مدرسہ عارف العلوم
فتوے
PrimeXBT میں Leverage اور CFD Tradingکا حکم
سوال
میں ایک online trading platform PrimeXBT استعمال کرتا ہوں۔ میں SMCI (Super Micro Computer) جیسے امریکی stocks میں trading کرنا چاہتا ہوں۔
میری سمجھ کے مطابق اس platform پر CFD (Contract for Difference) کے ذریعے trading ہوتی ہے، یعنی میں اصل کمپنی کے shares خرید کر ان کا مالک نہیں بنتا بلکہ share کی قیمت کے اوپر جانے یا نیچے آنے سے profit/loss ہوتا ہے۔
Platform پر leverage کا option بھی موجود ہے، مثلاً 2× leverage۔ اگر میرے account میں $95 ہوں تو 2× leverage کے ذریعے میں تقریباً $190 کی position لے سکتا ہوں، جبکہ اصل رقم میرے پاس $95 ہی ہے۔
اس کے علاوہ platform پر "Financing (Long/Short)" charges بھی دکھائے جاتے ہیں، جو position کو overnight رکھنے پر لاگو ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ایک admin fee بھی ہے۔
میرا سوال یہ ہے:
1. کیا اس طرح CFD کے ذریعے stocks کی trading شرعاً جائز ہے؟
2. اگر میں leverage استعمال نہ کروں اور صرف اپنے $95 کے مطابق position لوں، تو کیا یہ trading جائز ہوگی؟
3. اگر 2× leverage استعمال کروں اور platform اضافی رقم کی exposure دے، تو کیا یہ شرعاً قرض کے حکم میں آئے گا؟
4. اگر اس leverage/position پر Financing (Long/Short) charge لیا جاتا ہے، تو کیا یہ سود (ربا) کے زمرے میں آتا ہے؟
5. اگر leverage استعمال نہ کیا جائے لیکن پھر بھی یہ CFD ہو اور اصل shares کی ملکیت حاصل نہ ہو، تو کیا یہ جائز ہے؟
6. اگر یہ طریقہ ناجائز ہے تو براہِ کرم شرعی طور پر جائز متبادل طریقہ بھی بتا دیں جس کے ذریعے میں حلال stocks میں investment کر سکوں۔
براہِ کرم اس معاملے کا تفصیلی شرعی حکم قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں بیان فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً۔
جواب
تفصیلات دیکھیں
میت کے والدین اگر اپنا حصہ پوتی کو ہدیہ کرنا چاہتے ہیں تو اس کا طریقہ
سوال
محترم جناب مفتی صاحب
ایک مسئلہ یہ ہے کہ انتقال ہونے کے بعد وراثت کب تک تقسیم ہونی چاہیے؟ مرحوم کی بیوہ ہے ،ایک بیٹی ہے 3 سال کی، اور والدین الحمدللہ حیات ہیں مرحوم کے پاس کچھ نقدی بائیک اور کمرے کا فرنیچر موبائل لیپ ٹاپ وغیرہ تھا یہ سب اسکا مال تھا۔ اب فرنیچر تو کمرے میں ہی ہے مرحوم، والدین کے گھر میں انکے ساتھ ہی رہتے تھے ، اور فرنیچر وغیرہ سب والدین نے اپنے بیٹے کو دیا تھا ، اب اسکی تقسیم وراثت کیا ہوگی ؟ جو حصہ والدین کی طرف آرہا ہے وہ سب مرحوم کی بیٹی کو دینا چاہتے ہیں، کیا ترتیب ہوگی ؟ والی کون ہوگا ؟ بچی کا خرچہ والدین نے علی الاعلان اپنے ذمہ لیا ہے یعنی والدین کو کسی مال کی ضرورت نہیں ہے اور آگے مرحوم کی بیوہ اور بچی پر خرچہ کی کوئی تنگی نہیں ہے ۔
