مدرسہ عارف العلوم
فتوے
وضو میں منہ اور ناک میں پانی ڈالنے کا طریقہ
ڈیبیٹ کارڈ سے ائیرپورٹ پر پریمیم لاونج کا استعمال
سوال
میزان بینک کے ورلڈ ڈیبیٹ کارڈ سے ائیرپورٹ پرپریمئم لاؤنج کا استعمال ملتا ہے ، جہاں کارڈ سے 2 روپے کی کٹوتی ہوتی ہے ۔ اور پھر اس لاونج میں آپ کھانا پینا کولڈرنک وغیرہ سب فری میں استعمال کرسکتے ہیں۔
1 ۔ یہ کارڈ کرنٹ اکاؤنٹ میں 50 لاکھ مینیج کرکے رکھے ہوں تو ملتا ہے ۔ اور کوئی کٹوتی نہیں ہوتی۔
2۔ یا پھر اسکی ایک مخصوص سالانہ / ماہانہ فیس ہوتی ہے وہ بینک آپ کے کارڈ سے کاٹ لیتا ہے اگر آپ نے اپنے کرنٹ اکاؤنٹ میں 50 لاکھ مینیج نہ رکھے ہوں۔۔
اس کارڈ پر اس فائدے کا استعمال جائز ہے یا حرام ہے ؟ اسی طرح بعض ہوٹل پر 25 سے 30 فیصد کھانے کے بل پر ڈسکاؤنٹ ملتا ہے کیا یہ جائز ہے ؟
جزاک اللہ۔۔۔ محمد اسامہ کراچی
جواب
تفصیلات دیکھیں
بھائی،بہن،بھابھی،بھتیجا،بھتیجی (مناسخہ)
سوال
محترم مفتی صاحب !
ہماری ایک ہمشیرہ روشن ناز جس کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا اس کو ہمارے والد مرحوم نے ایک پلاٹ دیا تھا لیکن اپنی وفات سے قبل والد مرحوم نے یہ خواہش ظاہر کی تھی میں وہی پلاٹ اپنے بھتیجے محمد عتیق اللہ کو دینا چاہتا ہوں لیکن والد صاحب کا انتقال ہوگیا اور ان کی زندگی میں یہ کام نہیں ہوسکا ،اور اب ہماری بہن روشن ناز کا بھی انتقال ہوگیا ہے ،اور ان کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء یہ تھے۔دو بھائی (خالد،طارق)دو بہنیں (زیبا محمود،سلمیٰ)،ہماری والدہ کا انتقال روشن ناز سے پہلے ہوچکا تھا ۔پھر سلمیٰ کا بھی انتقال ہوگیا ہے اور وہ غیر شادی شدہ تھیں ،ان کے انتقال کے بعد بھائی خالد کا بھی انتقال ہوا،خالد کے ورثاء میں اس کی بیوہ(زرقا) ایک بیٹا(محمد)اور بیٹی (جویریہ) شامل ہے۔
اب روشن ناز کےمذکورہ پلاٹ کے ورثاء میں ایک بھائی طارق،بہن زیبا محمود،بھائی خالد مرحوم کی بیوہ(زرقا)خالد مرحوم کا بیٹا(محمد) اور بیٹی (جویریہ) شامل ہیں ،ہم تمام ورثاء اپنی رضامندی اور خوشی سے مذکورہ پلاٹ محمد عتیق اللہ کو دینا چاہتے ہیں،اور اس کے متعلق آپ سے پہلے فتوی بھی لے چکے ہیں ( جس کا رجسٹریشن نمبر 515 ہے)۔اب آپ سے درخواست ہے کہ یہ بتادیں کہ ہم سے ہر وارث کا کتنا حصہ بنتا ہے تاکہ اس پلاٹ کو شرعی طریقہ کے مطابق تقسیم کرکے پھر ہر وارث اپنے حصے پر قبضہ کرکے عتیق اللہ کو مذکورہ پلاٹ ہدیہ کرسکے۔
جواب
تفصیلات دیکھیں
کیا مرض الموت میں مبتلا شخص کے ورثاء اس کے مال میں تصرف کرسکتے ہیں
سوال
میرا نام عظمٰی اقبال ہے۔ میرے شوہر کا انتقال 2022ء میں ہوا۔ ان کے والدین حیات ہیں۔ میری ساس ٹھیک ہیں، لیکن میرے سسر بستر پر ہیں، ان کی یادداشت بالکل ختم ہو چکی ہے اور وہ کسی کو بھی نہیں پہچانتے۔ وہ اپنے مال کے بارے میں خود فیصلہ کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔
