info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

تین طلاقوں کے بعد ایک ساتھ رہنے والے زوجین کے ساتھ بائیکاٹ کا حکم

سوال

آپ کی خدمت میں ایک مسئلہ لیکر حاضر ہوا ہوں ،امید ہے کہ شریعت کی روشنی میں تشفی فرمائیں گیں،مسئلہ کچھ یوں ہے کہ میری اہلیہ کا بھتیجا جس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ،بقول اس کے بڑے بھائی کے اس نے اپنے تمام رشتہ داروں کا بذریعہ میسیج آگاہ کیا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے ،اب میرا اور اس کا کوئی واسطہ نہیں رہا اس پر اس کے بڑے بھائی اور اس کا چھوٹا بھائی اور دو کزن ملکر اس کے گھر گئے ،اس کے بڑے بھائی نے اس سے تصدیق چاہی تو اس نے کہا کہ میں نے اس کو طلاق دے دی ہے اور ایک دو دن میں اس کو طلاق نامہ بھیج دوں گا ،اس بات کی تصدیق اس کی بڑی بیٹی نے بھی کی کہ ابا نے امی کو طلاق دےدی ہے ،اس کے بعد ان لوگوں نے اہل الحدیث سے  رجو ع کیا اور یہ اقرار کیا کہ ہم دونوں میں اس سے پہلے تین طلاقیں ہوچکی ہیں یہ دوبارہ طلاق دی ہے اس پر وہاں کے مفتی صاحب نے جواب میں لکھ کر دیا کہ تمہاری صرف دو طلاقیں ہوئی ہیں ،ایک طلاق باقی ہے آپ رجوع کرسکتے ہیں اور اب دونوں ساتھ رہے ہیں ۔اب ہماری راہنمائی فرمائیں کہ ہم لوگ کیا ان سے تعلقات رکھ سکتے ہیں یا قطع تعلقی کرلیں کیونکہ فقہ حنفی کے مطابق وہ گناہ کے مرتکب ہورہے ہیں ۔۔

 

 

جواب

صورت مسؤلہ میں اگر شوہر نے واقعی  اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدی ہیں  تو بیوی اپنے شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے،ساتھ رہنا جائز نہیں ہے ،حلالہ شرعیہ کے بغیر رجوع بھی  نہیں ہوسکتا ،حلالہ شرعیہ کے بغیر بیوی کے ساتھ تعلقات قائم کرنا اور اس کو ساتھ رکھنا حرام ،ناجائز اور زنا کے حکم میں ہے ۔مذکورہ شخص کے رشتہ داروں پر ضروری ہے کہ اس کو سمجھائیں اور دونوں کے درمیان جدائی کروائیں ،اگر وہ سمجھانے کے باوجود بھی نہیں سمجھتے تو ان کے ساتھ کسی قسم کا تعلق رکھنا جائز نہیں ،یہاں تک وہ توبہ کرکے اپنی سابقہ بیوی کو اپنے سے جدا نہ کرلے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖ١ؕ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ (سورہ الانعام 68)

ترجمہ: اور جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کے بارے میں بیہودہ بکواس کر رہے ہوں تو ان سے الگ ہوجاؤ یہاں تک کہ اور باتوں میں مصروف ہوجائیں۔ اور اگر (یہ بات) شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے پر ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو

حدیث رسول ﷺ میں ہے:

عن عبدِ الله بن مسعودٍ، قال: قال رسولُ الله صلى الله عليه وسلم: "إن أول ما دخل النَّقصُ على بني إسرائيل كان الرجل يَلقَى الرَّجلَ فيقول: يا هذا اتَّقِ اللهَ ودَعْ ما تصنعُ، فإنّه لا يحلُّ لك، ثم يلقاهُ من الغدِ، فلا يمنعُهُ ذلك أن يكون أكِيلَهُ وشَرِيبَهُ وقَعِيدَهُ، فلما فعلوا ذلك ضَرَبَ الله قلوبَ بعضهم ببعض" ثم قال: {لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ} إلى قوله: {فَاسِقُونَ} [المائدة:78 - 81] ثم قال: كلا والله، لتأمرنَّ بالمعروف ولتنهَوُنَ عن المنكَر، ولتأخُذُنَّ على يدَي الظَّالم، ولتأطِرُنَّه على الحق أطراً، ولتقصُرُنَّه على الحقِّ قصراً

(ابوداؤد ،کتاب الملاحم ،باب الامر والنھی 6/391 رقم 4336 ط دار الرسالۃ العالمیۃ)

ترجمہ:نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ بنی اسرائیل میں سب سے پہلا تنزل اس طرح شروع ہوا کہ ایک شخص کسی دوسرے سے ملتا اور کسی ناجائز بات کو کرتے ہوئے دیکھتا تو اس کو منع کرتا کہ دیکھ اللہ سے ڈر ،ایسا نہ کر،لیکن اس کے نہ ماننے پر بھی وہ اپنے تعلقات کی وجہ سے کھانے پینے میں اور نشست وبرخاست میں ویسا ہی برتاؤ کرتا جیسا کہ اس سے پہلے تھا ،جب عام طور پر ایسا ہونے لگا تو اللہ تعالیٰ نے بعضوں کے قلوب کو بعضوں کے ساتھ خلط کردیا (یعنی نافرمانوں کے قلوب جیسے تھے ان کی نحوست سے فرمانبرداروں کے قلوب بھی ویسے ہی کردئیے)پھر اس کی تائید میں کلام پاک کی آیتیں "لعن الذین کفروا"سے "فاسقون" تک پڑھیں ،اس کے بعد حضورﷺ نے بڑی تاکید سے یہ حکم فرمایا کہ امر بالمروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو،ظالم کو ظلم سے روکتے رہو اور اس کو حق بات کی طرف کھینچ کر لاتے رہو۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز.

(کتاب الطلاق الباب السادس1/473 ط رشیدیہ)

دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ کے فتاویٰ میں ہے:

صورتِ مسئولہ میں آپ کے ہم سائے  نے اگر واقعتًا اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں تو  دونوں ایک دوسرے کے لیے حرام ہو گئے، ساتھ رہنا قطعاً جائز نہیں،  نہ رجوع کی اجازت تھی، نہ ہی تجدیدِ نکاح جائز تھا۔

اسی حالت میں بیوی کو ساتھ رکھنا اور  آپس میں تعلق قائم کرنا حرام اور زنا کے حکم میں ہے؛ لہذا اس کے متعلقین کی ذمہ داری ہے کہ وہ  اسے سمجھا کر سابقہ بیوی سے جدا کرنے کی پوری کوشش کریں، اور اگر مذکورہ شخص اپنی سابقہ بیوی سے الگ نہیں ہوتا  تو اس کے رشتہ داروں اور اہلِ محلہ کو چاہیے کہ اس سے معاشرتی بائیکاٹ رکھیں؛ تا وقتیکہ  وہ تائب  ہو کر اپنی سابقہ بیوی کو اپنے سے جدا نہ کر لے۔

(تین طلاق کے بعد ساتھ رہنے والے کے ساتھ تعلقات رکھنا،فتویٰ نمبر : 144207200575)

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

                                                                                                      دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی

                                                                                               13 شعبان المعظم 1447ھ/2فروری 2026ء

                                                                                                            فتویٰ نمبر:516