مدرسہ عارف العلوم
فتوے
فجر کی نماز کے بعد قضا عمری ادا کرنے کا حکم
سوال
فجر کی نماز باجما عت ادا کر نے کے بعد فجر کے انتہائے وقت سے پہلےقضا ئے عمری کی نماز و نوا فل ادا کرنا درست ہے؟
جواب
تفصیلات دیکھیںاگر بیوی نے دوہزار روپے لئے تو اس کو تین طلاق
سوال
کیا فرماتے ہیں علما دین بیوی اور شوہر کی لڑائی میں اگر شوہر کہے دوہزار دو ورنہ تمھیں تین طلاق ہے اور بیوی ٹال مٹول کے بعد آخر کار بیگ سے نکال کر دینے ہی والی ہو کہ ہاتھ سے چھین کر شوہر لے لے۔پھر کہے اگر بیوی نے یہ لیے یا میں نے دے دیئے تو بھی تین طلاق۔اس کے بعد بیوی کوشش کرے لینے کی مگر شوہر نہ دے ۔پھر دوسرے دن شوہر وہی پیسے میں 100 مزید ملا کر بیوی کے آگے رکھے کہ اٹھالو ہاتھ میں نہ دے لیکن بیوی نہ اٹھائے کہے یہ تو وہی ہیں ۔پھر شوہر اپنے بٹوے سے اپنے دوہزار نکال کر دے کہ مجھے پتہ نہیں چلا چلو اب یہ دوہزار ایک سو رکھ لو لیکن بیوی وہ نہ لے اور کہے کہ بس بچون کو دیں اور شوہر کہے ٹھیک ہے ان کو بازار سے کچھ لے کر دے دینا جب جانا۔اور بیوی پیسے واپس بچوں کو دے۔ ہزار تمھارے ہزار تمھارے ۔اور بچے لے لیں بعد میں بچے ماں کے پاس رکھوالیں۔ تو کیا طلاق واقع ہوجائے گی یا نہیں؟
جواب
تفصیلات دیکھیںٹیبلو میں لڑکوں کا لڑکیوں کا کردار ادا کرنا
سوال
سؤال : کیا فرماتے ہیں علماء کرام کہ بعض اسکولوں میں طلبہ اصلاحی ڈرامے پیش کرتے ہیں یا ٹیبلو پیش کرتے ہیں اور اس میں بعض بچے بچیوں کا کردار نبھاتے ہیں جس کے لیے وہ اپنے سر پر دوپٹہ یا کوئی چادر اوڑھ لیتے ہیں اپنے ڈائیلاگ میں مؤنث کے صیغے استعمال کرتے ہیں کیا یہ صورت تشبہ بالنساء میں داخل ہوکر موجب لعنت ہوگی یا اس عمل کی گنجائش ہے؟
سائل:طلحہ منیر
جواب
تفصیلات دیکھیںترکہ سے دستبردار ہونے کا شرعی طریقہ
سوال
ہمارے والد مرحوم نے اپنی زندگی میں اپنی اولادوں کو ایک ایک پلاٹ مالکانہ حقوق کے ساتھ دئیے تھے،اور فائل وغیرہ بھی ان کے نام کی خریدی تھیں اور پھر سب کو فائلیں بھی دے دی تھیں ،ان میں سے ایک پلاٹ ہماری بہن اور اپنی بیٹی روشن ناز کو دیا تھا ،روشن ناز کا ذہنی توازن کچھ ٹھیک نہیں تھا ،پھر اپنی زندگی وفات سے قبل والد صاحب نے یہ کہا تھا کہ جو پلاٹ میں روشن ناز کو دیا ہے اس کی فائل اب میں اپنے بھتیجے محمد عتیق اللہ کو دینا چاہتا ہوں ،اور یہ بات انہوں نے اپنی اولاد کے سامنے کہی تھی بلکہ اس پلاٹ کی فائل اپنے بیٹے خالد مرحوم (جو ایڈوکیٹ بھی تھے)کو دی تھی کہ اس فائل کو محمد عتیق اللہ کے نام ٹرانسفر کردو لیکن ہمارے والد کی زندگی میں ایسا نہیں ہوسکا ،والد کے انتقال کے بعد بھائی خالد بھی ایسا کرنا چاہتا تھے لیکن پھر اچانک ان کا بھی انتقال ہوگیا ،اب ہم موجودہ ورثاء سب دلی طور پر یہ چاہتے ہیں یہ پلاٹ ہمارے صاحب کی خواہش کے مطابق ہمارے چچازاد بھائی محمد عتیق اللہ کو مل جائے ۔اس کا شرعی حکم اور طریقہ کار کیا ہوگا ،اس سے آگاہ فرمادیں۔
