فتوے
بعض ورثاء کا ترکہ کے مکان میں رہائش اختیار نہ کرنے کی وجہ سے کرایہ کا حق۔والدہ کا نفقہ اولاد پر
سوال
محترم مفتی صاحب!
ہم چھ بہن بھائی ہیں۔ ہمارے والد صاحب کا ایک گھر ہے، جن کا انتقال ہو چکا ہے۔ اس گھر میں اس وقت چار بہن بھائی اپنی والدہ کے ساتھ رہ رہے ہیں، جبکہ دو بھائی باہر رہتے ہیں۔
صورتِ حال درج ذیل ہے:
1. ہماری والدہ بیمار رہتی ہیں اور گھر کے اخراجات میں ہی برداشت کرتا ہوں،
البتہ ایک بھائی ڈاکٹر کی فیس کا خرچہ اٹھاتا ہے۔
2. گھر میں رہنے والے دیگر بہن بھائیوں میں:
- ایک بہن ٹیچنگ کر کے کچھ کماتی ہے،
- ایک بہن ایکسیڈنٹ کی وجہ سے زیرِ علاج ہے،
- ایک بھائی زیرِ تعلیم ہے۔
3. والدہ کے لیے تقریباً 15,000 روپے کسی ذریعے سے آتے ہیں، مگر مجموعی اخراجات پھر بھی زیادہ ہیں۔
4. گھر کی اوپر والی منزل کو ہم نے دو ماہ سے کرائے پر دیا ہوا ہے، جس کا کرایہ گھر کے اخراجات میں استعمال ہو رہا ہے۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ:
- جو دو بھائی باہر رہتے ہیں، وہ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس گھر سے ان کا کرایہ بنتا ہے، لہٰذا انہیں دیا جائے۔
- ان کا کہنا ہے کہ چونکہ وہ خود اس گھر میں نہیں رہ رہے، اس لیے ان کا کرایہ بنتا ہے، اور اگر ہم ابھی ماہانہ کرایہ ادا نہیں کرتے تو بعد میں جب گھر فروخت ہوگا تو وہ ہم چاروں بہن بھائیوں (جو اس وقت گھر میں رہ رہے ہیں) سے کرایہ کی رقم وصول کریں گے، یعنی اگر ابھی نہ دیا گیا تو بعد میں ہم سے لے لیں گے۔
ہم نے ان سے واضح طور پر یہ بھی کہہ دیا ہے کہ گھر فروخت کر کے سب اپنا اپنا حصہ لے لیں تاکہ معاملہ صاف ہو جائے، تاہم اس حوالے سے اب تک ان کی طرف سے کوئی واضح یا حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
اب درج ذیل سوالات کے جوابات درکار ہیں:
1. کیا شرعاً ان دو بھائیوں کا اس گھر میں رہنے والے بہن بھائیوں سے کرایہ (رینٹ) کا مطالبہ درست ہے؟
2. جبکہ گھر کے اخراجات اور والدہ کی دیکھ بھال ہم کر رہے ہیں، تو کیا ان پر بھی مالی تعاون (والدہ کے اخراجات میں حصہ ڈالنا) لازم ہے؟
3. اگر وہ ابھی کرایہ نہیں لیتے، تو کیا بعد میں گھر فروخت ہونے پر وہ ہم چاروں بہن بھائیوں سے کرایہ کی رقم وصول کر سکتے ہیں، جیسا کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر ابھی نہ دیا گیا تو بعد میں ہم سے لے لیا جائے گا؟
4. جب گھر کی فروخت کی بات کی گئی مگر اس پر کوئی واضح پیش رفت نہیں ہوئی، تو کیا پھر بھی ان کا کرایہ بنتا ہے؟
5. ایسی صورت میں ہمارے لیے شرعی طور پر درست اور بہتر حل کیا ہے؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں۔
جواب
صورت مسؤلہ میں سائل کے والد کا انتقال ہوچکا ہے،اور ترکہ کے گھر میں تمام ورثاء کا شرعا حصہ ہے،لہذا جو ورثاء مذکورہ گھر میں رہائش پذیر ہیں ان پر لازم ہے کہ(جب تک مکان فروخت ہوکر تقسیم نہیں ہوجاتا اس وقت تک) مذکورہ مکان کا مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے کرایہ مقرر کیا جائے ، ،اور جو دوبھائی مذکورہ مکان میں رہائش پذیر نہیں ہیں ان کا کرایہ میں سے جتنا حصہ بنتا ہے وہ دیگر ورثاء پر ادا کرنا لازم اور ضروری ہے ۔
والدہ کے پاس اگر اپنے اخراجات کے لئے ذاتی رقم موجود نہیں ہے تو صاحب حیثیت بیٹے اور بیٹی(یعنی جو اپنے خرچہ کے بعد والدہ کا خرچہ بھی ادا کرسکتے ہوں) پر والدہ کے اخراجات برابر ی کے اعتبار سے واجب ہیں ،اور ان سب پر شرعا لازم ہے کہ اس اخراجات میں اپنا حصہ شامل کریں۔
فتاوی شامی میں ہے:
(وَ) تَجِبُ (عَلَى مُوسِرٍ) وَلَوْ صَغِيرًا (يَسَارَ الْفِطْرَةِ) عَلَى الْأَرْجَحِ۔۔۔۔(النَّفَقَةَ لِأُصُولِهِ) وَلَوْ أَبَ أُمِّهِ ذَخِيرَةٌ (الْفُقَرَاءِ) وَلَوْ قَادِرِينَ عَلَى الْكَسْبِ وَالْقَوْلُ لِمُنْكِرِ الْيَسَارِ وَالْبَيِّنَةُ لِمُدَّعِيهِ (بِالسَّوِيَّةِ) بَيْنَ الِابْنِ وَالْبِنْتِ،
الْقِسْمُ الْأَوَّلُ: الْفُرُوعُ فَقَطْ: وَالْمُعْتَبَرُ فِيهِمْ الْقُرْبُ وَالْجُزْئِيَّةُ: أَيْ الْقُرْبُ بَعْدَ الْجُزْئِيَّةِ دُونَ الْمِيرَاثِ كَمَا عَلِمْت، فَفِي وَلَدَيْنِ لِمُسْلِمٍ فَقِيرٍ وَلَوْ أَحَدُهُمَا نَصْرَانِيًّا أَوْ أُنْثَى تَجِبُ نَفَقَتُهُ عَلَيْهِمَا سَوِيَّةً ذَخِيرَةٌ لِلتَّسَاوِي فِي الْقُرْبِ وَالْجُزْئِيَّةِ
(کتاب الطلاق،باب النفقۃ،مطلب فی نفقۃ الاصول 3/621 تا 624)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی
2ذیقعدہ 1447ھ/20اپریل 2026ء
فتویٰ نمبر:951
