فتوے
ترکہ سے متعلق چند سؤالات
سوال
بخدمت جناب مفتی صاحب دامت برکاتہم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
موضوع: والد مرحوم کے ترکہ، والدہ کے مہر، کے متعلق شرعی رہنمائی
بنیادی عرض:
والد مرحوم کے ترکہ کی تقسیم، والدہ کے مہر کی ادائیگی کے متعلق شرعی رہنمائی درکار ہے۔_
والد صاحب کا انتقال تقریباً _12 سال قبل ہوا۔ ورثاء میں والدہ اور 6 بہن بھائی ہیں: 4 بھائی، 2 بہنیں۔ 2 بھائی شادی شدہ الگ رہائش پذیر ہیں۔
والدہ تقریباً 21-22 سال سے نفسیاتی عارضے میں مبتلا ہیں۔
حصہ اول: _ جائیداد اور والدہ کے مہر کی صورت
والد صاحب کے ترکہ میں ایک دو منزل مکان ہے جو انہوں نے اپنی زندگی میں خریدا تھا۔
مکان خریدتے وقت والد صاحب نے والدہ کا 5 تولہ سونا جو والدہ کا مہر تھا، فروخت کر کے اس کی رقم مکان کی قیمت میں شامل کی تھی۔
والد صاحب اپنی زندگی میں فرماتے تھے کہ "اس گھر میں تمہاری والدہ کا مہر ہے، والدہ کو جب مہر لینا ہو تو گھر بیچ کر لے لینا"۔ اس بات کے گواہ موجود ہیں۔
اس وقت والدہ کے ہمراہ ہم 4 بہن بھائی غیر شادی شدہ کی مستقل رہائش اسی مکان میں ہے۔
_ حصہ دوم:_ موجودہ صورتحال _
فی الوقت والدہ محترمہ کی ذہنی و جسمانی حالت اور ان کی یہ مستقل رہائش کے پیشِ نظر مکان کے فروخت پر رضامندی تاحال حاصل نہیں ہو سکی۔
حصہ سوم: دریافت طلب امور
سوال نمبر 1:
والدہ کے مہر کا 5 تولہ سونا جو والد صاحب نے مکان میں لگایا اور خود اقرار کیا، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا یہ والدہ کا قرض ہے جو ترکہ کی تقسیم سے قبل ادا کرنا لازم ہے؟
سوال نمبر 2:
والدہ محترمہ مذکورہ نفسیاتی عارضے یعنی ڈپریشن میں مبتلا ہیں، جس کے لیے ان کی مستقل دیکھ بھال کرنی پڑتی ہے اور مستقل دوا کا استعمال جاری ہے۔ ان حالات کے پیشِ نظر وراثتی مکان کو فروخت کرنا شرعاً کیسا ہے؟ کیا والدہ کی اس حالت میں انہیں ان کی موجودہ رہائش سے محروم کرنا جائز ہوگا یا ورثاء پر لازم ہے کہ پہلے ان کی رضامندی اور پهر مستقل رہائش کا مناسب انتظام کریں؟
_سوال نمبر 3: _
مکان کے فروخت کے بعد والدہ کے حصے کی رقم یعنی مہر اور وراثت کا 1/8 حصہ کے بارے میں شریعت کی رو سے سب سے بہتر اور شفاف صورت کیا ہوگی تاکہ مستقبل میں کسی غلط فہمی یا تنازع کی گنجائش نہ رہے؟ کیا یہ جائز ہوگا کہ والدہ کی یہ رقم تمام بہن بھائیوں میں تقسیم کر دی جائے اور سب کو پابند کیا جائے کہ والدہ کی کفالت، علاج اور دیکھ بھال کی ذمہ داری ہمیشہ سب پر رہے گی؟ اگر یہ صورت درست ہو تو مکان کی فروخت کے بعد کل رقم کی تقسیم کا شرعی طریقہ اور ترتیب کیا ہوگی؟؟
جواب
1۔صورت مسؤلہ میں اگر واقعی سائل کے والد مرحوم نے اپنی اہلیہ کا سونا بطور قرض ان سے لیکر مکان کی تعمیر میں خرچ کیا تھا تو ترکہ کی تقسیم سے قبل یہ ان کا قرضہ ہے جو ان کو ادا کیا جائے گا۔
2۔ والد مرحوم کے مذکورہ مکان میں ان کےتمام ورثاء کا شرعا حصہ ہے ،لہذا اگر تمام ورثاء یا بعض ورثاء مکان میں سے اپنے حصہ کا مطالبہ کریں تو مکان فروخت کرکے ورثاء کو ان کا حصہ دے دیا جائے ۔اوراگر کوئی ایک وارث یا چند مل کر مذکورہ مکان کی قیمت مارکیٹ ویلیوکے اعتبار سے لگواکر مکان خود رکھ کر دوسرے ورثاء کو ان کا مقررہ حصہ اپنی طرف سے ادا کردیں تو یہ صورت بھی شرعاً جائز ہے۔
3۔ جب تک والدہ حیات ہیں اس وقت تک وہ اپنے مال کی خود مالکہ ہیں ،ان کی زندگی میں اولاد کا ان کے مال میں کوئی حق نہیں ہے،اوران کی اجازت اور رضامندی کے بغیر ان کے مال کو اولاد کے درمیان تقسیم کرنا شرعاً ناجائز ہے۔ لہذا ان کے تمام مال (چاہے ان کو اپنے شوہر سے وراثت میں ملا یا اس کے علاوہ ان کا ذاتی مال)کو ایک جگہ محفوظ رکھا جائے ،اور ضرورت کے مطابق ان کے علاج معالجہ اور ان کی دیگر ضروریات پر خرچ کیا جائے۔
والد مرحوم کی جائیداد کو تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے حقوق مقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد ،اگر مرحوم پر کوئی قرضہ ہو تو اس ادا کرکے ،اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی مال سے نافذ کرکے بقیہ کل جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ کو 80 حصوں میں تقسیم کرکے بیوہ کو 10 حصے ،ہر ایک بیٹے کو 14 حصے اور ہرایک بیٹی کو 7 حصے ملیں گے۔
صورت تقسیم یہ ہوگئ:

یعنی مرحوم کی جائیداد میں سے 12.5 فیصد حصہ بیوہ کو،17.5فیصد حصہ ہرایک بیٹے کو ،اور 8.75 فیصد حصہ ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔
فتاوی شامی میں ہے:
وَقُسِمَ) الْمَالُ الْمُشْتَرَكُ (بِطَلَبِ أَحَدِهِمْ إنْ انْتَفَعَ كُلٌّ) بِحِصَّتِهِ (بَعْدَ الْقِسْمَةِ وَبِطَلَبِ ذِي الْكَثِيرِ إنْ لَمْ يَنْتَفِعْ الْآخَرُ لِقِلَّةِ حِصَّتِهِ) وَفِي الْخَانِيَّةِ: يُقْسَمُ بِطَلَبِ كُلٍّ وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى، لَكِنَّ الْمُتُونَ عَلَى الْأَوَّلِ فَعَلَيْهَا لِلْعَوْلِ
(کتاب القسمۃ 6/260 ط سعید)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی
9ذیقعدہ 1447ھ/27اپریل 2026ء
فتویٰ نمبر:521