مگر شرعی طور وراثت کو تقسیم کرنا چاہتا ہوں یعنی کہ مرحوم کے مال میں سے بچی کے حصہ میں جو رقم آئے گی وہ اسی کی ہی ہوگی جو بیوہ کے حصے میں آئے گی وہ بیوہ کی ہوگی ، اور جو والدین کے حصے میں آئے گی ، وہ والدین مرحوم کی بیٹی کو ہی ہبہ کرنا چاہتے ہیں۔
مرحوم کے سامان کی کل مالیت کا تخمینہ 377000 لگایا گیا ہے، آج کے اعتبار سے قیمت فروخت لگائی گئی ہے
مرحوم کی بیوہ، ایک بیٹی عمر 3 سال،والد،والدہ۔اس کی شرعی تقسیم کردیں
بیڈروم فرنیچر مرحوم کا تھا ، اسکی قیمت فروخت ڈیڑھ لاکھ لگائی گئی ہے
کیا یہ مال وراثت میں بچی کی طرف منتقل کیا جاسکتا ہے یا اسکو بیچا جائے گا؟
جواب
تفصیلات دیکھیں
فدیہ کی رقم میت کی بیٹی اور بیوہ کو دینے کا حکم
سوال
ایک شخص کا انتقال ہوا اور اس کی نماز اور روزوں کا فدیہ کے بارے میں پوچھنا ہے، مرحوم کی عمر 34 یا 35 سال کے لگ بھگ تھی۔ درمیان میں کچھ سال بیماری کی وجہ سے نماز اور روزے چھٹے تھےبعد میں انکی قضاء کی یا نہیں اسکا علم نہیں ہے ، اب انکا کوئی قریبی اپنے مال سے مرحوم کی طرف سے نماز روزوں کا فدیہ دینا چاہتا ہے مرحوم کے مال سے نہیں اسکا کیا طریقہ ہے ؟اندازاً دیدے ۔
دوسرا سوال یہ ہیکہ کیا یہ فدیہ مرحوم کی بیوہ یا بیٹی کو دیا جاسکتا ہے ؟کیونکہ وہ مال دار نہیں تھے ۔
تیسرا سوال یہ ہیکہ اس رقم سے مرحوم کی بیٹی کے لئیے کوئی فلیٹ وغیرہ لے لیا جائے اور وہ مرحوم کی بیٹی کے ہی کام آئے ۔ یا اس رقم سے کسی مدرسہ کی تعمیر کروئی جائے؟
جواب
تفصیلات دیکھیں
کاروبار کے لئے بینک سے 50 لاکھ روپے کا قرضہ لینے کا حکم
سوال
عنوان: HBL سے 50 لاکھ روپے کی فنانسنگ، 14 فیصد شرح اور زمین رہن رکھنے کا شرعی حکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!محترم مفتی صاحب!میں پاکستان کا رہائشی ہوں اور اپنے مالی حالات بہتر کرنے کے لیے لائیو اسٹاک، یعنی مویشیوں کی خرید و فروخت اور پرورش کا کاروبار شروع کرنا چاہتا ہوں۔ اس مقصد کے لیے میں حبیب بینک لمیٹڈ (HBL) سے 50 لاکھ روپے کی فنانسنگ حاصل کرنا چاہتا ہوں۔بینک کے نمائندے کے مطابق اس رقم کی مدت پانچ سال ہوگی اور اس پر تقریباً 14 فیصد شرح لاگو ہوگی۔ مجھے ہر تین ماہ بعد قسط ادا کرنا ہوگی، جس میں اصل رقم اور اضافی رقم شامل ہوگی۔ بینک کے نمائندے کا کہنا ہے کہ یہ سود کے زمرے میں نہیں آتی۔اس فنانسنگ کے بدلے میں اپنی زمین بینک کے پاس بطور ضمانت رہن رکھوں گا۔ جب میں پانچ سال کے اندر بینک کی واجب الادا رقم مکمل ادا کر دوں گا، یا یکمشت ادائیگی کرکے تمام واجبات کلیئر کر دوں گا، تو بینک میری زمین کو رہن سے آزاد کرکے ریلیز کر دے گا۔میرا ارادہ ہے کہ اس رقم سے جانور خرید کر حلال کاروبار کروں اور اپنے خاندان کے اخراجات پورے کروں۔میرے سوالات درج ذیل ہیں:
1. کیا 50 لاکھ روپے کی اس فنانسنگ پر 14 فیصد اضافی رقم ادا کرنا شرعاً سود کے زمرے میں آتا ہے؟
2. کیا زمین کو بینک کے پاس بطور ضمانت رہن رکھنے سے اس معاملے کے شرعی حکم پر کوئی فرق پڑتا ہے؟
3. اگر بینک اس فنانسنگ کو غیر سودی قرار دیتا ہے تو اس کے جائز ہونے کے لیے کن شرعی شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے؟
4. میرے مالی حالات خراب ہونے کی صورت میں کیا اس طرح کی فنانسنگ لینے کی کوئی شرعی گنجائش ہے؟
5. اگر یہ طریقہ شرعاً جائز نہ ہو تو لائیو اسٹاک کاروبار کے لیے کوئی جائز متبادل تجویز فرمائیں۔براہ کرم معاہدے کی شرائط اور قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں اور تحریری فتویٰ عنایت کریں، تاکہ میں معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے درست شرعی فیصلہ کر سکوں۔جزاکم اللہ خیراً۔والسلام
جواب
تفصیلات دیکھیں
قبضہ تام کے بعد جائیداد موھوب لہ کی ملکیت ہوجاتی ہے
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔میرے سگے چچا نے مجھے اپنی اولاد کی طرح گود لیا اور اپنی زندگی میں اپنی تمام جائیداد میرے نام ہبہ کردی، جس کا انتقال بھی میرے نام ہوا اور قبضہ بھی مجھے دے دیا گیا۔ میرے چچا کے چھ سگے بھائی تھے، جنہوں نے تحریری طور پر اپنے شرعی حقوق سے دستبرداری بھی دی تھی۔ میرے چچا کے بھتیجوں نے بھی جائیداد میرے نام منتقل ہوتے، قبضہ ملتے اور میرے استعمال میں رہتے ہوئے دیکھا، لیکن ان کی زندگی میں کوئی اعتراض نہیں کیا۔ اب میرے چچا کی وفات کے بعد وہ مجھ سے جائیداد میں حصہ طلب کر رہے ہیں۔شریعتِ حنفی کے مطابق کیا مکمل ہبہ، انتقال اور قبضے کے بعد میرے چچا کی وفات پر ان کے بھتیجے اس جائیداد میں حصہ مانگ سکتے ہیں؟ براہِ کرم قرآن و حدیث اور معتبر حنفی فقہی کتابوں کے حوالوں کے ساتھ رہنمائی فرمائیں۔جزاکم اللہ خیراً۔
وضاحت:جائیداد میں ان کی کچھ زرعی زمینیں تھیں ،اور اسی طرح ایک مکان جس کا اسٹرکیچر بنا ہوا تھا اس مکان کو ابتدا سے ہی رہائش اختیار کرنے سے بھی پہلے سائل کے چچا نےسائل کے نام کردیا تھا پھر سائل نے اس کی تعمیر مکمل کروائی اس کے بعد سائل اور اس کے چچا اس مکان میں رہتے رہے۔
جواب
تفصیلات دیکھیں
والدہ کے ترکہ میں والدکا تصرف کرنا
سوال
محترم مفتی صاحب!