نوٹ:روشن ناز کابھی انتقال ہوچکا ہے ،روشن ناز غیر شادی شدہ تھیں ،اور ان کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں ان کے دو بھائی(خالد،طارق)اور دو ہمشیرہ (سلمیٰ زرین،زیبا محمود)حیات تھیں ،اور ہماری والدہ (شمیمہ بانو) کا انتقال روشن ناز سے پہلے ہوچکا تھا،روشن ناز کے بعد سلمیٰ زریں کا انتقال ہوا،سلمیٰ زریں بھی غیر شادی شدہ تھیں ،سلمیٰ زریں کے بعد خالد کا انتقال ہوا ۔اور اب ورثاء میں روشن ناز کا بھائی طارق ،ہمشیرہ زیبا محمود اور مرحوم خالد کی اولاد (بیٹا ،بیٹی جو دونوں بالغ ہیں )اور ان کی بیوہ حیات ہیں۔اور یہ سب موجودہ ورثاء اپنی خوشی و رغبت سے یہ پلاٹ محمد عتیق اللہ کو دینا چاہتے ہیں ،اس کے بارے میں شرعی حکم سے آگاہ فرمادیں۔
جواب
تفصیلات دیکھیںتین طلاقوں کے بعد ایک ساتھ رہنے والے زوجین کے ساتھ بائیکاٹ کا حکم
سوال
آپ کی خدمت میں ایک مسئلہ لیکر حاضر ہوا ہوں ،امید ہے کہ شریعت کی روشنی میں تشفی فرمائیں گیں،مسئلہ کچھ یوں ہے کہ میری اہلیہ کا بھتیجا جس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ،بقول اس کے بڑے بھائی کے اس نے اپنے تمام رشتہ داروں کا بذریعہ میسیج آگاہ کیا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے ،اب میرا اور اس کا کوئی واسطہ نہیں رہا اس پر اس کے بڑے بھائی اور اس کا چھوٹا بھائی اور دو کزن ملکر اس کے گھر گئے ،اس کے بڑے بھائی نے اس سے تصدیق چاہی تو اس نے کہا کہ میں نے اس کو طلاق دے دی ہے اور ایک دو دن میں اس کو طلاق نامہ بھیج دوں گا ،اس بات کی تصدیق اس کی بڑی بیٹی نے بھی کی کہ ابا نے امی کو طلاق دےدی ہے ،اس کے بعد ان لوگوں نے اہل الحدیث سے رجو ع کیا اور یہ اقرار کیا کہ ہم دونوں میں اس سے پہلے تین طلاقیں ہوچکی ہیں یہ دوبارہ طلاق دی ہے اس پر وہاں کے مفتی صاحب نے جواب میں لکھ کر دیا کہ تمہاری صرف دو طلاقیں ہوئی ہیں ،ایک طلاق باقی ہے آپ رجوع کرسکتے ہیں اور اب دونوں ساتھ رہے ہیں ۔اب ہماری راہنمائی فرمائیں کہ ہم لوگ کیا ان سے تعلقات رکھ سکتے ہیں یا قطع تعلقی کرلیں کیونکہ فقہ حنفی کے مطابق وہ گناہ کے مرتکب ہورہے ہیں ۔۔
جواب
تفصیلات دیکھیںنماز یا خارج نماز میں قرآن پاک کی تلاوت سننے کا حکم
سوال
قرآن پاک کی تلاوت سننا واجب ہے یا مستحب ؟برائے مہربانی حوالے کی ساتھ جواب مطلوب ہے ۔
جواب
تفصیلات دیکھیںشوہر نے تین طلاقیں دے دیں لیکن بیوی نہیں مانتی
سوال
میں نے اپنی سابقہ بیوی کو طلاق دے دی ہے ،لیکن وہ اس طلاق کو مانتی نہیں ہے ،میں نے 3 بار کو اس کو ان الفاظ سے طلاق دی کہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" ۔مجھے طلاق کا سرٹیفکیٹ لینا ہے اس کے لئے شرعی فتوی درکار ہے۔
جواب
تفصیلات دیکھیںشیعہ کو زکوۃ دینے اور سونے پر وجوب زکوۃ کا حکم
