info@bismillah.com +(00) 123-345-11

مدرسہ عارف العلوم

فتوے

Banner

کسی کو بلاوجہ کافر کہنا

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ میرے ایک استاد ایک اسلامی سیاسی جماعت میں ایک عہدے پر فائز تھے، اور ان کے بعد میں بھی اسی عہدے پر آیا۔ وہ ایک کفریہ عقیدہ رکھتے تھے۔ان کی وفات کے بعد میں نے اس عقیدے کی تردید سب کے سامنے کی، لیکن میں نے ان کا نام لے کر یہ نہیں کہا کہ میرے استاد کا عقیدہ غلط تھا، بلکہ عمومی طور پر اس عقیدے کو رد کیا۔اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت میں مجھ پر بھی کفر کا فتویٰ لگ سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

صورت مسؤلہ میں سائل نے جب اپنے پیش رُو کے کفریہ عقیدہ سے براءت کا اظہار سب کے سامنے کیا ہے ،اور مذکورہ کفریہ عقیدہ کے علاوہ بھی سائل  کسی کفریہ عقیدہ کا معتقد نہیں ہے بلکہ اس کے عقائد اہل سنت والجماعت کے عقائد کے موافق ہیں ،تو اس پر کفر کا فتوی...

تفصیلات دیکھیں

Banner

پرندوں کو دانہ،بلی،کوا کو گوشت کھلانے کا حکم

سوال

چوراہوں میں پرندوں کو دانہ پانی ڈالنا کیسا ہے ؟اس پر ثواب ملتاہے یا نہیں ؟نیز کوا ،بلی،کتے  کو پھیپڑے  وغیرہ ڈالنا کیسا ہے؟

جواب

چوراہوں پر پرندوں کو دانہ پانی ڈالنا ،یاکوا ،بلی ،کتے وغیرہ کو گوشت اورپھیپڑے  ڈالنا  جائز ہے اور کار ثواب ہے لیکن قرآن وحدیث صدقہ و خیرات اور اس کے اجر و ثواب کو جو ذکر ہے وہ انسانوں کے لئے ہے۔نیز واجبی صدقات مثلا زکوۃ ،کفارہ ،صدقہ فطر وغی...

تفصیلات دیکھیں

Banner

سالگرہ منانا اور اس کی دعوت میں شرکت کا شرعی حکم

سوال

سالگرہ منانا اور سالگرہ کی دعوت میں شرکت کرنا کیسا ہے ؟

جواب

سالگرہ منانا  غیر مسلموں کا طریقہ ہے ،دین اسلام میں اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے ،اس لئے سالگرہ منانا یا سالگرہ کی دعوت میں شرکت کرنا شرعا جائز نہیں ہے ۔ حدیث شریف میں ہے : عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَ...

تفصیلات دیکھیں

Banner

ترکہ سے متعلق چند سؤالات

سوال

بخدمت جناب مفتی صاحب دامت برکاتہم 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

موضوع: والد مرحوم کے ترکہ، والدہ کے مہر، کے متعلق شرعی رہنمائی

بنیادی عرض:

والد مرحوم کے ترکہ کی تقسیم، والدہ کے مہر کی ادائیگی  کے متعلق شرعی رہنمائی درکار ہے۔_

والد صاحب کا انتقال تقریباً _12 سال قبل ہوا۔ ورثاء میں والدہ اور 6 بہن بھائی ہیں: 4 بھائی، 2 بہنیں۔ 2 بھائی شادی شدہ الگ رہائش پذیر ہیں۔

والدہ تقریباً 21-22 سال سے نفسیاتی عارضے میں مبتلا ہیں۔

حصہ اول: _ جائیداد اور والدہ کے مہر کی صورت

والد صاحب کے ترکہ میں ایک دو منزل مکان ہے جو انہوں نے اپنی زندگی میں خریدا تھا۔

 مکان خریدتے وقت والد صاحب نے والدہ کا 5 تولہ سونا جو والدہ کا مہر تھا، فروخت کر کے اس کی رقم مکان کی قیمت میں شامل کی تھی۔

 والد صاحب اپنی زندگی میں فرماتے تھے کہ "اس گھر میں تمہاری والدہ کا مہر ہے، والدہ کو جب مہر لینا ہو تو گھر بیچ کر لے لینا"۔ اس بات کے گواہ موجود ہیں۔

 اس وقت والدہ کے ہمراہ ہم 4 بہن بھائی غیر شادی شدہ کی مستقل رہائش اسی مکان میں ہے۔

_ حصہ دوم:_ موجودہ صورتحال  _

فی الوقت والدہ محترمہ کی ذہنی و جسمانی حالت اور ان کی یہ مستقل رہائش کے پیشِ نظر مکان کے فروخت پر رضامندی تاحال حاصل نہیں ہو سکی۔

حصہ سوم: دریافت طلب امور

سوال نمبر 1: 

