فتوے
کسی کو بلا دلیل قادیانی کہنے کا حکم
سوال
ایک خاندان علی الاعلان پرنٹ میڈیا ،الیکٹرانک میڈیا،اور شوشل میڈیا پر انفرادی واجتماعی ،تحریری وزبانی یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم حضرت محمد مصطفیﷺ پر جوحضرت عبداللہ کے گھر مکہ مکرمہ میں حضرت بی بی آمنہ کے بطن سے پیدا ہوئے ،مکہ مکرمہ میں 13 سال اور مدینہ منورہ میں 10 سال نبوت کی زندگی گذاری ،جو حضرت خدیجۃ الکبریٰ،حضرت عائشہ اور دیگر ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے شوہر ہیں کو آخری نبی مانتے ہیں ،آپ ﷺ کی زندگی میں یا آپ ﷺ کی رحلت کے بعد جو بھی جس نام سے نبوت کا دعویٰ کرچکا ہے،اس کو کاذب ،دجال ،کافراورمرتد مانتے ہیں ،قادیانی ،احمدی اور لاہوریوں کو دائرہ اسلام سے خارج ،مرتد اور دجال سمجھتے ہیں ۔
مگر اس کے باوجود بھی بعض لوگ اس خاندان کوقادیانی کہتے ہیں ،یہ خاندان ایک شہر میں آباد ہے اور تقریبا 50 سال کا عرصہ اس شہر ہی میں گذار چکے ہیں ،کسی ایک فرد کو بھی انہوں نے اس قسم کی کوئی دعوت نہیں دی ،ختم نبوت کے لئے ہر وقت جان ومال سے تیار ہیں ،سید خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ،سلسلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے ،پیری فقیری کی زندگی گذارتے ہیں ،اہل سنت والجماعت مسلک حنفی کے پیروکار ہیں ۔
اب سؤال یہ ہے کہ ان کو قادیانی کہنا قرآن وسنہ کی روشنی میں کیا صحیح ہے؟اگر نہیں تو جو لوگ ان کو قادیانی کہتے ہیں ان کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب
اگر کوئی شخص دین اسلام کے تمام عقائدبشمول عقیدہ ختم نبوت کا زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کرتا ہے،اور دین اسلام کے کسی بھی عقیدہ کے نہ ماننے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہے۔مثلاقادیانیوں ،لاہوریوں کو کافر ،مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہے ،تو ایسا شخص مسلمان ہے اس کو بلا کسی دلیل کے کافر یا قادیانی کہنا شرعا جائز نہیں ہے۔
صورت مسؤلہ میں اگر مذکورہ خاندان واقعی دین اسلام کے تمام عقائد بشمول عقیدہ ختم نبوت کواس کے صحیح معانی ومفہوم کے ساتھ دل وزبان سے تصدیق کرتا ہے اور عقیدہ ختم نبوت کے نہ ماننے والے قادیانیوں ،لاہوریوں کو کافر سمجھتا ہے ،تو اس خاندان کو بلاکسی دلیل کافر یا قادیانی کہنا درست نہیں ہے ،تاہم یقینی اور حتمی طور پر اس مذکورہ خاندان کے حالات کے بارے میں وہاں کے مقامی علماء کرام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مقامی ذمہ داران حضرات سے رجوع کرکے ان کے بارے میں تصدیق کی جائے۔
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی
6ستمبر 2023/19صفر المظفر 1445ھ
فتویٰ نمبر:319