سوال
1۔ایک عورت کے پاس 9 تولہ سونا ہے جس میں سے 3 تولہ اس نے اپنے پاس رکھا ہے اور 3،3 تولہ اپنی دونوں بیٹیوں کو دے دیا ہے،دونوں لڑکیاں بالغ ہیں۔ اس صورت میں کیا 9 تولہ پر زکوۃ ہوگی یا 3 تولے پر ،جبکہ چاندی بالکل نہیں ہے۔
2۔کیا شیعہ کو زکوۃ دی جاسکتی ہے؟
جواب
تفصیلات دیکھیںمالکانہ حقوق اور قبضہ دئیے بغیر ہدیہ کا حکم
سوال
محترم مفتی صاحب: مؤدبانہ گزارش ہے کہ میرا ایک وراثت کا مسئلہ ہےجس کے لئے میں بہترین حل چاہتی ہوں شریعت کے مطابق امید ہے کہ آپ میری اس معاملہ میں ضرور مدد فرمائیں گے۔
مسئلہ یہ ہے کہ آج سے پانچ سال پہلے جب میرے والد صاحب شدید علیل تھے۔ اس دوران انہوں نے میری چھوٹی بہن کو بتایا کہ کچھ زیور ہے جو تم بہنوں کا ہے۔ ہم ٹوٹل چار بہنیں ہیں اور ایک بھائی ہے اور میرے والد صاحب نے ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ میں نے بیٹے کو ان کا حصہ دے دیا ہے۔
اب اس سال تقریبا چار سال بعد میں اور میری چھوٹی بہن نے ایک درس میں سنا کہ اس طرح زبانی کہنے سے بات کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی اور اس سامان کو وراثت کے مطابق تقسیم کرنا ہےاور وہاں پر میری چھوٹی بہن کے علاوہ کوئی اور گواہ بھی موجود نہیں تھا ۔میری چھوٹی بہن کی عمر اس وقت تقریبا 30 سال تھی اب معلوم یہ کرنا ہے ان زیورات کو وراثت کے مطابق تقسیم کرنا چاہئے یا جو والد صاحب نے کہا ہے اس کو مان لینا چاہئے۔
دوسری بات یہ ہے کہ والد صاحب کا ایک مکان ہے جس میں وہ رہتے تھے۔ اور وہ والد صاحب کے نام پر تھا ۔اور ان کے ساتھ میری والدہ میرا بھائی فیملی کے ساتھ اور ایک بڑی بہن جن کی شوہر سے علیحدگی ہو گئی ہے وہ رہتی تھی۔
میرے بھائی نے والد کی زندگی میں ان سے فرمائش کی کہ گھر میرے نام کر دیں باقی مجھے کچھ نہیں چاہئے لیکن والد صاحب نے یہ نہیں کیا بلکہ وہ اس بات سے سخت ناراض ہوئے۔
لیکن ایک دن میری ایک اور تیسری بہن کے سامنے والد صاحب نےیہ بات رکھی تو میری بہن نے یہ مشورہ دیا کہ آپ یہ مکان آدھا بھائی کو دیں اور آدھا بڑی بہن کو دیں کیونکہ بڑی بہن کی ان کے شوہر سے علیحدگی ہوگئی ہے اور بچے بھی شوہر کے ساتھ رہتے ہیں۔ میرے والد یہ بات مان گئے لیکن کوئی کاغذی کاروائی نہیں ہوئی اور اتنے دنوں میں میرے والد صاحب کا بھی انتقال ہوگیا۔ اب اس گھر میں بھائی اپنی فیملی کے ساتھ اور میری بڑی بہن رہتی ہیں۔کیا اس گھر کا بھی شریعت کے مطابق فیصلہ ہونا چاہئے؟ یہ دونوں باتیں آپ کے سامنے رکھیں ہیں ۔ امید ہے کہ آپ رہنمائی فرمائیں گے۔
ایک اور بات یہ کہ 36 ہزار روپے چار بہنوں اور ایک بھائی میں کیسے تقسیم ہوگا۔
جواب
تفصیلات دیکھیںبعض ورثاء کا ترکہ کے مکان میں رہائش اختیار نہ کرنے کی وجہ سے کرایہ کا حق۔والدہ کا نفقہ اولاد پر
سوال
محترم مفتی صاحب!
