info@bismillah.com +(00) 123-345-11

مدرسہ عارف العلوم

فتوے

Banner

خبیث مرد خبیث عورتوں کے لئےکی صحیح تفسیر

سوال

مفتی صاحب مندرجہ ذیل تحریر کے بارے میں راہنمائی درکار ہے کہ یہ درست ہے یا نہیں؟

 ہمارے ہاں ایک بات بہت عام ہے۔۔،،

بری عورتیں برے مردوں کے لیے اور برے مرد بری عورتوں کے لیے ہیں۔

ہمارے ہاں "سورۃ نور" کی آیت نمبر 26 کا ترجمہ سراسر غلط لیا جاتا ہے.،

ترجمہ:-

"بدکار عورتیں بدکار مردوں کے لیے ہیں اور بدکار مرد بدکار عورتوں کے لیے۔۔"

پہلی بات یاد رکھیں قرآن مجید کی کسی بھی آیت کی تفسیر اسکے سیاق وسباق کے بغیر نہیں کی جا سکتی، اور ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمیں آدھا سچ بتانے کی عادت ہے ۔ اگر "سورۃ نور" کی آیت کے آگے پیچھے کی آیت کو پڑھا جاۓ تو صاف پتا چلتا ہے کہ یہاں پر آخرت کی بات ہو رہی ہے نہ کہ دنیا کی۔

آخرت میں بری عورتیں برے مردوں کے ساتھ جہنم میں ہونگی اور اچھی عورتیں اچھے مردوں کے ساتھ جنت میں ہونگی۔ اگر دنیا کی بات کریں تو دنیا میں "فرعون" کی بیوی مسلمان تھی اور "نوح علیہ السلام" کی بیوی کافر تھی۔

لہذا اس آیت کا ترجمہ ٹھیک سے سمجھ لیں کہ یہاں آخرت کا ذکر ہو رہا ہے نہ کہ دنیا کا۔

جواب

مفسرین کرام نے سورۃ النور کی آیت نمبر 26 ﵟٱلۡخَبِيثَٰتُ لِلۡخَبِيثِينَ وَٱلۡخَبِيثُونَ لِلۡخَبِيثَٰتِۖ وَٱلطَّيِّبَٰتُ لِلطَّيِّبِينَ وَٱلطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَٰتِۚ ﵞ [النور: 26]   جس کا ترجمہ یہ ہے کہ"گندی عورتیں گندے مردوں کے لائق ہ...

تفصیلات دیکھیں

Banner

مکتب میں پڑھنےوالے طلباء کو مارنے کی حدود

سوال

مفتیان کرام سے ایک سوال یہ پوچھنا ہے کہ بچے کو تادیبا مارنا جائز ہے یا نہیں، اگر تادیبا مارنا جائز ہے تو پھر اس کے مارنے کی قوت کی کوئی حد بندی ہے یا نہیں کیونکہ دیکھنا یہ آیا ہے کہ اداروں کے اندر جب بچوں کو مارا جاتا ہے تو اتنی آواز آتی ہے کہ پوری کلاس گونج جاتی ہے اور ماں باپ بھی بعض ان چیزوں کی اجازت دیتے ہیں کیا بچوں کو اس قدر بری طرح سے مارنا جائز ہے جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری زندگی کسی بچے کو نہیں مارا، شرعی لحاظ سے میرے مسئلے کا جواب دیں۔                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                  

جواب

تعلیم و تربیت کی غرض سے نابالغ بچوں کو انکے اولیاء کی اجازت سے مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ مارنا جائز ہے : مار نےکا اثر جسم پر  ظاہر نہ ہو اور ایک مرتبہ میں تین چپیٹ سے زیادہ نہ مارا جائے  ،لکڑی سے نہ مارا جائے ،بچے کے تحمل و استطاعت سے زیادہ...

تفصیلات دیکھیں

Banner

ساس کو شہوت کے ساتھ ہاتھ یا گلے لگانا

سوال

جناب محترم مفتی صاحب  مسئلہ یہ ہے کہ میرے شوہر اور میری والدہ کے 10 سال سے  ناجائز تعلقات ہیں ،اور انہوں نے قسم کھا کر کہا  ہے وہ میری والدہ کو شہوت کے ساتھ ہاتھ پکڑتے تھے اور گلے بھی لگاتے تھے اور اکیلے گھر میں بھی وقت ساتھ گذارا ہے تو اب ہمارا نکاح باقی رہتا ہے یا جو بھی بات ہے مجھے بتادیں۔

