فتوے
کیا مرض الموت میں مبتلا شخص کے ورثاء اس کے مال میں تصرف کرسکتے ہیں
سوال
میرا نام عظمٰی اقبال ہے۔ میرے شوہر کا انتقال 2022ء میں ہوا۔ ان کے والدین حیات ہیں۔ میری ساس ٹھیک ہیں، لیکن میرے سسر بستر پر ہیں، ان کی یادداشت بالکل ختم ہو چکی ہے اور وہ کسی کو بھی نہیں پہچانتے۔ وہ اپنے مال کے بارے میں خود فیصلہ کرنے کی حالت میں نہیں ہیں۔
میرے شوہر کی گریجویٹی کی رقم ان کے شرعی وارثوں میں تقسیم ہوئی۔ میری ساس نے اپنا حصہ لے لیا، جبکہ میرے سسر کا شرعی حصہ ابھی میرے پاس ہے۔
میرا اصل سوال یہ ہے کہ میری ساس اور میرے سسر کی اولادیں (میرے دیور اور نندیں) سب چاہتی ہیں کہ میرے سسر کا جو حصہ میرے پاس ہے، وہ میرے مرحوم شوہر کی اولاد، یعنی میرے بچوں کو دے دیا جائے۔
چونکہ میرے سسر حیات ہیں لیکن کسی کو پہچانتے نہیں اور اپنی طرف سے مال کے بارے میں فیصلہ یا ہبہ کرنے کی حالت میں نہیں ہیں، اس لیے ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ:
کیا میری ساس اور میرے دیور/نندیں، جو مستقبل میں میرے سسر کے وارث ہیں، مل کر میرے سسر کی طرف سے ان کے مال کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
کیا کوئی شرعی طریقہ موجود ہے کہ یہ رقم بچوں کو دی جا سکتی ہے؟
اگر سسر خود کسی کو پہچاننے اور فیصلہ کرنے کی حالت میں نہ ہوں، تو ان کی بیوی اور اولاد ان کی طرف سے ان کے مال میں ہبہ یا عطیہ کرنے کے لیے شرعاً کیا طریقہ اختیار کر سکتی ہے؟
جواب
جب تک کوئی شخص حیات ہو اگرچہ وہ مرض الموت میں مبتلا ہو اور اس کے حوش وحواس برقرار نہ ہوں تب بھی وہ اپنے مال کا خود مالک ہوتا ہے اور مستقبل میں ہونے والےورثاء اس کی حیات میں اس کے مال میں تصرف نہیں کرسکتے۔
صورت مسؤلہ میں سائلہ کے مرحوم شوہر کی میراث میں ان کے بیمار والد(یعنی سائلہ کے سسر)کا شرعا حصہ ہے ،ان کی حیات میں اس حصہ پر سائلہ کی ساس،نندیں،اور دیور (جو مستقبل میں سائلہ کے سسر کے ورثاء ہیں)کو تصرف کا حق حاصل نہیں ہے،اس لئے مذکورہ حصہ کو محفوظ رکھا جائے جب سائلہ کے سسر کا انتقال ہوجائے اس کے بعد ان کا ترکہ ان کے اس وقت موجود تمام ورثاء میں تقسیم کرکے ہرایک کے قبضہ اور ہاتھ میں دے دیا جائے اس کے بعد سائلہ کی ساس ،نند یا دیور میں سے جو بھی اپنا حصہ جتنا دینا چاہے وہ سائلہ کے بچوں کو دے سکتے ہیں ۔
فتاوی شامی میں ہے:
وَهَلْ إرْثُ الْحَيِّ مِنْ الْحَيِّ أَمْ مِنْ الْمَيِّتِ؟ الْمُعْتَمَدُ: الثَّانِي شَرْحُ وَهْبَانِيَّةٍ
(قَوْلُهُ وَهَلْ إرْثُ الْحَيِّ مِنْ الْحَيِّ إلَخْ) أَيْ قُبَيْلَ الْمَوْتِ فِي آخِرِ جَزْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ حَيَاتِهِ، وَالْأَوَّلُ قَوْلُ زُفَرَ وَمَشَايِخِ الْعِرَاقِ، وَالثَّانِي قَوْلُ الصَّاحِبَيْنِ،
(کتاب الفرائض 6/758،759 ط سعید)
تکملہ البحر الرائق میں ہے:
وَأَمَّا بَيَانُ الْوَقْتِ الَّذِي يَجْرِي فِيهِ الْإِرْثُ فَنَقُولُ هَذَا فَصْلٌ اخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ فِيهِ قَالَ مَشَايِخُ الْعِرَاقِ الْإِرْثُ يَثْبُتُ فِي آخِرِ جُزْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ حَيَاةِ الْمُوَرِّثِ وَقَالَ مَشَايِخُ بَلْخٍ الْإِرْثُ يَثْبُتُ بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ
(کتاب الفرائض،الوقت الذی یجری فیہ الارث 8/557 ط دار الکتاب الاسلامی)
فتاوی عثمانیہ میں ہے:
سوال:ایک شخص بیمار ہے،اس کے ہوش وحواس برابر نہیں ،ایسی صورت میں ورثاء اس کی جائیداد فروخت کرسکتے ہیں یا نہیں؟
جواب:جب تک مالک زندہ ہوتا ہے،مال وجائیداد پر اس کی ملکیت برقرار رہتی ہے خواہ بیماری ہی کیوں نہ ہو لہذا رشتہ داروں کا اس مال میں تصرف کرنا جائز نہیں ہوتا۔
صورت مسؤلہ میں ورثا کو جائیداد کی فروخت کا حق حاصل نہیں اس لئے مذکورہ جائیداد کے ساتھ ورثا کا حق تب متعلق ہوگا جب مورث کا انتقال ہوجائے۔
(کتاب المیراث،مسائل باب استحقاق الارث وعدمہ 10/482 ط العصر اکیڈمی)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
زید جب تک زندہ ہے اپنی جائیداد کا خود مالک ہے کسی وارث کا بحیثیت وراثت کوئی حق نہیں ،زید کا جب انتقال ہوجائے گا اس وقت جو ورثا ہوں گے وہ حسب قواعد شرعیہ وارث ہوں گے۔
(کتاب الفرائض ،الفصل الرابع فی استحقاق الارث وعدمہ 20/237 ط فاروقیہ)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
|
فتوی نمبر:560 |
تاریخ :23ربیع الثانی1448ھ/6 اکتوبر 2026ء |
