک ان کا بھی انتقال ہوگیا ،اب ہم موجودہ ورثاء سب دلی طور پر یہ چاہتے ہیں یہ پلاٹ ہمارے صاحب کی خواہش کے مطابق ہمارے چچازاد بھائی محمد عتیق اللہ کو مل جائے ۔اس کا شرعی حکم  اور طریقہ کار کیا ہوگا ،اس سے آگاہ فرمادیں۔

نوٹ:روشن ناز کابھی انتقال ہوچکا ہے ،روشن ناز غیر شادی شدہ تھیں ،اور ان  کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں ان کے دو بھائی(خالد،طارق)اور دو ہمشیرہ (سلمیٰ زرین،زیبا محمود)حیات تھیں ،اور ہماری  والدہ (شمیمہ بانو) کا انتقال  روشن ناز سے پہلے ہوچکا تھا،روشن ناز کے بعد سلمیٰ زریں کا انتقال ہوا،سلمیٰ زریں بھی غیر شادی شدہ تھیں ،سلمیٰ زریں کے بعد خالد کا انتقال ہوا ۔اور اب ورثاء میں روشن ناز کا بھائی طارق ،ہمشیرہ زیبا محمود اور مرحوم خالد کی اولاد (بیٹا ،بیٹی  جو دونوں بالغ ہیں )اور ان کی بیوہ حیات  ہیں۔اور یہ سب موجودہ ورثاء اپنی خوشی و رغبت سے یہ پلاٹ محمد عتیق اللہ کو دینا چاہتے ہیں ،اس کے بارے میں شرعی حکم سے آگاہ فرمادیں۔

جواب

صورت مسؤلہ میں سائل کے والد مرحوم نے چونکہ مذکورہ پلاٹ اپنی بیٹی روشن ناز کو مالکانہ حقوق کے ساتھ دے دیا تھا ،تو اس  لئے مذکورہ پلاٹ کی مالکہ روشن ناز تھی،اور اب ان کے انتقال کے بعد اس پلاٹ میں ان کےورثا ء(یعنی بھائی طارق،ہمشیرہ زیبا محمود،اور م...

تفصیلات دیکھیں

Banner

تین طلاقوں کے بعد ایک ساتھ رہنے والے زوجین کے ساتھ بائیکاٹ کا حکم

سوال

آپ کی خدمت میں ایک مسئلہ لیکر حاضر ہوا ہوں ،امید ہے کہ شریعت کی روشنی میں تشفی فرمائیں گیں،مسئلہ کچھ یوں ہے کہ میری اہلیہ کا بھتیجا جس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ،بقول اس کے بڑے بھائی کے اس نے اپنے تمام رشتہ داروں کا بذریعہ میسیج آگاہ کیا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے ،اب میرا اور اس کا کوئی واسطہ نہیں رہا اس پر اس کے بڑے بھائی اور اس کا چھوٹا بھائی اور دو کزن ملکر اس کے گھر گئے ،اس کے بڑے بھائی نے اس سے تصدیق چاہی تو اس نے کہا کہ میں نے اس کو طلاق دے دی ہے اور ایک دو دن میں اس کو طلاق نامہ بھیج دوں گا ،اس بات کی تصدیق اس کی بڑی بیٹی نے بھی کی کہ ابا نے امی کو طلاق دےدی ہے ،اس کے بعد ان لوگوں نے اہل الحدیث سے  رجو ع کیا اور یہ اقرار کیا کہ ہم دونوں میں اس سے پہلے تین طلاقیں ہوچکی ہیں یہ دوبارہ طلاق دی ہے اس پر وہاں کے مفتی صاحب نے جواب میں لکھ کر دیا کہ تمہاری صرف دو طلاقیں ہوئی ہیں ،ایک طلاق باقی ہے آپ رجوع کرسکتے ہیں اور اب دونوں ساتھ رہے ہیں ۔اب ہماری راہنمائی فرمائیں کہ ہم لوگ کیا ان سے تعلقات رکھ سکتے ہیں یا قطع تعلقی کرلیں کیونکہ فقہ حنفی کے مطابق وہ گناہ کے مرتکب ہورہے ہیں ۔۔

