فتوے
مالکانہ حقوق اور قبضہ دئیے بغیر ہدیہ کا حکم
سوال
محترم مفتی صاحب: مؤدبانہ گزارش ہے کہ میرا ایک وراثت کا مسئلہ ہےجس کے لئے میں بہترین حل چاہتی ہوں شریعت کے مطابق امید ہے کہ آپ میری اس معاملہ میں ضرور مدد فرمائیں گے۔
مسئلہ یہ ہے کہ آج سے پانچ سال پہلے جب میرے والد صاحب شدید علیل تھے۔ اس دوران انہوں نے میری چھوٹی بہن کو بتایا کہ کچھ زیور ہے جو تم بہنوں کا ہے۔ ہم ٹوٹل چار بہنیں ہیں اور ایک بھائی ہے اور میرے والد صاحب نے ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ میں نے بیٹے کو ان کا حصہ دے دیا ہے۔
اب اس سال تقریبا چار سال بعد میں اور میری چھوٹی بہن نے ایک درس میں سنا کہ اس طرح زبانی کہنے سے بات کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی اور اس سامان کو وراثت کے مطابق تقسیم کرنا ہےاور وہاں پر میری چھوٹی بہن کے علاوہ کوئی اور گواہ بھی موجود نہیں تھا ۔میری چھوٹی بہن کی عمر اس وقت تقریبا 30 سال تھی اب معلوم یہ کرنا ہے ان زیورات کو وراثت کے مطابق تقسیم کرنا چاہئے یا جو والد صاحب نے کہا ہے اس کو مان لینا چاہئے۔
دوسری بات یہ ہے کہ والد صاحب کا ایک مکان ہے جس میں وہ رہتے تھے۔ اور وہ والد صاحب کے نام پر تھا ۔اور ان کے ساتھ میری والدہ میرا بھائی فیملی کے ساتھ اور ایک بڑی بہن جن کی شوہر سے علیحدگی ہو گئی ہے وہ رہتی تھی۔
میرے بھائی نے والد کی زندگی میں ان سے فرمائش کی کہ گھر میرے نام کر دیں باقی مجھے کچھ نہیں چاہئے لیکن والد صاحب نے یہ نہیں کیا بلکہ وہ اس بات سے سخت ناراض ہوئے۔
لیکن ایک دن میری ایک اور تیسری بہن کے سامنے والد صاحب نےیہ بات رکھی تو میری بہن نے یہ مشورہ دیا کہ آپ یہ مکان آدھا بھائی کو دیں اور آدھا بڑی بہن کو دیں کیونکہ بڑی بہن کی ان کے شوہر سے علیحدگی ہوگئی ہے اور بچے بھی شوہر کے ساتھ رہتے ہیں۔ میرے والد یہ بات مان گئے لیکن کوئی کاغذی کاروائی نہیں ہوئی اور اتنے دنوں میں میرے والد صاحب کا بھی انتقال ہوگیا۔ اب اس گھر میں بھائی اپنی فیملی کے ساتھ اور میری بڑی بہن رہتی ہیں۔کیا اس گھر کا بھی شریعت کے مطابق فیصلہ ہونا چاہئے؟ یہ دونوں باتیں آپ کے سامنے رکھیں ہیں ۔ امید ہے کہ آپ رہنمائی فرمائیں گے۔
ایک اور بات یہ کہ 36 ہزار روپے چار بہنوں اور ایک بھائی میں کیسے تقسیم ہوگا۔
جواب
1۔صورت مسؤلہ اگر والد نے اپنی زندگی میں زیورات سے متعلق اپنی ایک بیٹی کو صرف یہ کہا تھا کہ " میرے پاس کچھ زیور ہے جو تم بہنوں کا ہے"لیکن اپنی زندگی میں مذکورہ زیورات اپنی بیٹیوں کو مالکانہ حقوق وقبضہ کے ساتھ نہیں دیئےتھےتو اب ان کے انتقال کے بعد یہ زیورات مرحوم کا ترکہ شمار ہوگا اور تمام ورثاء(بیٹا اور بیٹیوں)کے درمیان ان کے حصوں کے بقدر تقسیم ہوگا۔
2۔ والد مرحوم کا مملوکہ مکان جس میں وہ اپنی موت تک رہائش پذیرتھے ،وہ مکان بھی تمام ورثاء(بیٹا اور بیٹیوں) میں ان کے حصوں کے بقدر تقسیم ہوگا ،والد کے محض یہ کہنے سے کہ "یہ مکان میرے ایک بیٹے اور بیٹی کا ہے "مذکورہ مکان ان دونوں کی ملکیت میں شمار نہ ہوگا بلکہ شرعی طریقہ کے مطابق تقسیم کرکے تمام ورثاء کا اس مکان میں حصہ ہوگا۔
3۔چھتیس ہزار روپے میں سے بیٹے کو بارہ ہزاراور ہر ایک بیٹی کو چھ ہزار ملیں گے۔

یعنی مرحوم کے کل ترکہ میں سے بیٹے کو33.33 فیصد حصہ اور ہر ایک بیٹی کو 16.66 فیصد حصہ ملے گا۔
تقریرات الرافعی علی رد المحتار میں ہے:
وبخلاف ما اذا کان الساکن ھو الواھب لان الشرط قبضہ ویدہ علی الدار تقرر قبضہ وفیہ ایضا عن ابی یوسف لایجوز للرجل ان یہب لامراتہ اؤ تہب لزوجہا اؤ لاجنبی وھما ساکنان فیہا۔
(کتاب الھبۃ 5/251 ط سعید)
الدر المختار میں ہے:
(وَتَتِمُّ) الْهِبَةُ (بِالْقَبْضِ) الْكَامِلِ (وَلَوْ الْمَوْهُوبُ شَاغِلًا لِمِلْكِ الْوَاهِبِ لَا مَشْغُولًا بِهِ) وَالْأَصْلُ أَنَّ الْمَوْهُوبَ إنْ مَشْغُولًا بِمِلْكِ الْوَاهِبِ مُنِعَ تَمَامَهَا،
(کتاب الھبۃ 5/690 ط سعید)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی
15 شوال المکرم 1447ھ/4اپریل 2026ء
فتویٰ نمبر:517
