فتوے
بھائی،بہن،بھابھی،بھتیجا،بھتیجی (مناسخہ)
سوال
محترم مفتی صاحب !
ہماری ایک ہمشیرہ روشن ناز جس کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا اس کو ہمارے والد مرحوم نے ایک پلاٹ دیا تھا لیکن اپنی وفات سے قبل والد مرحوم نے یہ خواہش ظاہر کی تھی میں وہی پلاٹ اپنے بھتیجے محمد عتیق اللہ کو دینا چاہتا ہوں لیکن والد صاحب کا انتقال ہوگیا اور ان کی زندگی میں یہ کام نہیں ہوسکا ،اور اب ہماری بہن روشن ناز کا بھی انتقال ہوگیا ہے ،اور ان کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء یہ تھے۔دو بھائی (خالد،طارق)دو بہنیں (زیبا محمود،سلمیٰ)،ہماری والدہ کا انتقال روشن ناز سے پہلے ہوچکا تھا ۔پھر سلمیٰ کا بھی انتقال ہوگیا ہے اور وہ غیر شادی شدہ تھیں ،ان کے انتقال کے بعد بھائی خالد کا بھی انتقال ہوا،خالد کے ورثاء میں اس کی بیوہ(زرقا) ایک بیٹا(محمد)اور بیٹی (جویریہ) شامل ہے۔
اب روشن ناز کےمذکورہ پلاٹ کے ورثاء میں ایک بھائی طارق،بہن زیبا محمود،بھائی خالد مرحوم کی بیوہ(زرقا)خالد مرحوم کا بیٹا(محمد) اور بیٹی (جویریہ) شامل ہیں ،ہم تمام ورثاء اپنی رضامندی اور خوشی سے مذکورہ پلاٹ محمد عتیق اللہ کو دینا چاہتے ہیں،اور اس کے متعلق آپ سے پہلے فتوی بھی لے چکے ہیں ( جس کا رجسٹریشن نمبر 515 ہے)۔اب آپ سے درخواست ہے کہ یہ بتادیں کہ ہم سے ہر وارث کا کتنا حصہ بنتا ہے تاکہ اس پلاٹ کو شرعی طریقہ کے مطابق تقسیم کرکے پھر ہر وارث اپنے حصے پر قبضہ کرکے عتیق اللہ کو مذکورہ پلاٹ ہدیہ کرسکے۔
جواب
صورت مسؤلہ میں مرحومہ روشن ناز کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں دو بھائی (طارق،خالد) اوردو بہنیں (زیبا محمود ،سلمیٰ) حیات تھیں ،پھر سلمیٰ کا انتقال ہوگیا اور وہ غیر شادی شدہ تھیں پھر اس کے بعد بھائی(خالد) کا انتقال ہوا لہذا روشن ناز کاترکہ اب ان کے بھائی(طارق) بہن(زیبا محمود) اور بھائی (خالد مرحوم )کے ورثاء(بیوہ،بیٹااور بیٹی) میں تقسیم ہوگا۔
روشن ناز مرحومہ کا ترکہ تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مرحومہ کے حقوق مقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد اگر مرحومہ پر کوئی قرضہ ہو تو اسے ادا کرکے اور اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی مال سے نافذ کرکے بقیہ کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو 60 حصوں میں تقسیم کیا جائے،مرحومہ کے بھائی (طارق) کو 24 حصے،مرحومہ کی بہن (زیبا محمود) کو 12 حصے،مرحومہ کی بھابھی (زرقا) کو 3 حصے،مرحومہ کا بھتیجا (محمد) کو 14 حصے اور بھتیجی (جویریہ) کو 7 حصے ملیں گے۔
صورت تقسیم یہ ہوگی:

یعنی مرحومہ روشن ناز کی جائیداد(مکان) میں سے ان کے بھائی (طارق)کو 40 فیصد حصہ،ان کی بہن (زیبا محمود) کو 20 فیصد حصہ،ان کی بھابھی (زرقا) کو 5 فیصد حصہ،ان کے بھتیجے(محمد) کو 23.33فیصد حصہ اور ان کی بھتیجی(جویریہ)کو 11.66 فیصد حصہ ملے گا۔
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
|
فتوی نمبر:559 |
تاریخ :22ربیع الثانی1448ھ/5اکتوبر 2026ء |
