info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

بیٹا،بیٹی،بہو،پوتا،پوتی تقسیم ترکہ

سوال

ہمارے والد مرحوم خلیل احمد کا انتقال 2016ء میں  ہوا،ان کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں بیوہ(شمیمہ بانو)،دو بیٹے (طارق،خالد)اور تین بیٹیاں(سلمیٰ زرین،روشن ناز،زیبا محمود ) حیات تھیں:

پھر اس کے بعد شمیمہ بانو کا انتقال ہوا 2022 میں

پھر روشن ناز کا انتقال ہوا 2022 میں (یہ غیر شادی شدہ تھیں)

پھر سلمیٰ زرین کا انتقال ہوا 2025 میں (یہ بھی غیر شادی شدہ تھیں)

پھر خالد احمد کا انتقال ہوا 2025 میں (خالد کے ورثاء میں ان کی بیوہ زرقا،بیٹا محمداور بیٹی جویریہ شامل ہے)

اب آپ سے سوال یہ ہے کہ مرحوم خلیل احمد کی جائیداد کو تقسیم کیا جارہا ہے اور اب ان کے موجودہ ورثاء میں ان کا بیٹا(طارق)بیٹی (زیبا محمود) مرحوم خالد کی بیوہ (زرقا) اور مرحوم خالد کا بیٹا(محمد) اور اس کی بیٹی (جویریہ) ہیں ،ان سب ورثاء کے درمیان ترکہ کس طرح تقسیم ہوگا ؟

سائل:محمد طارق

جواب

صورت مسؤلہ میں مرحوم خلیل احمد کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں ان کی بیوہ (شمیمہ بانو) دو بیٹے (طارق،خالد)اور تین بیٹیاں(سلمیٰ زرین،روشن ناز،زیبا محمود ) حیات تھیں،پھر شمیمہ بانو کا انتقال ہوا،اس کے بعد روشن ناز کا انتقال ہوا(اور یہ غیر شادی شدہ تھیں)پھر اس کے بعد سلمیٰ زرین (یہ بھی غیر شادی شدہ تھیں)کا انتقال ہوا،پھر اس کے بعد خالد کا انتقال ہوا ،اور اب مرحوم خلیل احمد کے موجودہ ورثاءمیں ان کا بیٹا (طارق) ،بیٹی (زیبا محمود)،بہو(زرقا)،پوتا(محمد)اور پوتی (جویریہ) حیات ہیں،اور مرحوم کا ترکہ شرعاً ان ورثاء میں تقسیم ہوگا۔

 مرحوم خلیل احمد کے ترکہ تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے حقوق مقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد ،اگر مرحوم پر کوئی قرضہ ہو تو اسے ادا کرکے ،اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی مال سے نافذ کرکے بقیہ کل جائیداد منقولہ وغیر منقولہ کو 60 حصوں میں تقسیم کیا جائے،مرحوم کے بیٹے (طارق)کو 24 حصے،مرحوم کی بیٹی (زیبا محمود)کو 12 حصے،مرحوم کی بہو(زرقا)کو 3حصے،مرحوم کے پوتے(محمد بن خالد)کو 14 حصے اور پوتی (جویریہ بنت خالد )کو 7حصے ملیں گے۔

صورت تقسیم یہ ہوگی:

یعنی مرحوم خلیل احمد کی جائیدادمیں سے ان کے بیٹے(طارق)کو 40 فیصد حصہ،ان کی بیٹی (زیبا محمود) کو 20 فیصد حصہ،ان کی بہو (زرقا) کو 5 فیصد حصہ،ان کےپوتے(محمد) کو 23.33فیصد حصہ اور ان کی پوتی(جویریہ)کو 11.66 فیصد حصہ ملے گا۔

                                                           واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

فتوی نمبر:564

تاریخ :25ربیع الثانی1448ھ/8اکتوبر 2026ء