info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

شیعہ کو زکوۃ دینے اور سونے پر وجوب زکوۃ کا حکم

سوال

1۔ایک عورت کے پاس 9 تولہ  سونا ہے جس میں سے 3 تولہ اس نے اپنے پاس رکھا ہے اور 3،3 تولہ اپنی دونوں بیٹیوں کو دے دیا ہے،دونوں لڑکیاں بالغ ہیں۔ اس صورت میں کیا 9 تولہ پر زکوۃ ہوگی یا 3 تولے پر ،جبکہ چاندی بالکل نہیں ہے۔

2۔کیا شیعہ کو زکوۃ دی جاسکتی ہے؟

جواب

1۔صورت مسؤلہ میں اگر مذکورہ خاتون نے 3،3 تولہ اپنی دونوں بیٹیوں کو مالکانہ حقوق وقبضہ کے ساتھ دے دیا ہے تو دونوں بیٹیاں اپنے اپنے سونے کی مالکہ بن چکی ہیں ،اور  سائلہ کی ملکیت میں صرف 3 تولہ سونا رہ چکا ہے ۔اب اگر مذکورہ خاتون اور اس کی دونوں بیٹیوں کے پاس سونے کے علاوہ چاندی ،مال تجارت یا نقدی ( چاہے معمولی سے رقم ہی کیوں نہ ہو)میں سے کچھ  موجود ہے،تو سونے اور دیگر اموال زکوۃ کی قیمت لگوائی  جائے گی ،اگر سونے کی قیمت  اور دیگر اموال زکوۃ کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر پہنچ گی تو خاتون اور اس کی دونوں بیٹیوں پر زکوۃ واجب ہوگی ،اور اگر ان کی ملکیت میں سونے  کےعلاوہ کوئی چیز نہیں ہے  یا دیگر چیزیں موجود ہیں لیکن ان کی مجموعی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر نہیں پہنچتی تو اس پر زکوۃ واجب نہیں ۔

2۔زکوۃ کے لئے مسلمان ہونا ضروری ہے،غیر مسلم کو زکوۃ دینا شرعا جائز نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

(نِصَابُ الذَّهَبِ عِشْرُونَ مِثْقَالًا وَالْفِضَّةِ مِائَتَا دِرْهَمٍ كُلُّ عَشْرَةِ) دَرَاهِمَ (وَزْنُ سَبْعَةِ مَثَاقِيلَ)

(قَوْلُهُ: عِشْرُونَ مِثْقَالًا) فَمَا دُونَ ذَلِكَ لَا زَكَاةَ فِيهِ وَلَوْ كَانَ نُقْصَانًا يَسِيرًا يَدْخُلُ بَيْنَ الْوَزْنَيْنِ؛ لِأَنَّهُ وَقَعَ الشَّكُّ فِي كَمَالِ النِّصَابِ فَلَا حُكْمَ بِكَمَالِهِ مَعَ الشَّكِّ بَحْرٌ عَنْ الْبَدَائِعِ

(کتاب الزکوۃ ،باب زکوۃ المال 2/295 ط سعید)

وَ) يُضَمُّ (الذَّهَبُ إلَى الْفِضَّةِ) وَعَكْسُهُ بِجَامِعِ الثَّمَنِيَّةِ (قِيمَةً)

(قَوْلُهُ وَيَضُمُّ إلَخْ) أَيْ عِنْدَ الِاجْتِمَاعِ. أَمَّا عِنْدَ انْفِرَادِ أَحَدِهِمَا فَلَا تُعْتَبَرُ الْقِيمَةُ إجْمَاعًا بَدَائِعُ؛ لِأَنَّ الْمُعْتَبَرَ وَزْنُهُ أَدَاءً وَوُجُوبًا كَمَا مَرَّ. وَفِي الْبَدَائِعِ أَيْضًا أَنَّ مَا ذُكِرَ مِنْ وُجُوبِ الضَّمِّ إذَا لَمْ يَكُنْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا نِصَابًا بِأَنْ كَانَ أَقَلَّ، فَلَوْ كَانَ كُلٌّ مِنْهَا نِصَابًا تَامًّا بِدُونِ زِيَادَةٍ لَا يَجِبُ الضَّمُّ بَلْ يَنْبَغِي أَنْ يُؤَدِّيَ مِنْ كُلِّ وَاحِدٍ زَكَاتَهُ، فَلَوْ ضَمَّ حَتَّى يُؤَدِّيَ كُلَّهُ مِنْ الذَّهَبِ أَوْ الْفِضَّةِ فَلَا بَأْسَ بِهِ عِنْدَنَا، وَلَكِنْ يَجِبُ أَنْ يَكُونَ التَّقْوِيمُ بِمَا هُوَ أَنْفَعُ لِلْفُقَرَاءِ رَوَاجًا وَإِلَّا يُؤَدِّ مِنْ كُلٍّ مِنْهُمَا رُبُعَ عُشْرِهِ

