مدرسہ عارف العلوم
فتوے
کاروبار کے لئے بینک سے 50 لاکھ روپے کا قرضہ لینے کا حکم
سوال
عنوان: HBL سے 50 لاکھ روپے کی فنانسنگ، 14 فیصد شرح اور زمین رہن رکھنے کا شرعی حکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!محترم مفتی صاحب!میں پاکستان کا رہائشی ہوں اور اپنے مالی حالات بہتر کرنے کے لیے لائیو اسٹاک، یعنی مویشیوں کی خرید و فروخت اور پرورش کا کاروبار شروع کرنا چاہتا ہوں۔ اس مقصد کے لیے میں حبیب بینک لمیٹڈ (HBL) سے 50 لاکھ روپے کی فنانسنگ حاصل کرنا چاہتا ہوں۔بینک کے نمائندے کے مطابق اس رقم کی مدت پانچ سال ہوگی اور اس پر تقریباً 14 فیصد شرح لاگو ہوگی۔ مجھے ہر تین ماہ بعد قسط ادا کرنا ہوگی، جس میں اصل رقم اور اضافی رقم شامل ہوگی۔ بینک کے نمائندے کا کہنا ہے کہ یہ سود کے زمرے میں نہیں آتی۔اس فنانسنگ کے بدلے میں اپنی زمین بینک کے پاس بطور ضمانت رہن رکھوں گا۔ جب میں پانچ سال کے اندر بینک کی واجب الادا رقم مکمل ادا کر دوں گا، یا یکمشت ادائیگی کرکے تمام واجبات کلیئر کر دوں گا، تو بینک میری زمین کو رہن سے آزاد کرکے ریلیز کر دے گا۔میرا ارادہ ہے کہ اس رقم سے جانور خرید کر حلال کاروبار کروں اور اپنے خاندان کے اخراجات پورے کروں۔میرے سوالات درج ذیل ہیں:
1. کیا 50 لاکھ روپے کی اس فنانسنگ پر 14 فیصد اضافی رقم ادا کرنا شرعاً سود کے زمرے میں آتا ہے؟
2. کیا زمین کو بینک کے پاس بطور ضمانت رہن رکھنے سے اس معاملے کے شرعی حکم پر کوئی فرق پڑتا ہے؟
3. اگر بینک اس فنانسنگ کو غیر سودی قرار دیتا ہے تو اس کے جائز ہونے کے لیے کن شرعی شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے؟
4. میرے مالی حالات خراب ہونے کی صورت میں کیا اس طرح کی فنانسنگ لینے کی کوئی شرعی گنجائش ہے؟
5. اگر یہ طریقہ شرعاً جائز نہ ہو تو لائیو اسٹاک کاروبار کے لیے کوئی جائز متبادل تجویز فرمائیں۔براہ کرم معاہدے کی شرائط اور قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں اور تحریری فتویٰ عنایت کریں، تاکہ میں معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے درست شرعی فیصلہ کر سکوں۔جزاکم اللہ خیراً۔والسلام
جواب
سودی معاملہ کرنا بہت بڑا گناہ ہے،پورے قرآن پاک میں سود ایک ایسا گناہ ہے جس کے لینے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنگ کا اعلان ہے،حضور ﷺ نے سود لینے والےپر،دینے والے پر ،اس معاملہ کے گواہ بننے والے پر سب پر لعنت کی ہے،حدیث شریف میں سود کا ایک لقمہ کھانے کو اپنی ماں کے ساتھ زنا کرنے سے بھی بدتر قرار دیا گیا ہے۔اور اس کے علاوہ بھی قرآن وحدیث میں اس گناہ کی بہت شدید وعید آئی ہیں،اس لئے مسلمان کو چاہئے کہ معمولی سے دنیا کے لئے اپنی عاقبت اور آخرت کو برباد مت کرے،اللہ تعالیٰ نے ہمیں معاش اور کاروبار کرنے کی اجازت دی ہے لیکن اس کے جائز ذرائع کو اختیار کرنا ضروری ہے،کاروبار کرنے کے لئے سودی قرضہ لینا حرام اور ناجائز ہے۔
1۔صورت مسؤلہ میں کاروبار کرنے لئے بینک( چاہئے وہ اسلامی ہو یا غیر اسلامی ہو) سے 14 فیصد اضافی رقم واپسی کرنے کی شرط پر قرضہ لینا ناجائز ،حرام اور سود ہے۔
