فتوے
فدیہ کی رقم میت کی بیٹی اور بیوہ کو دینے کا حکم
سوال
ایک شخص کا انتقال ہوا اور اس کی نماز اور روزوں کا فدیہ کے بارے میں پوچھنا ہے، مرحوم کی عمر 34 یا 35 سال کے لگ بھگ تھی۔ درمیان میں کچھ سال بیماری کی وجہ سے نماز اور روزے چھٹے تھےبعد میں انکی قضاء کی یا نہیں اسکا علم نہیں ہے ، اب انکا کوئی قریبی اپنے مال سے مرحوم کی طرف سے نماز روزوں کا فدیہ دینا چاہتا ہے مرحوم کے مال سے نہیں اسکا کیا طریقہ ہے ؟اندازاً دیدے ۔
دوسرا سوال یہ ہیکہ کیا یہ فدیہ مرحوم کی بیوہ یا بیٹی کو دیا جاسکتا ہے ؟کیونکہ وہ مال دار نہیں تھے ۔
تیسرا سوال یہ ہیکہ اس رقم سے مرحوم کی بیٹی کے لئیے کوئی فلیٹ وغیرہ لے لیا جائے اور وہ مرحوم کی بیٹی کے ہی کام آئے ۔ یا اس رقم سے کسی مدرسہ کی تعمیر کروئی جائے؟
جواب
۔صورت مسؤلہ میں اگر مرحوم کی قضا نمازوں اور روزوں کا حتمی علم نہیں ہے تو اس کا اندازہ لگالیا جائے اوراحتیاطاً زیادہ سے زیادہ اندازہ لگایا جائے کہ اس سے زیادہ نماز یا روزہ مرحوم کے ذمہ نہیں ہوگا ۔پھر ہر فرض نماز ،وتر اور ایک روزہ کا فدیہ پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت کسی غریب ، فقیراور مستحق زکوۃ کو مالک بنا کر دینا ضروری ہے۔نیز مدرسہ کی تعمیر میں بھی مذکورہ رقم بغیر تملیک کے استعمال کرنا درست نہیں ہے۔
2۔مرحوم کی نماز یا روزوں کے فدیہ کی رقم اس کی بیٹی یا بیوہ کو دینا جائز نہیں اگرچہ وہ مستحق اور نادار ہوں۔
3۔فدیہ کی رقم سے مرحوم کی بیٹی کے لئے فلیٹ یا مکان لینا بھی جائز نہیں ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
(وَلَوْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صَلَوَاتٌ فَائِتَةٌ وَأَوْصَى بِالْكَفَّارَةِ يُعْطَى لِكُلِّ صَلَاةٍ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ) كَالْفِطْرَةِ (وَكَذَا حُكْمُ الْوِتْرِ) وَالصَّوْمِ، وَإِنَّمَا يُعْطِي (مِنْ ثُلُثِ مَالِهِ)
(کتاب الصلوۃ،باب قضاء الفوائت 2/72،73 ط سعید)
(قَوْلُهُ: أَيْ مَصْرِفِ الزَّكَاةِ وَالْعُشْرِ)۔۔۔۔۔۔ وَهُوَ مَصْرِفٌ أَيْضًا لِصَدَقَةِ الْفِطْرِ وَالْكَفَّارَةِ وَالنَّذْرِ وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ الصَّدَقَاتِ الْوَاجِبَةِ كَمَا فِي الْقُهُسْتَانِيِّ
(کتاب الزکاۃ ،باب مصرف الزکاۃ والعشر 2/339 ط سعید)
وَلَا) إلَى (مَنْ بَيْنَهُمَا وِلَادٌ) وَلَوْ مَمْلُوكًا لِفَقِيرٍ (أَوْ) بَيْنَهُمَا (زَوْجِيَّةٌ) وَلَوْ مُبَانَةً
(قَوْلُهُ: وَإِلَى مَنْ بَيْنَهُمَا وِلَادٌ) أَيْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْمَدْفُوعِ إلَيْهِ؛ لِأَنَّ مَنَافِعَ الْأَمْلَاكِ بَيْنَهُمْ مُتَّصِلَةٌ فَلَا يَتَحَقَّقُ التَّمْلِيكُ عَلَى الْكَمَالِ هِدَايَةٌ وَالْوِلَادُ بِالْكَسْرِ مَصْدَرُ وَلَدَتْ الْمَرْأَةُ وِلَادَةً وَوِلَادًا مُغْرِبٌ أَيْ أَصْلُهُ وَإِنْ عَلَا كَأَبَوَيْهِ وَأَجْدَادِهِ وَجَدَّاتِهِ مِنْ قِبَلِهِمَا وَفَرْعِهِ وَإِنْ سَفَلَ بِفَتْحِ الْفَاءِ مِنْ بَابِ طَلَبَ وَالضَّمُّ خَطَأٌ؛ لِأَنَّهُ مِنْ السَّفَالَةِ وَهِيَ الْخَسَاسَةُ مُغْرِبٌ كَأَوْلَادِ الْأَوْلَادِ وَشَمِلَ الْوِلَادَ بِالنِّكَاحِ وَالسِّفَاحِ فَلَا يُدْفَعُ إلَى وَلَدِهِ مِنْ الزِّنَا وَلَا مَنْ نَفَاهُ كَمَا سَيَأْتِي، وَكَذَا كُلُّ صَدَقَةٍ وَاجِبَةٍ كَالْفِطْرَةِ وَالنَّذْرِ وَالْكَفَّارَاتِ،
(کتاب الزکاۃ ،باب مصرف الزکاۃ والعشر 2/346 ط سعید)
نماز کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا میں ہے:
فدیہ کا مصرف وہی ہے جو زکوۃ اور صدقہ فطر کا مصرف ہے اور زیادہ مستحق وہ لوگ ہیں جو زیادہ حاجت مند ہیں جیسے مقروض وغیرہ،اور اگر دینی مدارس کے غریب طلبہ کو دیا جائے تو یہ بھی اچھا مصرف ہے۔
(فدیہ کا مصرف 3/176 )
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
|
کتاب: زکوۃ |
باب: مصارف زکوۃ |
فصل:۔ |
|
|
فتوی نمبر:568 |
تاریخ :12 جمادی الاولیٰ 1448ھ/24اکتوبر 2026ء |
||