میرے شوہر کی گریجویٹی کی رقم ان کے شرعی وارثوں میں تقسیم ہوئی۔ میری ساس نے اپنا حصہ لے لیا، جبکہ میرے سسر کا شرعی حصہ ابھی میرے پاس ہے۔
میرا اصل سوال یہ ہے کہ میری ساس اور میرے سسر کی اولادیں (میرے دیور اور نندیں) سب چاہتی ہیں کہ میرے سسر کا جو حصہ میرے پاس ہے، وہ میرے مرحوم شوہر کی اولاد، یعنی میرے بچوں کو دے دیا جائے۔
چونکہ میرے سسر حیات ہیں لیکن کسی کو پہچانتے نہیں اور اپنی طرف سے مال کے بارے میں فیصلہ یا ہبہ کرنے کی حالت میں نہیں ہیں، اس لیے ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ:
کیا میری ساس اور میرے دیور/نندیں، جو مستقبل میں میرے سسر کے وارث ہیں، مل کر میرے سسر کی طرف سے ان کے مال کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
کیا کوئی شرعی طریقہ موجود ہے کہ یہ رقم بچوں کو دی جا سکتی ہے؟
اگر سسر خود کسی کو پہچاننے اور فیصلہ کرنے کی حالت میں نہ ہوں، تو ان کی بیوی اور اولاد ان کی طرف سے ان کے مال میں ہبہ یا عطیہ کرنے کے لیے شرعاً کیا طریقہ اختیار کر سکتی ہے؟
جواب
تفصیلات دیکھیں
ایک تہائی مال سے زائد کی وصیت
سوال
محترم مفتی صاحب !
میری بڑی بہن (انجم حمزہ) 2021ء میں کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد وفات پاگئیں ،وہ غیر شادی شدہ تھیں۔میری ایک اور بڑی بہن(نیلوفر حمزہ) بھی غیر شادی شدہ ہیں ،چونکہ ہم مشترکہ خاندانی نظام میں رہتے ہیں اس لئے وہ اور میں ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔ ہمارے بڑے بھائی 2000ء میں گردوں کی بیماری کے باعث وفات پاگئے تھے،ان کے پسماندگان میں دو بیٹے اور ایک بیوہ ہیں لیکن وہ اپنے الگ گھر میں رہتے ہیں ۔
میری مرحومہ بہن(انجم حمزہ) کی شدید بیماری کے دوران انہوں نے زبانی طور پر میری دوسری غیر شادی شدہ بہن (نیلوفر حمزہ)کو ہدایت کی تھی کہ ان کا تقریباً 155 گرام ذاتی سونا میرے بیٹے اور بیٹیوں کو دے دیا جائے۔اس ہدایت کے مطابق سونا تقریباً درج ذیل مقدار میں تقسیم کیا گیا:
میرے بیٹے کو 46 گرام ،ایک بیٹی کو 69 گرام ،دوسری بیٹی کو 22 گرام ۔میری ایک بیٹی میری بہن کی وفات کے وقت پہلے ہی شادی شدہ تھیں جبکہ دوسری دو بیٹیاں غیر شادی شدہ اور میرے ساتھ رہتی تھیں ۔
میں اس معاملے میں اسلامی شریعت کے مطابق صحیح شرعی حیثیت سمجھنا چاہتا ہوں ،بالخصوص میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آیا میرے بیٹے اور بیٹیاں میری مرحومہ بہن کی وصیت کے صحیح حقدار تھے؟اور کیا اسلامی شریعت میں ایسی صورت میں کوئی مختلف اصول موجود ہیں جہاں ایک غیر شادی شدہ خاتون وفات پائی ہو اور اپنے ذاتی سامان اور مال و اسباب چھوڑ جائے جو عام طور پر اس کے قریبی زندہ بھائی اور بہنوں میں تقسیم کیا جاتا ہے،میں اس بارے میں قابل اطلاق شرعی احکام کے بارے میں رہنمائی چاہتا ہوں۔
