فتوے
بھائی،بہن،بھابھی،بھتیجا،بھتیجی(تقسیم ترکہ)
سوال
ہماری ہمشیرہ مرحومہ سلمیٰ زرین کا انتقال 2025ء میں ہوا،ان کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں دو بھائی (طارق،خالد)اور ایک بہن(زیبا محمود ) حیات تھیں:
پھر خالد احمد کا انتقال ہوا 2025 میں (خالد کے ورثاء میں ان کی بیوہ زرقا،بیٹا محمداور بیٹی جویریہ شامل ہے)
اب آپ سے سوال یہ ہے کہ مرحومہ سلمیٰ زرین کی جائیداد کو تقسیم کیا جارہا ہے اور اب ان کے موجودہ ورثاء میں ان کا بھائی (طارق)،بہن (زیبا محمود) ،مرحوم خالد کی بیوہ (زرقا) اور مرحوم خالد کا بیٹا(محمد) اور اس کی بیٹی (جویریہ) ہیں ،ان سب ورثاء کے درمیان ترکہ کس طرح تقسیم ہوگا ؟
سائل:محمد طارق
جواب
صورت مسؤلہ میں مرحومہ سلمیٰ زرین کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں ان کے دو بھائی (طارق،خالد)اور ایک بہن(زیبا محمود ) حیات تھیں ،پھر اس کے بعد خالد کا انتقال ہوا ،اور اب مرحومہ سلمیٰ زرین کے موجودہ ورثاءمیں ان کا بھائی (طارق) بہن (زیبا محمود)،بھابھی(زرقا)،بھتیجا(محمد)اور بھتیجی (جویریہ) حیات ہیں،اور مرحومہ کا ترکہ شرعاً ان ورثاء میں تقسیم ہوگا۔
مرحومہ سلمیٰ زرین کے ترکہ کو تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مرحومہ کے حقوق مقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد ،اگر مرحومہ پر کوئی قرضہ ہو تو اسے ادا کرکے ،اور اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی مال سے نافذ کرکے بقیہ کل جائیداد منقولہ وغیر منقولہ کو 60 حصوں میں تقسیم کیا جائے،مرحومہ کے بھائی (طارق)کو 24 حصے،مرحومہ کی بہن (زیبا محمود)کو 12 حصے،مرحومہ کی بھابھی(زرقا)کو 3حصے،مرحومہ کے بھتیجا(محمد بن خالد)کو 14 حصے اور بھتیجی (جویریہ بنت خالد )کو 7حصے ملیں گے۔
صورت تقسیم یہ ہوگی:

یعنی مرحومہ سلمیٰ زرین کی جائیدادمیں سے ان کے بھائی (طارق)کو 40 فیصد حصہ،ان کی بہن (زیبا محمود) کو 20 فیصد حصہ،ان کی بھابھی (زرقا) کو 5 فیصد حصہ،ان کےبھتیجا(محمد) کو 23.33فیصد حصہ اور ان کی بھتیجی (جویریہ)کو 11.66 فیصد حصہ ملے گا۔
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

|
فتوی نمبر:566 |
تاریخ :25ربیع الثانی1448ھ/8اکتوبر 2026ء |
