فتوے
سالگرہ منانا اور اس کی دعوت میں شرکت کا شرعی حکم
سوال
سالگرہ منانا اور سالگرہ کی دعوت میں شرکت کرنا کیسا ہے ؟
جواب
سالگرہ منانا غیر مسلموں کا طریقہ ہے ،دین اسلام میں اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے ،اس لئے سالگرہ منانا یا سالگرہ کی دعوت میں شرکت کرنا شرعا جائز نہیں ہے ۔
حدیث شریف میں ہے :
عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ»
(كتاب اللباس ،باب لبس الشھرۃ 4/44 رقم الحدیث 4031 المکتبہ العصریہ بیروت )
ترجمہ :جو شخص جس قوم سے مشابہت اختیار کرے گا اس کا شمار اسی قوم سے ہوگا۔
کتاب النوازل میں ہے :
سال گرہ منانے کی شریعت میں کوئی اَصل نہیں ہے، یہ کوئی خوشی کا موقع بھی نہیں ہے؛ اِس لئے کہ انسان کی جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے، ویسے ویسے وہ موت کے قریب ہوتا جاتا ہے؛ لہٰذا اِس پر خوشی منانے کا کیا مطلب ہے؟
(کتاب الحظر والاباحۃ ،باب البدعات والرسومات 17/244 ط المرکز لعلمی لال باغ مراد آباد )
فتاوی محمودیہ میں ہے :
سالگرہ (پیدائش سے سال بھر پورا ہونے پر تقریب اور خوشی منانا )یہ اسلامی تعلیم نہیں غیروں کا طریقہ ہے ،اس سے پرہیز چاہئے ۔
(کتاب الایمان والعقائد ،باب البدعات والرسوم 3/179 ط فاروقیہ )
فتاوی رحیمیہ میں ہے :
رسم سالگرہ یہ خالص غیر اقوام کا طریقہ اور انہی کی رسم ہے ، مسلمانوں پر لازم ہے کہ مذکورہ طریقہ سے اجتناب کریں ورنہ اس کی نحوست سے ایمان خطرے میں پڑنے کا اندیشہ ہے ۔
(کتاب الایمان والعقائد 1/194 ط دارا لاشاعت )
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب دارالافتاء مدرسہ عارف العلوم کراچی
17اکتوبر 2020 ء/29صفر المظفر 1442 ھ
فتویٰ نمبر:116
