مدرسہ عارف العلوم
فتوے
قبضہ تام کے بعد جائیداد موھوب لہ کی ملکیت ہوجاتی ہے
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔میرے سگے چچا نے مجھے اپنی اولاد کی طرح گود لیا اور اپنی زندگی میں اپنی تمام جائیداد میرے نام ہبہ کردی، جس کا انتقال بھی میرے نام ہوا اور قبضہ بھی مجھے دے دیا گیا۔ میرے چچا کے چھ سگے بھائی تھے، جنہوں نے تحریری طور پر اپنے شرعی حقوق سے دستبرداری بھی دی تھی۔ میرے چچا کے بھتیجوں نے بھی جائیداد میرے نام منتقل ہوتے، قبضہ ملتے اور میرے استعمال میں رہتے ہوئے دیکھا، لیکن ان کی زندگی میں کوئی اعتراض نہیں کیا۔ اب میرے چچا کی وفات کے بعد وہ مجھ سے جائیداد میں حصہ طلب کر رہے ہیں۔شریعتِ حنفی کے مطابق کیا مکمل ہبہ، انتقال اور قبضے کے بعد میرے چچا کی وفات پر ان کے بھتیجے اس جائیداد میں حصہ مانگ سکتے ہیں؟ براہِ کرم قرآن و حدیث اور معتبر حنفی فقہی کتابوں کے حوالوں کے ساتھ رہنمائی فرمائیں۔جزاکم اللہ خیراً۔
وضاحت:جائیداد میں ان کی کچھ زرعی زمینیں تھیں ،اور اسی طرح ایک مکان جس کا اسٹرکیچر بنا ہوا تھا اس مکان کو ابتدا سے ہی رہائش اختیار کرنے سے بھی پہلے سائل کے چچا نےسائل کے نام کردیا تھا پھر سائل نے اس کی تعمیر مکمل کروائی اس کے بعد سائل اور اس کے چچا اس مکان میں رہتے رہے۔
جواب
صورت مسؤلہ میں سائل کا بیان اگر واقعہ کے مطابق ہے کہ ان کے چچا نے اپنی تمام جائیداد (بشمول مکان اور زرعی زمینیں) سائل کو اپنی زندگی میں مالکانہ حقوق اور قبضہ کے ساتھ ہدیہ کردیا تھا تو مذکورہ تمام جائیداد سائل کی ملکیت ہے،اور اس میں کسی دوسرے بھتیجے کا شرعاً کوئی حق نہیں ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
(وَتَتِمُّ) الْهِبَةُ (بِالْقَبْضِ) الْكَامِلِ (وَلَوْ الْمَوْهُوبُ شَاغِلًا لِمِلْكِ الْوَاهِبِ لَا مَشْغُولًا بِهِ) وَالْأَصْلُ أَنَّ الْمَوْهُوبَ إنْ مَشْغُولًا بِمِلْكِ الْوَاهِبِ مُنِعَ تَمَامَهَا،
(کتاب الھبۃ 5/690 ط سعید)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
|
کتاب:ھبہ |
باب: صحیح اور غیر صحیح ہبہ |
فصل: |
|
|
فتوی نمبر:570 |
12 جمادی الاولیٰ 1448ھ/24اکتوبر 2026ء |
||