اگر طلاق واقع ہوجاتی ہے تو میں عدت کیسے کروں؟میرے گھر میں شوہر سے بچنا مشکل ہوگا ،اور میرے بھائی نے منع کردیا ہے کہ ہم نہیں رکھ سکتے اور میری بڑی بہن بول رہی ہیں کہ آجاؤ تو کیا میں ان کے گھر عدت گذار سکتی ہوں ،اور میں اپنے بچوں کا کیا کروں میں نہیں رکھ سکتی اور باپ کے پاس ان کا مستقبل خراب ہوجائے گا ،میرے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔

جواب

صورت مسؤلہ میں اگر واقعی سائلہ کے شوہر  اپنی ساس کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھتے  ہیں ،اور اس نے اپنی ساس کے جسم کے کسی عضو  کوبغیر حائل ہاتھ لگایا یا گلہ لگایا اور یہ سب کام شہوت کے ساتھ ہوں جس کی حد یہ ہے ہاتھ لگاتے وقت شرمگاہ میں حرکت ہ...

تفصیلات دیکھیں

Banner

یہ مجھ سے فارغ ہے

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ:

گھر میں ایک معمولی جھگڑے کے دوران مسمی محمد زکریا نے اپنے سالے (بیوی کے بھائی) سے مخاطب ہو کر اپنی بیوی کے بارے میں یہ جملہ کہا: "اب یہ مجھ سے فارغ ہے؟" اس پر سالے نے حیرت یا تصدیق کے لیے دوبارہ پوچھا کہ: "آپ کیا کہہ رہے ہو؟" تو محمد زکریا نے دوبارہ وہی لفظ دہراتے ہوئے کہا: "یہ مجھ سے فارغ ہے۔" سالے نے تیسری مرتبہ پھر پوچھا کہ: "کیا کہہ رہے ہو؟" تو محمد زکریا نے تیسری بار بھی یہی جملہ دہرایا کہ: "یہ مجھ سے فارغ ہے۔" واضح رہے کہ شوہر نے یہ لفظ "فارغ ہے" جملہ ملا کر تین مرتبہ استعمال کیا ہے، ۔

اب شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں درج ذیل سوالات کے جوابات عنایت فرمائیں:

مذکورہ بالا صورتِ حال میں اس جملے ("مجھ سے فارغ ہے") کے تین بار دہرانے سے شرعاً کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟

یہ طلاقِ رجعی ہے یا طلاقِ مغلظہ (بائنہ)؟

کیا اب دونوں کا نکاح قائم ہے، یا رجوع کی کوئی صورت ممکن ہے، یا پھر میاں بیوی کا ساتھ رہنا اب حرام ہو چکا ہے؟

برائے مہربانی قرآن و حدیث اور فقہ حنفی کی روشنی میں تفصیلی شرعی حکم (فتویٰ) صادر فرما کر ممنون فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ" بیوی مجھ سے فارغ ہے" یہ کنائی طلاق کے الفاظوں  میں سے ایک لفظ ہے جس کا حکم یہ ہے کہ رضامندی کی حالت میں شوہر کی نیت کے بغیر طلاق نہیں ہوتی البتہ مذاکرہ طلاق یا غصہ کی حالت میں بغیر نیت طلاق بھی ایک   طلاق بائن واقع ہوجاتی...

تفصیلات دیکھیں

Banner

والد مرحوم کے نام پلاٹ نکلا تو کیا سب ورثاء کا حق ہوگا

سوال

مؤدبانہ گذارش ہے۔میں نے ایک عدد ممبر شپ 2015/4/23 فیس 25000 روپے جو کہ گورنمنٹ اسکیم فیڈرل جس کا نام federal govt.employers  housing foundation Islamabad membership phase 2جو کہ ریٹائر گورنمنٹ سروینٹ اور حاضر سروس  ودیگر میں ممبر شپ فیس مبلغ 25000 روپے والد محترم محمد یامین کے فارم میں جمع کرائی تھی،والد محترم 17 گریڈ کے ریٹائر گورنمنٹ سرونٹ تھے ،دفتری،کاغذی کاروائی اور دیگر فارم مکمل کرنے کے بعد فارم (والد محترم کے آفس سے تصدیق کے بعد)فیس 25000 روپے askari comm. Bank جو کہ nominalled تھا جمع کروائی اپنے پاس سے۔

