فتوے
ڈیبیٹ کارڈ سے ائیرپورٹ پر پریمیم لاونج کا استعمال
سوال
میزان بینک کے ورلڈ ڈیبیٹ کارڈ سے ائیرپورٹ پرپریمئم لاؤنج کا استعمال ملتا ہے ، جہاں کارڈ سے 2 روپے کی کٹوتی ہوتی ہے ۔ اور پھر اس لاونج میں آپ کھانا پینا کولڈرنک وغیرہ سب فری میں استعمال کرسکتے ہیں۔
1 ۔ یہ کارڈ کرنٹ اکاؤنٹ میں 50 لاکھ مینیج کرکے رکھے ہوں تو ملتا ہے ۔ اور کوئی کٹوتی نہیں ہوتی۔
2۔ یا پھر اسکی ایک مخصوص سالانہ / ماہانہ فیس ہوتی ہے وہ بینک آپ کے کارڈ سے کاٹ لیتا ہے اگر آپ نے اپنے کرنٹ اکاؤنٹ میں 50 لاکھ مینیج نہ رکھے ہوں۔۔
اس کارڈ پر اس فائدے کا استعمال جائز ہے یا حرام ہے ؟ اسی طرح بعض ہوٹل پر 25 سے 30 فیصد کھانے کے بل پر ڈسکاؤنٹ ملتا ہے کیا یہ جائز ہے ؟
جزاک اللہ۔۔۔ محمد اسامہ کراچی
جواب
میزان بینک یا دیگر مروجہ اسلامی بینکوں میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا اور اس کے منافع کو استعمال کرنا جمہور علماء کرام کے نزدیک ناجائز اور حرام ہے،البتہ بوجہ مجبوری کرنٹ اکاؤنٹ کھلوانے کی گنجائش ہے۔کرنٹ اکاؤنٹ میں جو رقم رکھی جاتی ہے وہ شرعا قرض کے حکم میں ہوتی ہے اور قرض رکھ کر کسی بھی قسم کا نفع حاصل کرنا ناجائز ،حرام اور بحکم سود ہے۔
صورت مسؤلہ میں اگر میزان ڈیبٹ کارڈ ہولڈر کو ائیرپورٹ کے پریمیم لاؤنج سے سہولیات صرف اس وجہ سے حاصل ہورہی ہیں کہ اس کے کرنٹ اکاؤنٹ میں 50 لاکھ روپے یا اس سے زیادہ رقم موجود ہے تو ایسی صورت میں یہ قرض سے نفع حاصل کرنے کی صورت ہے جو ناجائز اور حرام ہے اور اگر کارڈ ہولڈر اس سہولت کو استعمال کرنے کی مقررہ فیس سالانہ یا ماہانہ ادا کرتا ہے تو ایسی صورت میں ان سہولیات کو استعمال کرنے کی گنجائش ہوگی بشرط یہ ہے کہ دیگر کوئی شرعی مفاسد نہ پائے جائیں۔
نیز بینک ڈیبٹ کارڈ ہولڈر کو بعض ہوٹلوں پر یا بعض اشیاء کی خریداری پر جو ڈسکاؤنٹ ملتا ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر یہ ڈسکاؤنٹ بینک دے رہاہو تو ڈسکاونٹ لینا ناجائز ہوگا اور اگر ہوٹل یا دوکاندار کی طرف سے مل رہا ہو تو اس کی گنجائش ہے اور اگر یہ معلوم نہ ہوسکے تو ایسی صورت میں اجتناب کرنا زیادہ بہتر ہے۔
فتاوی شامی میں ہے :
وَفِي الْأَشْبَاهِ كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا حَرَامٌ
(کتاب البیوع ،باب المرابحۃ والتولیۃ 5/166 ط سعید )
فتاوی ہندیہ میں ہے :
في كتاب الصرف إن أبا حنيفة - رحمه الله تعالى - كان يكره كل قرض جر منفعة
(کتاب البیوع ،الباب التاسع عشر فی القرض 3/202 ط رشیدیہ)
دارالافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن کی ویب سائٹ میں ہے :
واضح رہے کہ کریڈٹ کارڈ کا بنوانا اور اس کا استعمال کسی صورت درست نہیں۔ البتہ ڈیبٹ کارڈ (Debit Card)بنوانا اور اس کا استعمال کرنا جائز ہے۔ تاہم اس کے استعمال پر ملنے والے ڈسکاؤنٹ کے جائز اور ناجائز ہونے میں درج ذیل تفصیل ہے:
ڈیبٹ کارڈ کے ذریعہ ادائیگی کی صورت میں جو رعایت (Discount) ملتی ہے، دیکھا جائے گا کہ وہ بینک کی طرف سے مل رہی ہے یا جہاں کھانا کھانے گئے ہیں ان کی طرف سے ہے، اگر یہ رعایت بینک کی طرف سے ملتی ہوتو اس صورت میں رعایت حاصل کرنا شرعاً ناجائز ہوگا، کیوں کہ یہ رعایت بینک کی طرف سے کارڈ ہولڈر کو اپنے بینک اکاؤنٹ کی وجہ سے مل رہی ہے جو شرعاً قرض کے حکم میں ہے اور جو فائدہ قرض کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے وہ سود کے زمرے میں آتا ہے۔البتہ اگر یہ رعایت اس ہوٹل کی طرف سے ہو جہاں کھانا کھانے گئے ہوں تو یہ ان کی طرف سے تبرع واحسان ہونے کی وجہ سے جائز ہوگا، اگر رعایت دونوں کی طرف سے ہو تو بینک کی طرف سے دی جانے والی رعایت درست نہ ہوگی۔
لہذا اگر آپ کسی کے ساتھ کھانا کھانے جائیں اور وہ کارڈ سے پیمنٹ کرے تو اس کو مسئلہ سے آگاہ کیا جائے ۔ اگر پہلے اس طرح کھانا کھاچکے ہیں اور اس شخص کی اصل رقم حلال تھی تو حلال رقم غالب ہونے کی وجہ سے گنجائش ہوگی، تاہم آئندہ اگر وہ نہ مانے تو اس کے ساتھ کھانے پر جانے سے اجتناب کیا جائے . فقط واللہ اعلم
(فتوی نمبر : 144012201259)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
|
فتوی نمبر:554 |
تاریخ :15ربیع الثانی1448ھ/28 ستمبر 2026ء |