 

 

جواب

صورت مسؤلہ میں اگر شوہر نے واقعی  اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدی ہیں  تو بیوی اپنے شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے،ساتھ رہنا جائز نہیں ہے ،حلالہ شرعیہ کے بغیر رجوع بھی  نہیں ہوسکتا ،حلالہ شرعیہ کے بغیر بیوی کے ساتھ تعلقات قائم ک...

تفصیلات دیکھیں

Banner

نماز یا خارج نماز میں قرآن پاک کی تلاوت سننے کا حکم

سوال

قرآن پاک کی تلاوت سننا واجب ہے یا مستحب ؟برائے مہربانی حوالے کی ساتھ جواب مطلوب ہے ۔

جواب

نماز کے دوران  امام اگر قرآن کریم کی جہراً (باآواز بلند )تلاوت کررہا ہو تو مقتدیوں پر قرآن کریم کی تلاوت سننا واجب ہے، اور اسی طرح اگر  جمعہ،عیدین یا نکاح  کے خطبہ میں قرآن کریم کی آیت پڑھی جائے تو شرکاء پر قرآن کریم کی تلاوت سننا واجب...

تفصیلات دیکھیں

Banner

شوہر نے تین طلاقیں دے دیں لیکن بیوی نہیں مانتی

سوال

میں نے اپنی سابقہ بیوی کو طلاق دے دی ہے ،لیکن وہ اس طلاق کو مانتی نہیں ہے ،میں نے 3 بار کو اس کو ان الفاظ سے طلاق دی کہ "میں تمہیں  طلاق دیتا ہوں" ۔مجھے طلاق کا سرٹیفکیٹ لینا ہے اس کے لئے شرعی فتوی درکار ہے۔

جواب

صورت مسؤلہ میں اگر سائل نے واقعی اپنی بیوی کو تین مرتبہ ان الفاظ سے طلاق دی ہے کہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"تو سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ،بیوی کے نہ ماننے کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں ،مذکورہ عورت اپنے شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچک...

تفصیلات دیکھیں

Banner

شیعہ کو زکوۃ دینے اور سونے پر وجوب زکوۃ کا حکم

سوال

1۔ایک عورت کے پاس 9 تولہ  سونا ہے جس میں سے 3 تولہ اس نے اپنے پاس رکھا ہے اور 3،3 تولہ اپنی دونوں بیٹیوں کو دے دیا ہے،دونوں لڑکیاں بالغ ہیں۔ اس صورت میں کیا 9 تولہ پر زکوۃ ہوگی یا 3 تولے پر ،جبکہ چاندی بالکل نہیں ہے۔

2۔کیا شیعہ کو زکوۃ دی جاسکتی ہے؟

جواب

1۔صورت مسؤلہ میں اگر مذکورہ خاتون نے 3،3 تولہ اپنی دونوں بیٹیوں کو مالکانہ حقوق وقبضہ کے ساتھ دے دیا ہے تو دونوں بیٹیاں اپنے اپنے سونے کی مالکہ بن چکی ہیں ،اور  سائلہ کی ملکیت میں صرف 3 تولہ سونا رہ چکا ہے ۔اب اگر مذکورہ خاتون اور اس کی دونوں بی...

