فتوے
ٹیبلو میں لڑکوں کا لڑکیوں کا کردار ادا کرنا
سوال
سؤال : کیا فرماتے ہیں علماء کرام کہ بعض اسکولوں میں طلبہ اصلاحی ڈرامے پیش کرتے ہیں یا ٹیبلو پیش کرتے ہیں اور اس میں بعض بچے بچیوں کا کردار نبھاتے ہیں جس کے لیے وہ اپنے سر پر دوپٹہ یا کوئی چادر اوڑھ لیتے ہیں اپنے ڈائیلاگ میں مؤنث کے صیغے استعمال کرتے ہیں کیا یہ صورت تشبہ بالنساء میں داخل ہوکر موجب لعنت ہوگی یا اس عمل کی گنجائش ہے؟
سائل:طلحہ منیر
جواب
حدیث مبارکہ میں لڑکوں کو لڑکیوں کی (صورت،لباس،ھئیت،حرکات وسکنات وغیرہ میں ) مشابہت اختیار کرنے اور لڑکیوں کو لڑکوں کی (صورت،لباس،ھئیت ،حرکات وسکنات وغیرہ میں ) مشابہت اختیار کرنےسے منع کیا گیا ہے اور مشابہت اختیار کرنے پر لعنت کی وعید آئی ہے۔
صورت مسؤلہ میں ڈارمے اور ٹیبلو میں بعض لڑکوں کو لڑکیوں کی مشابہت اختیار کرکے ،لڑکیوں کا کردار ادا کرنے میں اگرچہ یہ مشابہت مصنوعی ،اور غیر مقصودی ہے لیکن پھر بھی یہ جائز نہیں ہے ۔اس لئے اس طرح کے ڈارمے اور ٹیبلو پیش کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔
حدیث مبارکہ میں ہے:
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم: «لَعَنَ اللَّهُ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ والمتشبِّهات من النِّسَاء بِالرِّجَالِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
(مشکوۃ المصابیح ،کتاب اللباس ،باب الترجل الفصل الاول 2/1262 رقم 4429 ط المکتب الاسلامی)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
أَيْ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: لَعَنَ اللَّهُ) : يَحْتَمِلُ الْإِخْبَارَ وَالدُّعَاءَ (الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَالْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ) : قَالَ النَّوَوِيُّ: الْمُخَنَّثُ ضَرْبَانِ، أَحَدُهُمَا: مَنْ خُلِقَ كَذَلِكَ وَلَمْ يَتَكَلَّفِ التَّخَلُّقَ بِأَخْلَاقِ النِّسَاءِ وَزِيِّهِنَّ وَكَلَامِهِنَّ وَحَرَكَاتِهِنَّ، وَهَذَا لَا ذَمَّ عَلَيْهِ وَلَا إِثْمَ وَلَا عَيْبَ وَلَا عُقُوبَةَ لِأَنَّهُ مَعْذُورٌ، وَالثَّانِي مِنْ يَتَكَلَّفُ أَخْلَاقَ النِّسَاءِ وَحَرَكَاتِهِنَّ وَسَكَنَاتِهِنَّ وَكَلَامِهِنَّ وَزِيِّهِنَّ، فَهَذَا هُوَ الْمَذْمُومُ الَّذِي جَاءَ فِي الْحَدِيثِ لَعْنُهُ (رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ) : وَكَذَا أَحْمَدُ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ.
(مرقاۃ المفاتیح ،کتاب اللباس ،باب الترجل الفصل الاول 7/2819 رقم 4429 ط دارالفکر بیروت)
دارالافتاء دارالعلوم دیوبند کے فتاویٰ میں ہے:
سوال: مفتی صاحب، ہمارے اسکول میں پندرہ اگست کی مناسبت سے ایک پروگرام ہوا اور اس پروگرام میں ہمارے اساتذہ نے بچوں سے ایک ڈرامہ کروایا ،اس ڈرامہ میں ایک بچے کو یوگی بنایا ،اس کے بال بھی یوگی جیسے ،لباس بھی یوگی جیسا ،اور ماتھے پر ٹکہ بھی لگایا ،اور دیکھنے والے اس کو دیکھ کر ہندو ہی سمجھتے اور اسی طرح کچھ بچوں کو سکھ اور کرسچن بنایا مفتی صاحب اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے کیا ایسا کرنا جائز ہے یا ناجائز ؟وضاحت فرمائیں نیز جن لوگوں نے ایسا کیا اور کروایا ان کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
جواب: اس طرح مسلمان بچے کو کسی غیرمسلم جیسی صورت وشکل بنانا اسی جیسے کپڑے بھی پہننا، یہ بہت برا ہے، اگرچہ مصنوعی ہے، محض ڈرامہ دکھانے کے لیے ہے پھر بھی یہ ناجائز ہے؛ لیکن چونکہ وہ بچہ اس لباس سے نفرت کرتا ہے، یعنی حقیقت میں اس کو برا سمجھتا ہے اس لیے اس کو بدعقیدگی پر محمول کرکے اس پر کفر کا فتوی لاگو نہ ہوگا۔
(ڈرامے میں غیروں كی شكل بنانا؟فتوی نمبر: 154231)
دارالافتاٰء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے فتاوی میں ہے:
صورت مسئولہ میں ڈراموں میں لڑکوں کا زنانہ لباس پہن کر لڑکیوں کا کردار ادا کرنا یا لڑکیوں کا مردانہ لباس پہن کر لڑکے کا کردار نبھانا جائز نہیں، اور یہ عمل تشبہ بالنساء اور تشبہ بالرجال کے قبیل میں سے ہے، جس پر احادیث میں لعنت وارد ہوئی ہے۔
(ڈراموں میں لڑکوں کا لڑکیوں کی مشابہت اختیار کرنا فتویٰ نمبر : 144707101213)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی
20 رجب المرجب 1447ھ/10 جنوری 2026ء
فتویٰ نمبر:514
