فتوے
شوہر نے تین طلاقیں دے دیں لیکن بیوی نہیں مانتی
سوال
میں نے اپنی سابقہ بیوی کو طلاق دے دی ہے ،لیکن وہ اس طلاق کو مانتی نہیں ہے ،میں نے 3 بار کو اس کو ان الفاظ سے طلاق دی کہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" ۔مجھے طلاق کا سرٹیفکیٹ لینا ہے اس کے لئے شرعی فتوی درکار ہے۔
جواب
صورت مسؤلہ میں اگر سائل نے واقعی اپنی بیوی کو تین مرتبہ ان الفاظ سے طلاق دی ہے کہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"تو سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ،بیوی کے نہ ماننے کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں ،مذکورہ عورت اپنے شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے ،ساتھ رہنا جائز نہیں ہے ،نیز حلالہ شرعیہ کے بغیر رجوع بھی نہیں ہوسکتاہے۔اور مطلقہ عدت گذارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز.
(کتاب الطلاق الباب السادس1/473 ط رشیدیہ)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی
13 شعبان المعظم 1447ھ/2فروری 2026ء
فتویٰ نمبر:516
