فتوے
کسی کو بلاوجہ کافر کہنا
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ میرے ایک استاد ایک اسلامی سیاسی جماعت میں ایک عہدے پر فائز تھے، اور ان کے بعد میں بھی اسی عہدے پر آیا۔ وہ ایک کفریہ عقیدہ رکھتے تھے۔ان کی وفات کے بعد میں نے اس عقیدے کی تردید سب کے سامنے کی، لیکن میں نے ان کا نام لے کر یہ نہیں کہا کہ میرے استاد کا عقیدہ غلط تھا، بلکہ عمومی طور پر اس عقیدے کو رد کیا۔اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس صورت میں مجھ پر بھی کفر کا فتویٰ لگ سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
صورت مسؤلہ میں سائل نے جب اپنے پیش رُو کے کفریہ عقیدہ سے براءت کا اظہار سب کے سامنے کیا ہے ،اور مذکورہ کفریہ عقیدہ کے علاوہ بھی سائل کسی کفریہ عقیدہ کا معتقد نہیں ہے بلکہ اس کے عقائد اہل سنت والجماعت کے عقائد کے موافق ہیں ،تو اس پر کفر کا فتوی لگانا شرعاً غلط ہے۔
حدیث شریف میں ہے:
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «أَيُّمَا رَجُلٍ قَالَ لِأَخِيهِ كَافِرُ فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحدهمَا» . مُتَّفق عَلَيْهِ
(مشکوۃ المصابیح،کتاب الاداب،باب حفظ اللسان،الفصل الاول 3/1356 رقم 4815 ط المکتب الاسلامی)
ترجمہ:حضور ﷺ کا ارشاد گرامی جس نے اپنے کسی مسلمان بھائی کو کافر کہا اور وہ حقیقت میں کافر نہیں تھا تو یہ بات کہنے والے کی طرف لوٹ کر آتی ہے۔
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی
3ذیقعدہ 1447ھ/21اپریل 2026ء
فتویٰ نمبر:520