وضاحت:
· سائل کی مرحومہ بہن نے مذکورہ سونا اپنی زندگی میں سائل کے بچوں کو نہیں دیا تھا بلکہ انہوں نے اپنی بہن کو وصیت کی تھی۔
· مرحومہ کے ترکہ میں سونے کے علاوہ کچھ نقدی تھی جو انہوں نے اپنے انتقال سے قبل سائل کی اہلیہ کو ہدیۃً دے دی تھی،مذکورہ سونے کے علاوہ ان کی ملکیت میں کچھ اور نہیں تھا۔
· ہمارے والد،والدہ کا انتقال مرحومہ بہن سے بہت پہلے ہوچکا تھا اور بڑے بھائی کا انتقال بھی مرحومہ بہن (انجم حمزہ) سے پہلے 2000ء میں ہوگیا تھا ،مرحومہ انجم حمزہ کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں ایک بھائی (محمد عامر) ،ایک بہن (نیلوفر حمزہ)اورایک شادی شدہ بہن (پروین حمزہ) حیات ہیں۔
· مرحومہ انجم حمزہ نے اپنی وصیت میں میرے غیر شادی شدہ بچوں کو سونا دینے کی وصیت کی تھی اس لئے میری شادی شدہ بیٹی کو وصیت کے مطابق سونا نہیں دیا گیا ۔اور جس طرح انہوں نے جس گرام کا سونا جس کو دینے کا کہا تھا اسی طرح تقسیم کردیا گیا تھا۔
جواب
تفصیلات دیکھیں
بیٹا،بیٹی،بہو،پوتا،پوتی (مناسخہ)
سوال
: ہماری والدہ مرحومہ شمیمہ بانو کا انتقال 2022ء میں ہوا،ان کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں دو بیٹے (طارق،خالد)اور تین بیٹیاں(سلمیٰ زرین،روشن ناز،زیبا محمود ) حیات تھیں:
پھر روشن ناز کا انتقال ہوا 2022 میں (یہ غیر شادی شدہ تھیں)
پھر سلمیٰ زرین کا انتقال ہوا 2025 میں (یہ بھی غیر شادی شدہ تھیں)
پھر خالد احمد کا انتقال ہوا 2025 میں (خالد کے ورثاء میں ان کی بیوہ زرقا،بیٹا محمداور بیٹی جویریہ شامل ہے)
اب آپ سے سوال یہ ہے کہ مرحومہ شمیمہ بانو کی جائیداد کو تقسیم کیا جارہا ہے اور اب ان کے موجودہ ورثاء میں ان کا بیٹا(طارق)بیٹی (زیبا محمود) مرحوم خالد کی بیوہ (زرقا) اور مرحوم خالد کا بیٹا(محمد) اور اس کی بیٹی (جویریہ) ہیں ،ان سب ورثاء کے درمیان ترکہ کس طرح تقسیم ہوگا ؟
سائل:محمد طارق
جواب
تفصیلات دیکھیں
بیٹا،بیٹی،بہو،پوتا،پوتی تقسیم ترکہ
سوال
ہمارے والد مرحوم خلیل احمد کا انتقال 2016ء میں ہوا،ان کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں بیوہ(شمیمہ بانو)،دو بیٹے (طارق،خالد)اور تین بیٹیاں(سلمیٰ زرین،روشن ناز،زیبا محمود ) حیات تھیں:
پھر اس کے بعد شمیمہ بانو کا انتقال ہوا 2022 میں
پھر روشن ناز کا انتقال ہوا 2022 میں (یہ غیر شادی شدہ تھیں)
پھر سلمیٰ زرین کا انتقال ہوا 2025 میں (یہ بھی غیر شادی شدہ تھیں)