تفصیلات دیکھیں

Banner

مالکانہ حقوق اور قبضہ دئیے بغیر ہدیہ کا حکم

سوال

محترم مفتی صاحب: مؤدبانہ گزارش ہے کہ میرا ایک وراثت کا مسئلہ ہےجس کے لئے میں بہترین حل چاہتی ہوں شریعت کے مطابق امید ہے کہ آپ میری اس معاملہ میں ضرور مدد فرمائیں گے۔

مسئلہ یہ ہے کہ آج سے پانچ سال پہلے جب میرے والد صاحب شدید علیل تھے۔ اس دوران انہوں نے میری چھوٹی بہن کو بتایا کہ کچھ زیور ہے جو تم بہنوں کا ہے۔ ہم ٹوٹل چار بہنیں ہیں اور ایک بھائی ہے  اور میرے والد صاحب نے ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ میں نے بیٹے کو ان کا حصہ دے دیا ہے۔

اب اس سال تقریبا چار سال بعد میں اور میری چھوٹی بہن نے ایک درس میں سنا کہ اس طرح زبانی کہنے سے بات کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی اور اس سامان کو وراثت کے مطابق تقسیم کرنا ہےاور وہاں پر میری چھوٹی بہن کے علاوہ کوئی اور گواہ بھی موجود نہیں تھا ۔میری چھوٹی بہن کی عمر اس وقت تقریبا 30 سال تھی اب معلوم یہ کرنا ہے ان زیورات کو وراثت کے مطابق تقسیم کرنا چاہئے یا جو والد صاحب نے کہا ہے اس کو مان لینا چاہئے۔

دوسری بات یہ ہے کہ  والد صاحب کا ایک مکان ہے جس میں وہ رہتے تھے۔ اور وہ والد صاحب کے نام پر تھا ۔اور ان کے ساتھ میری والدہ میرا بھائی فیملی کے ساتھ اور ایک  بڑی بہن جن کی شوہر  سے علیحدگی ہو گئی ہے وہ رہتی تھی۔

میرے بھائی نے والد کی زندگی میں ان سے فرمائش کی کہ گھر میرے نام کر دیں باقی مجھے کچھ نہیں چاہئے لیکن والد صاحب نے یہ نہیں کیا بلکہ وہ اس بات سے سخت ناراض ہوئے۔

لیکن ایک دن میری ایک اور تیسری بہن کے سامنے والد صاحب نےیہ بات رکھی تو میری بہن نے یہ مشورہ دیا کہ آپ یہ مکان آدھا بھائی کو دیں اور آدھا بڑی بہن کو دیں کیونکہ بڑی بہن کی ان کے شوہر سے علیحدگی ہوگئی ہے اور بچے بھی شوہر کے ساتھ رہتے ہیں۔ میرے والد یہ بات مان گئے لیکن کوئی کاغذی کاروائی نہیں ہوئی اور اتنے دنوں میں میرے والد صاحب کا  بھی انتقال ہوگیا۔ اب اس گھر میں بھائی اپنی فیملی کے ساتھ اور میری بڑی بہن رہتی ہیں۔کیا اس گھر کا بھی شریعت کے مطابق فیصلہ ہونا چاہئے؟ یہ دونوں باتیں آپ کے سامنے رکھیں ہیں ۔ امید ہے کہ آپ رہنمائی فرمائیں گے۔

ایک اور بات یہ کہ 36 ہزار روپے  چار بہنوں اور ایک بھائی میں کیسے تقسیم ہوگا۔

جواب

1۔صورت مسؤلہ اگر والد نے اپنی زندگی میں  زیورات سے متعلق اپنی  ایک بیٹی کو صرف یہ کہا تھا کہ " میرے پاس کچھ زیور ہے جو تم بہنوں کا ہے"لیکن اپنی زندگی میں  مذکورہ زیورات  اپنی بیٹیوں کو مالکانہ حقوق وقبضہ کے ساتھ نہیں دیئےتھےتو اب...

تفصیلات دیکھیں

Banner

بعض ورثاء کا ترکہ کے مکان میں رہائش اختیار نہ کرنے کی وجہ سے کرایہ کا حق۔والدہ کا نفقہ اولاد پر

سوال

محترم مفتی صاحب!