والدہ کے مہر کا 5 تولہ سونا جو والد صاحب نے مکان میں لگایا اور خود اقرار کیا، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ والدہ کا قرض ہے جو ترکہ کی تقسیم سے قبل ادا کرنا لازم ہے؟                                         

سوال نمبر 2: 

والدہ محترمہ مذکورہ نفسیاتی عارضے یعنی ڈپریشن میں مبتلا ہیں، جس کے لیے ان کی مستقل دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے اور مستقل دوا کا استعمال جاری ہے۔ ان حالات کے پیشِ نظر وراثتی مکان کو فروخت کرنا شرعاً کیسا ہے؟ کیا والدہ کی اس حالت میں انہیں ان کی موجودہ رہائش سے محروم کرنا جائز ہوگا یا ورثاء پر لازم ہے کہ پہلے ان کی رضامندی اور پهر مستقل رہائش کا مناسب انتظام کریں؟  

_سوال نمبر 3: _

مکان کے فروخت کے بعد والدہ کے حصے کی رقم یعنی مہر اور وراثت کا 1/8 حصہ کے بارے میں شریعت کی رو سے سب سے بہتر اور شفاف صورت کیا ہوگی تاکہ مستقبل میں کسی غلط فہمی یا تنازع کی گنجائش نہ رہے؟ کیا یہ جائز ہوگا کہ والدہ کی یہ رقم تمام بہن بھائیوں میں تقسیم کر دی جائے اور سب کو پابند کیا جائے کہ والدہ کی کفالت، علاج اور دیکھ بھال کی ذمہ داری ہمیشہ سب پر رہے گی؟ اگر یہ صورت درست ہو تو مکان کی فروخت کے بعد کل رقم کی تقسیم کا شرعی طریقہ اور ترتیب کیا ہوگی؟؟

جواب

1۔صورت مسؤلہ میں اگر واقعی سائل کے والد مرحوم نے اپنی اہلیہ  کا سونا بطور قرض ان سے لیکر  مکان کی تعمیر میں خرچ کیا تھا تو ترکہ کی تقسیم سے قبل یہ ان کا قرضہ ہے جو ان کو ادا کیا جائے گا۔ 2۔ والد مرحوم کے مذکورہ مکان  میں  ان کےتم...

تفصیلات دیکھیں

Banner

کسی کو بلا دلیل قادیانی کہنے کا حکم

سوال

ایک خاندان علی الاعلان پرنٹ میڈیا ،الیکٹرانک میڈیا،اور شوشل میڈیا پر انفرادی واجتماعی ،تحریری وزبانی یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم حضرت محمد  مصطفیﷺ پر جوحضرت عبداللہ کے گھر مکہ مکرمہ میں حضرت بی بی آمنہ کے بطن سے پیدا ہوئے ،مکہ مکرمہ میں 13 سال اور مدینہ منورہ میں 10 سال نبوت کی زندگی گذاری ،جو حضرت خدیجۃ الکبریٰ،حضرت عائشہ اور دیگر ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے شوہر ہیں کو آخری نبی مانتے ہیں ،آپ ﷺ کی زندگی میں یا آپ ﷺ کی رحلت کے بعد جو بھی جس نام سے نبوت کا دعویٰ کرچکا ہے،اس کو کاذب ،دجال ،کافراورمرتد مانتے ہیں ،قادیانی ،احمدی اور لاہوریوں کو دائرہ اسلام سے خارج ،مرتد اور دجال سمجھتے ہیں ۔

مگر اس کے باوجود بھی بعض لوگ اس خاندان کوقادیانی کہتے ہیں ،یہ خاندان ایک شہر میں آباد ہے اور تقریبا 50 سال کا عرصہ اس شہر ہی میں گذار چکے ہیں ،کسی ایک فرد کو بھی انہوں نے اس قسم کی کوئی دعوت نہیں دی ،ختم نبوت کے لئے ہر وقت جان ومال سے تیار ہیں ،سید خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ،سلسلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ،پیری فقیری کی زندگی گذارتے ہیں ،اہل سنت والجماعت مسلک حنفی کے پیروکار ہیں ۔

اب سؤال یہ ہے کہ ان کو قادیانی کہنا قرآن وسنہ کی روشنی میں کیا صحیح ہے؟اگر نہیں تو جو لوگ ان کو قادیانی کہتے ہیں ان کے لئے کیا حکم ہے؟

جواب

اگر کوئی شخص دین اسلام کے تمام عقائدبشمول عقیدہ ختم نبوت کا زبان سے اقرار  اور دل سے  تصدیق کرتا ہے،اور دین اسلام کے کسی بھی عقیدہ کے نہ ماننے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہے۔مثلاقادیانیوں ،لاہوریوں کو کافر ،مرتد اور دائرہ اسلام سے خ...

تفصیلات دیکھیں