info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

میت کے والدین اگر اپنا حصہ پوتی کو ہدیہ کرنا چاہتے ہیں تو اس کا طریقہ

سوال

محترم جناب مفتی صاحب

ایک مسئلہ یہ ہے کہ  انتقال ہونے کے بعد وراثت کب تک تقسیم ہونی چاہیے؟ مرحوم کی بیوہ ہے ،ایک بیٹی ہے 3 سال کی، اور والدین الحمدللہ حیات ہیں مرحوم کے پاس کچھ نقدی بائیک اور کمرے کا فرنیچر موبائل لیپ ٹاپ وغیرہ تھا یہ سب اسکا مال تھا۔ اب فرنیچر تو کمرے میں ہی ہے مرحوم، والدین کے گھر میں انکے ساتھ ہی رہتے تھے ، اور فرنیچر وغیرہ سب والدین نے اپنے بیٹے کو دیا تھا ، اب اسکی تقسیم وراثت کیا ہوگی ؟ جو حصہ والدین کی طرف آرہا ہے وہ سب مرحوم کی بیٹی کو دینا چاہتے ہیں، کیا ترتیب ہوگی ؟ والی کون ہوگا ؟ بچی کا خرچہ والدین نے علی الاعلان اپنے ذمہ لیا ہے یعنی والدین کو کسی مال کی ضرورت نہیں ہے اور آگے مرحوم کی بیوہ اور بچی پر خرچہ کی کوئی تنگی نہیں ہے ۔

مگر شرعی طور وراثت کو تقسیم کرنا چاہتا ہوں یعنی کہ مرحوم کے مال میں سے بچی کے حصہ میں جو رقم آئے گی وہ اسی کی ہی ہوگی جو بیوہ کے حصے میں آئے گی وہ بیوہ کی ہوگی ، اور جو والدین کے حصے میں آئے گی ، وہ والدین مرحوم کی بیٹی کو ہی ہبہ کرنا چاہتے ہیں۔

مرحوم کے سامان کی کل مالیت کا تخمینہ 377000 لگایا گیا ہے، آج کے اعتبار سے قیمت فروخت لگائی گئی ہے

مرحوم کی بیوہ، ایک بیٹی عمر 3 سال،والد،والدہ۔اس کی شرعی تقسیم کردیں

بیڈروم فرنیچر مرحوم کا تھا ، اسکی قیمت فروخت ڈیڑھ لاکھ لگائی گئی ہے

کیا یہ مال وراثت میں بچی کی طرف منتقل کیا جاسکتا ہے یا اسکو بیچا جائے گا؟

جواب

شریعت مطہرہ نے اس بات کی ترغیب دی ہے کہ انتقال کے بعد ،وراثت تقسیم کرنے میں جس قدر ممکن ہوسکے جلدی کرنا چاہئے۔ ترکہ میں جو نقدی ہے اس کو شرعی طور پر تقسیم کرکے ہرایک وارث کو اس کا حصہ دینا ضروری ہے ، نقدی کے علاوہ میت کا دیگر  متروکہ سامان (فرنیچر،بیڈ،برتن ،الماریاں ،اے سی  وغیرہ)  اگر ورثاء آپس میں رضامندی سے تقسیم کرنا چاہتے ہیں توشرعاً اس کی گنجائش ہے اور ایسی صورت میں سامان کی قیمت(ویلیو) لگوانی کی ضرورت نہیں ہے،اور اگر باہمی رضامندی سے تقسیم ناممکن ہو تو پھر ان اشیاء کی قیمت لگواکر تمام ورثاء کو ان کے شرعی حصص کے بقدر تقسیم کردیا جائے ۔

 صورت مسؤلہ میں میت کے  ورثاء میں بیوہ ،بیٹی ،والدہ اور والد ہیں ۔ مرحوم کے والدین اپنی خوشی سے اپنا حصہ اپنی پوتی کو دینا چاہتے ہیں تو اس کا شرعاً طریقہ یہ ہے کہ پہلے وہ اپنے حصہ پر قبضہ کرلیں پھر اس کے بعد اگر وہ اپنی پوتی کو حصہ دینا چاہتے ہیں تو اس بچی کے حوالہ کردیا جائے،اور اگر وہ بچی نابالغ ہے تو اس کا ولی اور سرپرست شرعاً دادا ہے، تو دادا  جب  بچی کے مال پر قبضہ کرلے گا تو وہ تمام مال بچی کی ملکیت میں منتقل ہوجائے گا۔

