فتوے
ترکہ سے دستبردار ہونے کا شرعی طریقہ
سوال
ہمارے والد مرحوم نے اپنی زندگی میں اپنی اولادوں کو ایک ایک پلاٹ مالکانہ حقوق کے ساتھ دئیے تھے،اور فائل وغیرہ بھی ان کے نام کی خریدی تھیں اور پھر سب کو فائلیں بھی دے دی تھیں ،ان میں سے ایک پلاٹ ہماری بہن اور اپنی بیٹی روشن ناز کو دیا تھا ،روشن ناز کا ذہنی توازن کچھ ٹھیک نہیں تھا ،پھر اپنی زندگی وفات سے قبل والد صاحب نے یہ کہا تھا کہ جو پلاٹ میں روشن ناز کو دیا ہے اس کی فائل اب میں اپنے بھتیجے محمد عتیق اللہ کو دینا چاہتا ہوں ،اور یہ بات انہوں نے اپنی اولاد کے سامنے کہی تھی بلکہ اس پلاٹ کی فائل اپنے بیٹے خالد مرحوم (جو ایڈوکیٹ بھی تھے)کو دی تھی کہ اس فائل کو محمد عتیق اللہ کے نام ٹرانسفر کردو لیکن ہمارے والد کی زندگی میں ایسا نہیں ہوسکا ،والد کے انتقال کے بعد بھائی خالد بھی ایسا کرنا چاہتا تھے لیکن پھر اچانک ان کا بھی انتقال ہوگیا ،اب ہم موجودہ ورثاء سب دلی طور پر یہ چاہتے ہیں یہ پلاٹ ہمارے صاحب کی خواہش کے مطابق ہمارے چچازاد بھائی محمد عتیق اللہ کو مل جائے ۔اس کا شرعی حکم اور طریقہ کار کیا ہوگا ،اس سے آگاہ فرمادیں۔
نوٹ:روشن ناز کابھی انتقال ہوچکا ہے ،روشن ناز غیر شادی شدہ تھیں ،اور ان کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں ان کے دو بھائی(خالد،طارق)اور دو ہمشیرہ (سلمیٰ زرین،زیبا محمود)حیات تھیں ،اور ہماری والدہ (شمیمہ بانو) کا انتقال روشن ناز سے پہلے ہوچکا تھا،روشن ناز کے بعد سلمیٰ زریں کا انتقال ہوا،سلمیٰ زریں بھی غیر شادی شدہ تھیں ،سلمیٰ زریں کے بعد خالد کا انتقال ہوا ۔اور اب ورثاء میں روشن ناز کا بھائی طارق ،ہمشیرہ زیبا محمود اور مرحوم خالد کی اولاد (بیٹا ،بیٹی جو دونوں بالغ ہیں )اور ان کی بیوہ حیات ہیں۔اور یہ سب موجودہ ورثاء اپنی خوشی و رغبت سے یہ پلاٹ محمد عتیق اللہ کو دینا چاہتے ہیں ،اس کے بارے میں شرعی حکم سے آگاہ فرمادیں۔
جواب
صورت مسؤلہ میں سائل کے والد مرحوم نے چونکہ مذکورہ پلاٹ اپنی بیٹی روشن ناز کو مالکانہ حقوق کے ساتھ دے دیا تھا ،تو اس لئے مذکورہ پلاٹ کی مالکہ روشن ناز تھی،اور اب ان کے انتقال کے بعد اس پلاٹ میں ان کےورثا ء(یعنی بھائی طارق،ہمشیرہ زیبا محمود،اور مرحوم خالد کی بیوہ اور ان کی اولاد) کا حق ہے۔سائل کے مرحوم والد نے مذکورہ پلاٹ اپنے بھتیجے محمد عتیق اللہ کو دینے کا کہا تھا ،تو اس کی شرعا کوئی حیثیت نہیں ہے ،محض ان کے کہنے سے اب یہ پلاٹ محمد عتیق اللہ کی ملکیت شمار نہ ہوگا،البتہ اگرروشن ناز کے تمام موجودہ ورثاء( یعنی طارق،زیبا محمود،مرحوم خالد کی بیوہ اور ان کی اولاد،اگر وہ بالغ ہوں) اپنی خوشی اور رضامندی سے مذکورہ پلاٹ میں اپنے حق سے دستبردار ہوکر اپنے مرحوم والد کی خواہش کے مطابق محمدعتیق اللہ کو دینے چاہتے ہیں تو اس کا شرعاً طریقہ یہ ہے کہ مذکورہ پلاٹ کی قیمت لگواکر اور اسے تقسیم کرکے ہر وارث کو اس کا حصہ دے دیا جائے ،پھر ہروارث اپنے حصہ پر قبضہ کرکے اپنی خوشی سے وہ حصہ محمد عتیق اللہ کو مالکانہ حقوق و قبضہ کے ساتھ حوالہ کردے،تو اس طرح کرنے سے محمد عتیق اللہ اس پلاٹ کا مالک بن جائے گا۔
جامع الفصولين میں ہے :
لو قال وارث تركت حقي لا يبطل حقه إذ الملك لا يبطل بالترك والحق يبطل به
(الفصل الثامن والعشرون فی مسائل الترکۃ والورثۃ والدین2/40 ط اسلامی کتب خانہ)
الدر المختار میں ہے:
(وَتَتِمُّ) الْهِبَةُ (بِالْقَبْضِ) الْكَامِلِ (وَلَوْ الْمَوْهُوبُ شَاغِلًا لِمِلْكِ الْوَاهِبِ لَا مَشْغُولًا بِهِ) وَالْأَصْلُ أَنَّ الْمَوْهُوبَ إنْ مَشْغُولًا بِمِلْكِ الْوَاهِبِ مُنِعَ تَمَامَهَا،
(کتاب الھبۃ 5/690 ط سعید)
فتاویٰ محمودیہ میں ہے :
محض نہ لینے سے وارث کی ملک مال مورث سے زائل نہیں ہوتی
(کتاب الفرائض 20/238 ط فاروقیہ )
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی
03 رجب المرجب 1447ھ/20 جنوری 2026ء
فتویٰ نمبر:515