2۔زمین رہن رکھوانے سے سودی قرضہ لینا حلال اور جائز نہ ہوگا۔
3۔بینک والوں کی بات شرعاً غلط اور ناقابل قبول ہے۔
4۔جائز نہیں ہے۔
5۔کسی شخص سے غیر سودی قرضہ لیا جائے اور اس سے کاروبار کیا جائے،حلال رقم اور اس سے شروع کیا جانے والا کاروبار اگرچہ چھوٹا اور محدود کیوں نہ ہو یہ سودی اور حرام رقم سے شروع کئے جانے والے بہت بڑے کاروبار سے زیادہ بہتر اور بابرکت ہوگا۔ان شاءاللہ
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (٢٧٨) فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ ﴾
(سورہ البقرہ 278،279)
ترجمہ: مومنو ! خدا سے ڈرو اور اگر ایمان رکھتے ہو تو جتنا سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو اگر ایسا نہ کرو گے تو خبردار ہوجاؤ (کہ تم) خدا اور رسول سے جنگ کرنے کے لئے (تیار ہوتے ہو) اور اگر توبہ کرلو گے (اور سود کو چھوڑ دو گے) تو تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے جس میں نہ اوروں کو نقصان اور نہ تمہارا نقصان۔(مولانا فتح محمد جالندھریؒ)
احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں:
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَعَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ الرِّبَا وَمُوَكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ» . رَوَاهُ مُسلم
(مشکوۃ المصابیح ،کتاب البیوع باب الربا الفصل الاول 2/855 رقم 2807 ط المکتب الاسلامی)
ترجمہ: حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے سود لینے والے پر سود دینے والے پر سودی لین دین کا کاغذ لکھنے والے پر اور اس کے گواہوں پر سب ہی پر لعنت فرمائی ہے نیز آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ سب (اصل گناہ میں) برابر ہیں اگرچہ مقدار کے اعتبار سے مختلف ہوں (مسلم)
عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يُبَالِي الْمَرْءُ مَا أَخَذَ مِنْهُ أَمِنَ الْحَلَالِ أم من الْحَرَام» . رَوَاهُ البُخَارِيّ
(مشکوۃ المصابیح ،کتاب البیوع باب الکسب وطلب الحلال الفصل الاول 2/842 رقم 2761 ط المکتب الاسلامی)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئیگا کہ آدمی کو جو مال ملے گا اس کے بارے میں وہ اس کی پرواہ نہیں کرے گا کہ یہ حلال ہے یا حرام (بخاری)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نبَتَ منَ السُّحْتِ وكلُّ لحمٍ نبَتَ منَ السُّحْتِ كَانَتِ النَّارُ أَوْلَى بِهِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ
(مشکوۃ المصابیح ،کتاب البیوع باب الکسب وطلب الحلال الفصل الثانی 2/845 رقم 2772 ط المکتب الاسلامی)
ترجمہ: اور حضرت جابر راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا وہ گوشت جس نے حرام مال سے پرورش پائی ہے جنت میں داخل نہیں ہوگا اور جو گوشت یعنی جو جسم حرام مال سے نشوونما پائے وہ دوزخ کی آگ ہی کے لائق ہے۔
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
|
کتاب: بیع |
باب: قرض |
|
|
|
فتوی نمبر:569 |
12 جمادی الاولیٰ 1448ھ/24اکتوبر 2026ء |
||