ہم چھ بہن بھائی ہیں۔ ہمارے والد صاحب کا ایک گھر ہے، جن کا انتقال ہو چکا ہے۔ اس گھر میں اس وقت چار بہن بھائی اپنی والدہ کے ساتھ رہ رہے ہیں، جبکہ دو بھائی باہر رہتے ہیں۔
صورتِ حال درج ذیل ہے:
1. ہماری والدہ بیمار رہتی ہیں اور گھر کے اخراجات میں ہی برداشت کرتا ہوں،
البتہ ایک بھائی ڈاکٹر کی فیس کا خرچہ اٹھاتا ہے۔
2. گھر میں رہنے والے دیگر بہن بھائیوں میں:
- ایک بہن ٹیچنگ کر کے کچھ کماتی ہے،
- ایک بہن ایکسیڈنٹ کی وجہ سے زیرِ علاج ہے،
- ایک بھائی زیرِ تعلیم ہے۔
3. والدہ کے لیے تقریباً 15,000 روپے کسی ذریعے سے آتے ہیں، مگر مجموعی اخراجات پھر بھی زیادہ ہیں۔
4. گھر کی اوپر والی منزل کو ہم نے دو ماہ سے کرائے پر دیا ہوا ہے، جس کا کرایہ گھر کے اخراجات میں استعمال ہو رہا ہے۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ:
- جو دو بھائی باہر رہتے ہیں، وہ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس گھر سے ان کا کرایہ بنتا ہے، لہٰذا انہیں دیا جائے۔
- ان کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ خود اس گھر میں نہیں رہ رہے، اس لیے ان کا کرایہ بنتا ہے، اور اگر ہم ابھی ماہانہ کرایہ ادا نہیں کرتے تو بعد میں جب گھر فروخت ہوگا تو وہ ہم چاروں بہن بھائیوں (جو اس وقت گھر میں رہ رہے ہیں) سے کرایہ کی رقم وصول کریں گے، یعنی اگر ابھی نہ دیا گیا تو بعد میں ہم سے لے لیں گے۔
ہم نے ان سے واضح طور پر یہ بھی کہہ دیا ہے کہ گھر فروخت کر کے سب اپنا اپنا حصہ لے لیں تاکہ معاملہ صاف ہو جائے، تاہم اس حوالے سے اب تک ان کی طرف سے کوئی واضح یا حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
اب درج ذیل سوالات کے جوابات درکار ہیں:
1. کیا شرعاً ان دو بھائیوں کا اس گھر میں رہنے والے بہن بھائیوں سے کرایہ (رینٹ) کا مطالبہ درست ہے؟
2. جبکہ گھر کے اخراجات اور والدہ کی دیکھ بھال ہم کر رہے ہیں، تو کیا ان پر بھی مالی تعاون (والدہ کے اخراجات میں حصہ ڈالنا) لازم ہے؟
3. اگر وہ ابھی کرایہ نہیں لیتے، تو کیا بعد میں گھر فروخت ہونے پر وہ ہم چاروں بہن بھائیوں سے کرایہ کی رقم وصول کر سکتے ہیں، جیسا کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر ابھی نہ دیا گیا تو بعد میں ہم سے لے لیا جائے گا؟
4. جب گھر کی فروخت کی بات کی گئی مگر اس پر کوئی واضح پیش رفت نہیں ہوئی، تو کیا پھر بھی ان کا کرایہ بنتا ہے؟
5. ایسی صورت میں ہمارے لیے شرعی طور پر درست اور بہتر حل کیا ہے؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔
جواب
تفصیلات دیکھیں