مرحوم کے ترکہ کو تقسیم کرنے کا شرعاً طریقہ یہ ہے کہ میت کے حقوق مقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد اگر میت پر کوئی قرضہ تو اسے ادا کرکے اور اگر میت نے کوئی جائز وصیت کی ہو اسے ایک تہائی مال سے نافذ کرکے بقیہ کل جائیداد منقولہ وغیر منقولہ کو 24 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا،مرحوم کی بیوہ کو 3حصے ، بیٹی کو 12 حصے،والدہ کو 4 حصے اور والد کو 5 حصے  ملیں گے۔

فتاوی شامی میں ہے:

«(أَخْرَجَتْ الْوَرَثَةُ أَحَدَهُمْ عَنْ) التَّرِكَةِ وَهِيَ (عَرَضٌ أَوْ) هِيَ (عَقَارٌ بِمَالٍ) أَعْطَاهُ لَهُ (أَوْ) أَخْرَجُوهُ (عَنْ) تَرِكَةٍ هِيَ (ذَهَبٌ بِفِضَّةٍ) دَفَعُوهَا لَهُ (أَوْ) عَلَى الْعَكْسِ أَوْ عَنْ نَقْدَيْنِ بِهِمَا (صَحَّ) فِي الْكُلِّ صَرْفًا لِلْجِنْسِ بِخِلَافِ جِنْسِهِ (قَلَّ) مَا أَعْطَوْهُ (أَوْ كَثُرَ) لَكِنْ بِشَرْطِ التَّقَابُضِ فِيمَا هُوَ صَرْفٌ (وَفِي) إخْرَاجِهِ عَنْ (نَقْدَيْنِ) وَغَيْرِهَا بِأَحَدِ النَّقْدَيْنِ لَا يَصِحُّ (إلَّا أَنْ يَكُونَ مَا أُعْطِيَ لَهُ أَكْثَرَ مِنْ حِصَّتِهِ مِنْ ذَلِكَ الْجِنْسِ) تَحَرُّزًا عَنْ الرِّبَا، وَلَا بُدَّ مِنْ حُضُورِ النَّقْدَيْنِ عِنْدَ الصُّلْحِ وَعِلْمِهِ بِقَدْرِ نَصِيبِهِ شُرُنْبُلَالِيَّةٌ وَجَلَالِيَّةٌ وَلَوْ بِعَرَضٍ جَازَ مُطْلَقًا لِعَدَمِ الرِّبَا، وَكَذَا لَوْ أَنْكَرُوا إرْثَهُ لِأَنَّهُ حِينَئِذٍ لَيْسَ بِبَدَلٍ بَلْ لِقَطْعِ الْمُنَازَعَةِ.»

(کتاب الصلح،فصل فی  التخارج 5/642 ط سعید)

(وَهِبَةُ مَنْ لَهُ وِلَايَةٌ عَلَى الطِّفْلِ فِي الْجُمْلَةِ) وَهُوَ كُلُّ مَنْ يَعُولُهُ فَدَخَلَ الْأَخُ وَالْعَمُّ عِنْدَ عَدَمِ الْأَبِ لَوْ فِي عِيَالِهِمْ (تَتِمُّ بِالْعَقْدِ) لَوْ الْمَوْهُوبُ مَعْلُومًا وَكَانَ فِي يَدِهِ أَوْ يَدِ مُودِعِهِ، لِأَنَّ قَبْضَ الْوَلِيِّ يَنُوبُ عَنْهُ، وَالْأَصْلُ أَنَّ كُلَّ عَقْدٍ يَتَوَلَّاهُ الْوَاحِدُ يُكْتَفَى فِيهِ بِالْإِيجَابِ

(وَإِنْ وَهَبَ لَهُ أَجْنَبِيٌّ يَتِمُّ بِقَبْضِ وَلِيِّهِ)

(کتاب الہبۃ 5/694،695 ط سعید )

جامع الفصولين میں ہے :

لو قال وارث تركت حقي لا يبطل حقه إذ الملك لا يبطل بالترك والحق يبطل به

(الفصل الثامن والعشرون فی مسائل الترکۃ والورثۃ والدین2/40 ط اسلامی کتب خانہ)

 

        واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

فتوی نمبر:566

تاریخ :25ربیع الثانی1448ھ/8اکتوبر 2026ء