مدرسہ عارف العلوم
فتوے
طلاق دے دیتا ہوں کہنے سے طلاق کا حکم
سوال
میرا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے طلاق کے بارے میں معلوم کرنا ہے،میری شادی کے دو یا تین سال بعد میرے میرے شوہر نے مجھے شراب کے نشے میں ایک بار بولا کہ"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"اور وہ یہ بول کر چپ ہوگئے کیونکہ میں رونے لگ گی تھی اور میں نے بولا کہ آپ یہ کیا کررہے ہیں وہ رات کا ٹائم تھا تو پھر وہ مجھ سے معافی مانگنے لگے،اس کے بعد میں دوپہر تک اپنی بہن کے گھر آگئی،پھر میں نے قریبی جامع مسجد سے معلوم کیا تو انہوں نے کہا کہ آپ رجوع کرسکتی ہیں،عدت کے اندر تو پھر میں نے دو تین دن کے بعد گھر آکر شوہر سے رجوع کرلیا،پھر اس کے بعد دو تین سال کے بعد اس وقت بھی میرے شوہر شراب کا نشہ کرتے تھے ،لیکن اس وقت نشے میں تھے یا نہیں یہ نہیں پتہ اس وقت پھر ہماری لڑائی ہورہی تھی اور اس وقت میرے شوہر کے دوست گھر پر تھے،تب پھر میرےشوہر نے مجھے کہا کہ "تمہیں طلاق دے دیتاہوں"میں پھر رونے لگی تو میرے شوہر نے کہا کہ میں نے یہ نہیں کہا کہ "میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں یا یہ نہیں کہا کہ "میں نے تمہیں طلاق دی"۔اس کے بعد ہم نے پھر قریبی جامع مسجد سے پتہ کروایا تو انہوں نے یہ کہا کہ یہ طلاق نہیں ہوئی اور نشہ بھی چھوڑ دیا اور میرے شوہر یہی کہتے ہیں کہ میں نے طلاق نہیں دی اور وہ کہتے ہیں کہ میں تمہیں ڈرانے کے لئے یہ کہتا ہوں تاکہ لڑائی ختم ہوجائے،اور اب شادی کو کافی عرصہ ہوگیا یعنی 20 سال تو اگر گھر میں کوئی لڑائی اگر زیادہ ہوجائے یا اگر میں زیادہ تکرار کروں تو یہی کہتے ہیں کہ پھر "میں تمہیں طلاق دے دیتا ہوں "یا پھر کہتے ہیں کہ "گھر سے نکل جاؤ۔
جواب
صورت مسؤلہ میں سائلہ کو اس کے شوہر نےنشے کی حالت میں ایک مرتبہ ان الفاظ کے ساتھ طلاق دی کہ " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"تو ان الفاظ سے سائلہ ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی تھی پھر زوجین نے عدت میں رجوع کرلیا ،اس کے کئی سالوں بعد کسی لڑائی کے موقع پر سائلہ کے شوہر نے اس کو کہا کہ"تمہیں طلاق دے دیتا ہوں"اگر شوہر نے یہ الفاظ سوالیہ انداز میں یا مستقبل کے اعتبار سے یا دھمکی کے انداز میں استعمال کئے تھے تو ان الفاظ سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،نیز شوہر کا بیوی کو یہ کہنے کہ "گھر سے نکل جاؤ"اگر طلاق کی نیت سے نہ ہو تو ان الفاظ سے بھی طلاق واقع نہیں ہوتی،لیکن شوہر کو اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے سے احتراز کرنا چاہئے۔
تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:
صیغۃ المضارع لایقع بہ الطلاق الااذا غلب فی الحال کما صرح بہ الکمال بن الھمام
(کتاب الطلاق1/38 ط مکتبہ رشیدیہ )
کفایت المفتی میں ہے:
زید نے طلاق دے دوں گا کہا ہو جب تو یہ لفظ فضول ہے اور دیتا ہوں کہا ہو جب بھی یہ آئندہ دینے کے ارادہ پر محمول ہوگا ۔
(کتاب الطلاق،باب الطلاق الصریح 8/41 ط فاروقیہ)
دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے فتاوی میں ہے:
صورتِ مسئولہ میں شوہر کا دھمکی آمیز یا سوالیہ لہجے میں بیوی سے یہ کہنا کہ ’’فارغ کردیتا ہوں ، طلاق دے دیتا ہوں ، چھوڑدیتا ہوں ‘‘، ان الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوگی ۔ البتہ آئندہ کے لیے شوہر کو اس طرح کے الفاظ کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم
(طلاق دے دیتاہوں،چھوڑ دیتا ہوں کہنے کا حکم ،فتوی نمبر144109201629)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
|
کتاب:طلاق |
باب: وقوع طلاق وعدم وقوع طلاق |
|
|
|
فتوی نمبر:572 |
19 جمادی الاولیٰ 1448ھ/31اکتوبر 2026ء |
||