ہم چار بھائی اور دو بہنیں ہیں،ہمارے والدین دونوں وفات پاچکے ہیں اور اب ہم ان کی وراثت تقسیم کرنا چاہتے ہیں،والدہ کے انتقال کے بعد ہماری دونوں بہنوں نے والدہ کے زیورات اپنے پاس رکھ لئے اور کہا کہ ہمارے والد صاحب نے اب یہ زیورات انہیں تحفے میں دئیے ہیں ،لیکن ہماری بہنوں کے پاس ا س بات کا کوئی ثبوت یا گواہ موجود نہیں کہ والد صاحب نے یہ سونا انہیں تحفے میں دینے کی بات کی تھی ،ہمارے والد صاحب نے بھی کبھی ہم سے یا خاندان میں سے کسی کے سامنے یہ نہیں کہا کہ انہوں نے یہ سونا ہماری بہنوں کو تحفے میں دے دیا ہے۔زیورات کا وزن 200 گرام سے زیادہ اور ان کی مالیت تقریباً 74 لاکھ روپے ہے،ہمارے مکان کی مالیت 3کروڑ 80 لاکھ روپے ہے،ہماری بہنیں زیورات اپنے پاس رکھنے کے باوجود مکان کی وراثت میں حصہ مانگ رہی ہیں۔برائے کرم راہنمائی فرمائیں کہ کیا زیورات تحفے میں دینے کے بارے میں ہماری بہنوں کا دعویٰ قابل قبول ہے؟
نوٹ:والدہ 2016 میں فوت ہوئی،والدہ کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں شوہر،چار بیٹے اور دو بیٹیاں حیات تھیں اور والد کا انتقال 2021 میں ہوا،ان کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں والدہ(ہماری دادی)،چار بیٹے اور دو بیٹیاں حیات تھیں۔پھر ہماری دادی کا انتقال 2024 میں ہوا ان کےانتقال کے وقت ان کے ورثاء میں ان کا ایک بیٹا(یعنی ہمارا چچا) حیات ہے۔
وضاحت:مذکورہ سونا والدہ کی ملکیت تھااور ان کے قبضہ میں تھا۔
جواب
تفصیلات دیکھیں
طلاق دے دیتا ہوں کہنے سے طلاق کا حکم
سوال
میرا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے طلاق کے بارے میں معلوم کرنا ہے،میری شادی کے دو یا تین سال بعد میرے میرے شوہر نے مجھے شراب کے نشے میں ایک بار بولا کہ"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"اور وہ یہ بول کر چپ ہوگئے کیونکہ میں رونے لگ گی تھی اور میں نے بولا کہ آپ یہ کیا کررہے ہیں وہ رات کا ٹائم تھا تو پھر وہ مجھ سے معافی مانگنے لگے،اس کے بعد میں دوپہر تک اپنی بہن کے گھر آگئی،پھر میں نے قریبی جامع مسجد سے معلوم کیا تو انہوں نے کہا کہ آپ رجوع کرسکتی ہیں،عدت کے اندر تو پھر میں نے دو تین دن کے بعد گھر آکر شوہر سے رجوع کرلیا،پھر اس کے بعد دو تین سال کے بعد اس وقت بھی میرے شوہر شراب کا نشہ کرتے تھے ،لیکن اس وقت نشے میں تھے یا نہیں یہ نہیں پتہ اس وقت پھر ہماری لڑائی ہورہی تھی اور اس وقت میرے شوہر کے دوست گھر پر تھے،تب پھر میرےشوہر نے مجھے کہا کہ "تمہیں طلاق دے دیتاہوں"میں پھر رونے لگی تو میرے شوہر نے کہا کہ میں نے یہ نہیں کہا کہ "میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں یا یہ نہیں کہا کہ "میں نے تمہیں طلاق دی"۔اس کے بعد ہم نے پھر قریبی جامع مسجد سے پتہ کروایا تو انہوں نے یہ کہا کہ یہ طلاق نہیں ہوئی اور نشہ بھی چھوڑ دیا اور میرے شوہر یہی کہتے ہیں کہ میں نے طلاق نہیں دی اور وہ کہتے ہیں کہ میں تمہیں ڈرانے کے لئے یہ کہتا ہوں تاکہ لڑائی ختم ہوجائے،اور اب شادی کو کافی عرصہ ہوگیا یعنی 20 سال تو اگر گھر میں کوئی لڑائی اگر زیادہ ہوجائے یا اگر میں زیادہ تکرار کروں تو یہی کہتے ہیں کہ پھر "میں تمہیں طلاق دے دیتا ہوں "یا پھر کہتے ہیں کہ "گھر سے نکل جاؤ۔
جواب
تفصیلات دیکھیں