پھر خالد احمد کا انتقال ہوا 2025 میں (خالد کے ورثاء میں ان کی بیوہ زرقا،بیٹا محمداور بیٹی جویریہ شامل ہے)
اب آپ سے سوال یہ ہے کہ مرحوم خلیل احمد کی جائیداد کو تقسیم کیا جارہا ہے اور اب ان کے موجودہ ورثاء میں ان کا بیٹا(طارق)بیٹی (زیبا محمود) مرحوم خالد کی بیوہ (زرقا) اور مرحوم خالد کا بیٹا(محمد) اور اس کی بیٹی (جویریہ) ہیں ،ان سب ورثاء کے درمیان ترکہ کس طرح تقسیم ہوگا ؟
سائل:محمد طارق
جواب
تفصیلات دیکھیں
بھائی،بہن،بھابھی،بھتیجا،بھتیجی(تقسیم ترکہ)
سوال
ہماری ہمشیرہ مرحومہ سلمیٰ زرین کا انتقال 2025ء میں ہوا،ان کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں دو بھائی (طارق،خالد)اور ایک بہن(زیبا محمود ) حیات تھیں:
پھر خالد احمد کا انتقال ہوا 2025 میں (خالد کے ورثاء میں ان کی بیوہ زرقا،بیٹا محمداور بیٹی جویریہ شامل ہے)
اب آپ سے سوال یہ ہے کہ مرحومہ سلمیٰ زرین کی جائیداد کو تقسیم کیا جارہا ہے اور اب ان کے موجودہ ورثاء میں ان کا بھائی (طارق)،بہن (زیبا محمود) ،مرحوم خالد کی بیوہ (زرقا) اور مرحوم خالد کا بیٹا(محمد) اور اس کی بیٹی (جویریہ) ہیں ،ان سب ورثاء کے درمیان ترکہ کس طرح تقسیم ہوگا ؟
سائل:محمد طارق
جواب
تفصیلات دیکھیں
ونیلا فلیور،پروپیلین گلائیکول،رنگ (A150)،الکحل ،سائٹرک ایسڈ والے اجزاء کے استعمال کا حکم
سوال
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! کیا اس کا استعمال کی اجازت ہے یا نہیں؟ایک چمچ کے آس پاس استعمال کیئے جاتے ہیں میٹھاٹی میں جیسے کسٹرڈ*اجزاء:*پانی، ونیلا فلیور، پروپیلین گلائیکول، الکحل، رنگ (150a)، تیزابیت کو کنٹرول کرنے والا (330)۔اس میں 5.4 فیصد الکحل شامل ہے۔*ایک چائے کے چمچ (1 teaspoon = 5ml) میں کتنی مقدار ہوگی:*بوتل پر ہر چیز کی الگ الگ مقدار نہیں لکھی، صرف ترتیب لکھی ہے۔ کمپنی نے سب سے زیادہ مقدار والی چیز پہلے لکھی ہے۔ایک چائے کا چمچ 5 ملی لیٹر کا ہوتا ہے، اس میں:- *الکحل:* 5.4 فیصد کے حساب سے تقریباً 0.27 ملی لیٹر الکحل ہوگا۔ باقی 4.73 ملی لیٹر پانی اور دیگر اجزاء ہوں گے۔- *پانی:* سب سے زیادہ مقدار میں، تقریباً 4 ملی لیٹر سے زیادہ۔- *ونیلا فلیور، پروپیلین گلائیکول، رنگ (150a)، اور سائٹرک ایسڈ (330):* یہ بہت ہی کم مقدار میں ہوں گے، چند قطرے ہی۔مطلب ایک چائے کے چمچ میں الکحل کی مقدار ایک چوتھائی ملی لیٹر سے بھی کم ہے، لیکن پھر بھی اس میں الکحل موجود ہے۔ ؟
جواب
تفصیلات دیکھیں
باسط حسین نام رکھنا
سوال
باسط پھر اللہ کا نام نہیں ہے کیونکہ یہ قران میں مخلوق کے لیے استعمال ہوا ہے جیسے سورۃ الکہف ایت نمبر 18تو کیا باسط حسین نام ٹھیک ہے اس کہ پورا مطلب نام کیا ہوگا
جواب
تفصیلات دیکھیں