(کتاب الزکوۃ ،باب زکوۃ المال 2/303 ط سعید)

فتاوی شامی میں ہے :

وَبِهَذَا ظَهَرَ أَنَّ الرَّافِضِيَّ إنْ كَانَ مِمَّنْ يَعْتَقِدُ الْأُلُوهِيَّةَ فِي عَلِيٍّ، أَوْ أَنَّ جِبْرِيلَ غَلِطَ فِي الْوَحْيِ، أَوْ كَانَ يُنْكِرُ صُحْبَةَ الصِّدِّيقِ، أَوْ يَقْذِفُ السَّيِّدَةَ الصِّدِّيقَةَ فَهُوَ كَافِرٌ لِمُخَالَفَتِهِ الْقَوَاطِعَ الْمَعْلُومَةَ مِنْ الدِّينِ بِالضَّرُورَةِ

(کتاب النکاح باب المحرمات 3/46 ط سعید )

فتاوی ہندیہ میں ہے :

الرَّافِضِيُّ إذَا كَانَ يَسُبُّ الشَّيْخَيْنِ وَيَلْعَنُهُمَا وَالْعِيَاذُ بِاَللَّهِ، فَهُوَ كَافِرٌ، وَإِنْ كَانَ يُفَضِّلُ عَلِيًّا كَرَّمَ اللَّهُ تَعَالَى وَجْهَهُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ - لَا يَكُونُ كَافِرًا إلَّا أَنَّهُ مُبْتَدِعٌ وَالْمُعْتَزِلِيُّ مُبْتَدِعٌ إلَّا إذَا قَالَ بِاسْتِحَالَةِ الرُّؤْيَةِ، فَحِينَئِذٍ هُوَ كَافِرٌ كَذَا فِي الْخُلَاصَةِ.

وَلَوْ قَذَفَ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا - بِالزِّنَا كَفَرَ بِاَللَّهِ، وَلَوْ قَذَفَ سَائِرَ نِسْوَةِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَكْفُرُ وَيَسْتَحِقُّ اللَّعْنَةَ، وَلَوْ قَالَ عُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - لَمْ يَكُونُوا أَصْحَابًا لَا يَكْفُرُ وَيَسْتَحِقُّ اللَّعْنَةَ كَذَا فِي خِزَانَةِ الْفِقْهِ

مَنْ أَنْكَرَ إمَامَةَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -، فَهُوَ كَافِرٌ، وَعَلَى قَوْلِ بَعْضِهِمْ هُوَ مُبْتَدِعٌ وَلَيْسَ بِكَافِرٍ وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ كَافِرٌ، وَكَذَلِكَ مَنْ أَنْكَرَ خِلَافَةَ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فِي أَصَحِّ الْأَقْوَالِ كَذَا فِي الظَّهِيرِيَّةِ.

وَيَجِبُ إكْفَارُهُمْ بِإِكْفَارِ عُثْمَانَ وَعَلِيٍّ وَطَلْحَةَ وَزُبَيْرٍ وَعَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ - وَيَجِبُ إكْفَارُ الزَّيْدِيَّةِ كُلِّهِمْ فِي قَوْلِهِمْ انْتِظَارَ نَبِيٍّ مِنْ الْعَجَمِ يَنْسَخُ دِينَ نَبِيِّنَا وَسَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَذَا فِي الْوَجِيزِ لِلْكَرْدَرِيِّ

(کتاب السیر ،الباب التاسع فی احکام المرتدین 2/264 ط رشیدیہ)

فتاوی شامی میں ہے:

(هِيَ) لُغَةً الطَّهَارَةُ وَالنَّمَاءُ، وَشَرْعًا (تَمْلِيكٌ)۔۔۔۔۔۔۔ (مِنْ مُسْلِمٍ فَقِيرٍ) وَلَوْ مَعْتُوهًا (غَيْرِ هَاشِمِيٍّ وَلَا مَوْلَاهُ)

(کتاب الزکوۃ 2/256،258 ط سعید)

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

                                                                                                      دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی

                                                                                               15 شوال المکرم 1447ھ/4اپریل 2026ء

                                               فتویٰ نمبر:518