ہم چھ بہن بھائی ہیں۔ ہمارے والد صاحب کا ایک گھر ہے، جن کا انتقال ہو چکا ہے۔ اس گھر میں اس وقت چار بہن بھائی اپنی والدہ کے ساتھ رہ رہے ہیں، جبکہ دو بھائی باہر رہتے ہیں۔

صورتِ حال درج ذیل ہے:

1. ہماری والدہ بیمار رہتی ہیں اور گھر کے اخراجات میں ہی برداشت کرتا ہوں،

   البتہ ایک بھائی ڈاکٹر کی فیس کا خرچہ اٹھاتا ہے۔

2. گھر میں رہنے والے دیگر بہن بھائیوں میں:

   - ایک بہن ٹیچنگ کر کے کچھ کماتی ہے،

   - ایک بہن ایکسیڈنٹ کی وجہ سے زیرِ علاج ہے،

   - ایک بھائی زیرِ تعلیم ہے۔

3. والدہ کے لیے تقریباً 15,000 روپے کسی ذریعے سے آتے ہیں، مگر مجموعی اخراجات پھر بھی زیادہ ہیں۔

4. گھر کی اوپر والی منزل کو ہم نے دو ماہ سے کرائے پر دیا ہوا ہے، جس کا کرایہ گھر کے اخراجات میں استعمال ہو رہا ہے۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ:

- جو دو بھائی باہر رہتے ہیں، وہ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس گھر سے ان کا کرایہ بنتا ہے، لہٰذا انہیں دیا جائے۔

- ان کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ خود اس گھر میں نہیں رہ رہے، اس لیے ان کا کرایہ بنتا ہے، اور اگر ہم ابھی ماہانہ کرایہ ادا نہیں کرتے تو بعد میں جب گھر فروخت ہوگا تو وہ ہم چاروں بہن بھائیوں (جو اس وقت گھر میں رہ رہے ہیں) سے کرایہ کی رقم وصول کریں گے، یعنی اگر ابھی نہ دیا گیا تو بعد میں ہم سے لے لیں گے۔

ہم نے ان سے  واضح طور پر یہ بھی کہہ دیا ہے کہ گھر فروخت کر کے سب اپنا اپنا حصہ لے لیں تاکہ معاملہ صاف ہو جائے، تاہم اس حوالے سے اب تک ان کی طرف سے کوئی واضح یا حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

اب درج ذیل سوالات کے جوابات درکار ہیں:

1. کیا شرعاً ان دو بھائیوں کا اس گھر میں رہنے والے بہن بھائیوں سے کرایہ (رینٹ) کا مطالبہ درست ہے؟

2. جبکہ گھر کے اخراجات اور والدہ کی دیکھ بھال ہم کر رہے ہیں، تو کیا ان پر بھی مالی تعاون (والدہ کے اخراجات میں حصہ ڈالنا) لازم ہے؟

3. اگر وہ ابھی کرایہ نہیں لیتے، تو کیا بعد میں گھر فروخت ہونے پر وہ ہم چاروں بہن بھائیوں سے کرایہ کی رقم وصول کر سکتے ہیں، جیسا کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر ابھی نہ دیا گیا تو بعد میں ہم سے لے لیا جائے گا؟

4. جب گھر کی فروخت کی بات کی گئی مگر اس پر کوئی واضح پیش رفت نہیں ہوئی، تو کیا پھر بھی ان کا کرایہ بنتا ہے؟

5. ایسی صورت میں ہمارے لیے شرعی طور پر درست اور بہتر حل کیا ہے؟

براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔

جواب

صورت مسؤلہ میں سائل کے والد کا انتقال ہوچکا ہے،اور ترکہ کے گھر میں تمام ورثاء کا شرعا حصہ ہے،لہذا جو ورثاء مذکورہ گھر میں رہائش پذیر ہیں ان پر لازم ہے کہ(جب تک مکان فروخت ہوکر تقسیم نہیں ہوجاتا اس وقت تک) مذکورہ مکان کا مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے کرای...

تفصیلات دیکھیں