فتوے
باسط حسین نام رکھنا
سوال
باسط پھر اللہ کا نام نہیں ہے کیونکہ یہ قران میں مخلوق کے لیے استعمال ہوا ہے جیسے سورۃ الکہف ایت نمبر 18تو کیا باسط حسین نام ٹھیک ہے اس کہ پورا مطلب نام کیا ہوگا
جواب
اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام دو طرح کے ہیں،بعض نام اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں مخلوق پر ان کا اطلاق کرنا اور نام رکھنا بغیر "عبد" کے درست نہیں ہے جیسے " الرحمن،السبحان، القدوس، الجبار، المتکبر، الخالق، البارئ، الغفار، القھار، الرزاق، الوهاب وغیرہ۔ اور بعض صفاتی نام اللہ تعالیٰ کے ایسے ہیں جن کا اطلاق مخلوق پر ہوسکتا ہے، جیسے : عزیز، علی، کریم، رحیم، عظیم، رشید، کبیر، بدیع، کفیل، هادی، واسع، باسط ایسےصفاتی ناموں میں سے کسی کا نام رکھنا ہو تو "عبد" کا اضافہ کرنا ضروری نہیں ہے،البتہ ادب کا تقاضہ یہی ہے کہ ان ناموں سے پہلے بھی "عبد" کا اضافہ کردیا جائے۔
"باسط " کا لغوی معنیٰ ہے"فراخی دینے والا""کھولنے والا"اور "حسین " کا معنیٰ ہے "حسین وجمیل "کے ہیں ،اور باسط اللہ تعالیٰ کے ان صفاتی ناموں میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ کےساتھ خاص نہیں ہے،اس لئے لڑکے کا نام "باسط " رکھنا یا "باسط حسین" رکھنا جائز ہے،لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ "عبدالباسط " نام رکھا جائے ۔سورۃ الکہف آیت 18 میں باسط لغوی معنیٰ کے اعتبار سے استعمال ہوا ہے، اصحاب کہف کے کتے کے بارے میں ذکر ہے کہ اس نے اپنے بازو غار کی دہلیز پر پھیلاکر بیٹھا تھا چناچہ مکمل آیت کریمہ اور اس کا ترجمہ ملاحظہ ہو:
وَكَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْهِ بِالْوَصِیْدِ(سورہ الکہف 18)
ترجمہ: اور ان کا کتا دہلیز پر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے ہوئے (بیٹھا) تھا(آسان ترجمہ قرآن)
مذکورہ آیت میں باسط نام کے اعتبار سے استعمال نہیں ہوا ،اس لئے آیت سے یہ استدلال کرنا کہ یہ نام مخلوق کے لئے استعمال ہوا ہے درست نہیں ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
(أَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إلَى اللَّهِ تَعَالَى عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ) وَجَازَ التَّسْمِيَةُ بِعَلِيٍّ وَرَشِيدٍ مِنْ الْأَسْمَاءِ الْمُشْتَرَكَةِ وَيُرَادُ فِي حَقِّنَا غَيْرُ مَا يُرَادُ فِي حَقِّ اللَّهِ تَعَالَى لَكِنَّ التَّسْمِيَةَ بِغَيْرِ ذَلِكَ فِي زَمَانِنَا أَوْلَى لِأَنَّ الْعَوَّامَ يُصَغِّرُونَهَا عِنْدَ النِّدَاءِ كَذَا فِي السِّرَاجِيَّةِ وَفِيهَا
(کتاب الحظر والاباحۃ ،فصل فی البیع 6/417 ط سعید)
معارف القرآن میں حضرت مفتی شفیع عثمانی صاحب ؒ لکھتے ہیں:
