مدرسہ عارف العلوم
فتوے
کسی کو بلاوجہ کافر کہنا
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ میرے ایک استاد ایک اسلامی سیاسی جماعت میں ایک عہدے پر فائز تھے، اور ان کے بعد میں بھی اسی عہدے پر آیا۔ وہ ایک کفریہ عقیدہ رکھتے تھے۔ان کی وفات کے بعد میں نے اس عقیدے کی تردید سب کے سامنے کی، لیکن میں نے ان کا نام لے کر یہ نہیں کہا کہ میرے استاد کا عقیدہ غلط تھا، بلکہ عمومی طور پر اس عقیدے کو رد کیا۔اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت میں مجھ پر بھی کفر کا فتویٰ لگ سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
تفصیلات دیکھیںپرندوں کو دانہ،بلی،کوا کو گوشت کھلانے کا حکم
سوال
چوراہوں میں پرندوں کو دانہ پانی ڈالنا کیسا ہے ؟اس پر ثواب ملتاہے یا نہیں ؟نیز کوا ،بلی،کتے کو پھیپڑے وغیرہ ڈالنا کیسا ہے؟
جواب
تفصیلات دیکھیںسالگرہ منانا اور اس کی دعوت میں شرکت کا شرعی حکم
ترکہ سے متعلق چند سؤالات
سوال
بخدمت جناب مفتی صاحب دامت برکاتہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
موضوع: والد مرحوم کے ترکہ، والدہ کے مہر، کے متعلق شرعی رہنمائی
بنیادی عرض:
والد مرحوم کے ترکہ کی تقسیم، والدہ کے مہر کی ادائیگی کے متعلق شرعی رہنمائی درکار ہے۔_
والد صاحب کا انتقال تقریباً _12 سال قبل ہوا۔ ورثاء میں والدہ اور 6 بہن بھائی ہیں: 4 بھائی، 2 بہنیں۔ 2 بھائی شادی شدہ الگ رہائش پذیر ہیں۔
والدہ تقریباً 21-22 سال سے نفسیاتی عارضے میں مبتلا ہیں۔
حصہ اول: _ جائیداد اور والدہ کے مہر کی صورت
والد صاحب کے ترکہ میں ایک دو منزل مکان ہے جو انہوں نے اپنی زندگی میں خریدا تھا۔
مکان خریدتے وقت والد صاحب نے والدہ کا 5 تولہ سونا جو والدہ کا مہر تھا، فروخت کر کے اس کی رقم مکان کی قیمت میں شامل کی تھی۔
والد صاحب اپنی زندگی میں فرماتے تھے کہ "اس گھر میں تمہاری والدہ کا مہر ہے، والدہ کو جب مہر لینا ہو تو گھر بیچ کر لے لینا"۔ اس بات کے گواہ موجود ہیں۔
اس وقت والدہ کے ہمراہ ہم 4 بہن بھائی غیر شادی شدہ کی مستقل رہائش اسی مکان میں ہے۔
_ حصہ دوم:_ موجودہ صورتحال _
فی الوقت والدہ محترمہ کی ذہنی و جسمانی حالت اور ان کی یہ مستقل رہائش کے پیشِ نظر مکان کے فروخت پر رضامندی تاحال حاصل نہیں ہو سکی۔
حصہ سوم: دریافت طلب امور
سوال نمبر 1:
والدہ کے مہر کا 5 تولہ سونا جو والد صاحب نے مکان میں لگایا اور خود اقرار کیا، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ والدہ کا قرض ہے جو ترکہ کی تقسیم سے قبل ادا کرنا لازم ہے؟
سوال نمبر 2:
والدہ محترمہ مذکورہ نفسیاتی عارضے یعنی ڈپریشن میں مبتلا ہیں، جس کے لیے ان کی مستقل دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے اور مستقل دوا کا استعمال جاری ہے۔ ان حالات کے پیشِ نظر وراثتی مکان کو فروخت کرنا شرعاً کیسا ہے؟ کیا والدہ کی اس حالت میں انہیں ان کی موجودہ رہائش سے محروم کرنا جائز ہوگا یا ورثاء پر لازم ہے کہ پہلے ان کی رضامندی اور پهر مستقل رہائش کا مناسب انتظام کریں؟
_سوال نمبر 3: _
مکان کے فروخت کے بعد والدہ کے حصے کی رقم یعنی مہر اور وراثت کا 1/8 حصہ کے بارے میں شریعت کی رو سے سب سے بہتر اور شفاف صورت کیا ہوگی تاکہ مستقبل میں کسی غلط فہمی یا تنازع کی گنجائش نہ رہے؟ کیا یہ جائز ہوگا کہ والدہ کی یہ رقم تمام بہن بھائیوں میں تقسیم کر دی جائے اور سب کو پابند کیا جائے کہ والدہ کی کفالت، علاج اور دیکھ بھال کی ذمہ داری ہمیشہ سب پر رہے گی؟ اگر یہ صورت درست ہو تو مکان کی فروخت کے بعد کل رقم کی تقسیم کا شرعی طریقہ اور ترتیب کیا ہوگی؟؟
جواب
تفصیلات دیکھیںکسی کو بلا دلیل قادیانی کہنے کا حکم
سوال
ایک خاندان علی الاعلان پرنٹ میڈیا ،الیکٹرانک میڈیا،اور شوشل میڈیا پر انفرادی واجتماعی ،تحریری وزبانی یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم حضرت محمد مصطفیﷺ پر جوحضرت عبداللہ کے گھر مکہ مکرمہ میں حضرت بی بی آمنہ کے بطن سے پیدا ہوئے ،مکہ مکرمہ میں 13 سال اور مدینہ منورہ میں 10 سال نبوت کی زندگی گذاری ،جو حضرت خدیجۃ الکبریٰ،حضرت عائشہ اور دیگر ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے شوہر ہیں کو آخری نبی مانتے ہیں ،آپ ﷺ کی زندگی میں یا آپ ﷺ کی رحلت کے بعد جو بھی جس نام سے نبوت کا دعویٰ کرچکا ہے،اس کو کاذب ،دجال ،کافراورمرتد مانتے ہیں ،قادیانی ،احمدی اور لاہوریوں کو دائرہ اسلام سے خارج ،مرتد اور دجال سمجھتے ہیں ۔
مگر اس کے باوجود بھی بعض لوگ اس خاندان کوقادیانی کہتے ہیں ،یہ خاندان ایک شہر میں آباد ہے اور تقریبا 50 سال کا عرصہ اس شہر ہی میں گذار چکے ہیں ،کسی ایک فرد کو بھی انہوں نے اس قسم کی کوئی دعوت نہیں دی ،ختم نبوت کے لئے ہر وقت جان ومال سے تیار ہیں ،سید خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ،سلسلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ،پیری فقیری کی زندگی گذارتے ہیں ،اہل سنت والجماعت مسلک حنفی کے پیروکار ہیں ۔
اب سؤال یہ ہے کہ ان کو قادیانی کہنا قرآن وسنہ کی روشنی میں کیا صحیح ہے؟اگر نہیں تو جو لوگ ان کو قادیانی کہتے ہیں ان کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب
تفصیلات دیکھیں