اس میں یہ تفصیل ہے کہ اسماء حسنی میں سے بعض نام ایسے بھی ہیں جن کو خود قرآن و حدیث میں دوسرے لوگوں کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے ، اور بعض وہ ہیں جن کو سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کسی کے لئے استعمال کرنا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں، تو جن ناموں کا استعمال غیر اللہ کے لئے قرآن و حدیث سے ثابت ہے وہ نام تو اوروں کے لئے بھی استعمال ہوسکتے ہیں جیسے رحیم ، رشید ، علی ، کریم، عزیز وغیرہ ، اور اسماء حسنی میں سے وہ نام جن کا غیر اللہ کے لئے استعمال کرنا قرآن و حدیث سے ثابت نہیں، وہ صرف اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں ان کو غیر اللہ کے لئے استعمال کرنا الحاد مذکور میں داخل اور ناجائز وحرام ہے مثلا رحمن، سبحان، رزاق ، خالق، غفار ، قدوس وغیرہ۔
پھر ان مخصوص ناموں کو غیر اللہ کے لئے استعمال کرنا اگر کسی غلط عقیدہ کی بناء پر ہے کہ اس کو ہی خالق یا رازق سمجھ کر ان الفاظ سے خطاب کررہا ہے تب تو ایسا کہنا کفر ہے اور اگر عقیدہ غلط نہیں محض بےفکری یا بےسمجھی سے کسی شخص کو خالق ، رازق یا رحمن ، سبحان کہہ دیا تو یہ اگرچہ کفر نہیں مگر مشرکانہ الفاظ ہو نے کی وجہ سے گناہ شدید ہے ۔
افسوس ہے کہ آج کل عام مسلمان اس غلطی میں مبتلا ہیں، کچھ لوگ تو وہ ہیں جنہوں نے اسلامی نام ہی رکھنا چھوڑ دیئے ، ان کی صورت و سیرت سے تو پہلے بھی مسلمان سمجھنا ان کا مشکل تھا، نام سے پتہ چل جاتا تھا ، اب نئے نام انگریزی طرز کے رکھے جانے لگے ، لڑکیوں کے نام خواتین اسلام کے طرز کے خلاف خدیجہ ، عائشہ ، فاطمہ کے بجائے نسیم ، شمیم ، شہناز ، نجمہ ، پروین ہونے لگے ، اس سے زیادہ افسوس ناک یہ ہے کہ جن لوگوں کے اسلامی نام ہیں ، عبدالرحمن ، عبدالخالق عبدالرزاق ، عبدالغفار ، عبدالقدوس وغیرہ، ان میں تخفیف کا یہ غلط طریقہ اختیار کرلیا گیا کہ صرف آخری لفظ ان کے نام کی جگہ پکارا جاتاہے، رحمن ، خالق، رزاق، غفار کا خطاب انسانوں کو دیا جارہا ہے اور اس سے زیادہ غضب کی بات یہ ہے کہ قدرت اللہ کو اللہ صاحب اور قدرت خدا کو خدا صاحب کے نام سے پکارا جاتا ہے یہ سب ناجائز وحرام اور گناہ کبیرہ ہے ، جتنی مرتبہ یہ لفظ پکارا جاتا ہے اتنی ہی مرتبہ گناہ کبیرہ کا ارتکاب ہوتا ہے اور سننے والا بھی گناہ سے خالی نہیں رہتا۔
(تفسیر معارف القرآن،سورۃ الاعراف آیت 180 جلد4 صفحہ 132،133 ط ادارۃ المعارف کراچی)
دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے فتاوی میں ہے:
واضح رہے کہ’’باسط‘‘ کے معنی ہیں : فراخی دینے والا، کھولنے والا،یہ اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص نہیں ہے، اس لیے عبد کے بغیر بھی اس کا استعمال جائز ہے،لیکن پسندیدہ نہیں ہے اور اس میں وہ معنی مراد نہ لیے جائیں جو اللہ کی شان کے لائق ہیں۔
''حسین''سرکارِ دوعالم ﷺ کے محبوب نواسے کااسم گرامی ہے،صحابہ کرام علیہم الرضوان اور انبیاءِ عظام علیہم الصلوات والتسلیمات کے ناموں میں سے کوئی نام منتخب کرکے رکھنا باعثِ سعادت اور برکت ہے؛اس لیے صرف باسط نام رکھنا یا باسط حسین نام رکھنا شرعا جائز ہے ، بہتر یہ ہے کہ عبد الباسط نام رکھ لیا جائے۔
(باسط حسین نام کا حکم ،فتوی نمبر: 144401100162)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
|
فتوی نمبر:562 |
تاریخ :24ربیع الثانی1448ھ/7اکتوبر 2026ء |