والد صاحب کے مشورہ اور رضامندی سےسال بتاریخ 2017/2/23 میں والد محترم کا پلاٹ اسکیم میں نکل آیا اس کا خط آیا جس میں 387500 قسط جمع کروانا کا کہا گیا (پندرہ دن کے اندر)میں نے وہ پہلی قسط 387500 روپے اپنے ایک دوست سے پیسے، لیکر جمع کروائی۔

کچھ عرصے کے بعد یہ اسکیم بند ہونے کی خبر ملی جس پر والد محترم سے مشورہ کیا جس میں یہ طے پایا کہ ہم قسط کا amount جو کہ 387500 تھا اس کو واپس لے لیں۔

بعد از درخواست کے ذریعہ قسط واپسی کے لئے اپلائی کیا ،درخواست دی اور کچھ دنوں کے بعد پہلی قسط کی قیمت 387500 روپے واپس مل گی،اور میں نے وہ رقم اپنے دوست کو واپس کردی ۔والد محترم کی خواہش یہ تھی کہ پلاٹ اسلام آباد میں نکل آئے اور میں اپنے بیٹے کو دے دوں ،2021-2022 سے والد صاحب بیمار رہنے لگے،ہسپتالوں میں داخل ہوئے اور مستقل زیر علاج رہے،اس دوران اسلام آباد سے مختلف ایجنٹ حضرات کے فون آئے ان کے پاس  کہ ہم آپ سے agreement کرتے ہیں ،آپ کی جو ممبر شپ جو 25000 روپے جو کہ 2015 میں جمع کروائی تھی،اب ایک  dealing through agreement  کرلیں ،ہم آپ کو اچھے پیسے دیں گے،لیکن انہوں نے کسی سے agreement نہیں کیا ۔جبکہ اچھی آفرز آئی ان کو ۔سال 2025 میں کافی بیمار ہوئے ،جنوری میں ہسپتال میں داخل کیا ،پھر گھر آگئے،4 فروری 2025 کو قضائے الہی سے انتقال کرگئے،3 اکتوبر 2025 کو والدہ انتقال فرماگئیں۔

اب گذارش میری یہ ہے کہ مستقبل میں اگر کوئی letter والد مرحوم کے نام آتا ہے تو وہ ترکہ میں آئے گا یا جو وہ اپنی زندگی میں خواہش رکھتے تھے کہ میں اپنے بیٹے کو دےد وں۔دیگر یہ کہ کاغذائی کاروائی جو govt  کی ( اس کے بارے میں راہنمائی فرمائیے  کہ ورثاء میں آٹھ بیٹیاں شادی شدہ اور ایک بیٹا شادی شدہ) برائے مہربانی وضاحت فرمائیے اور راہنمائی فرمائیے ،حل بتائیے ۔

Member ship fee rs 25000 in the year 2015(23/4/2015) complete file  مکمل فائل میرے پاس ہے جس میں تمام کاغذات منسلک ہیں۔

خلاصہ سؤال:والد صاحب مرحوم کے نام اسلام آباد میں ایک پلاٹ الاٹ ہوا تھا ،اور اس کی ایک قسط بھی جمع کرادی تھی ،پھر بعد میں وہ اسکیم بند ہوگی  اور رقم واپس لے لی گئ تھی ،لیکن والد صاحب کے نام وہ ممبر شپ ابھی تک برقرار ہے اور مستقبل قریب میں ممکن ہے کہ اسی ممبر شپ کی بنیاد پر دوبارہ کوئی پلاٹ نکل آئے یا پراپرٹی ڈیلر ایجنٹ حضرات کے دوبارہ سے فون آتے ہیں کہ ممبر شپ والد مرحوم کے حوالہ سے ،کہ ہم سے معاہدہ کرلیں  ڈیل کرلیں ممبر شپ  کی بنیاد پر تو سوال یہ ہے کہ یہ والد مرحوم کا ترکہ شمار ہوگا یا بیٹے کی ملکیت ہوگا۔

جواب

صورت مسؤلہ میں سائل نے اپنے  والد محمد یامین مرحوم کے نام ان کی زندگی میں سرکاری اسکیم کے تحت  اسلام آباد کی سوسائٹی میں پلاٹ کے حصول کے لئے 25000 روپے کی ممبر شپ جمع کروائی گی تھی جس کی بنیاد پر سائل کے والد کے نام  کا ایک پلاٹ اسلام...

تفصیلات دیکھیں

Banner

شوہر حرام کماتا ہو تو بیوی کے لئے کیا حکم ہے

سوال

مفتی صاحب اللہ تعالیٰ کی آپ پر رحمت ہو۔

میں آپ کے مدرسہ کی طالبہ ہوں میرا ایک مسئلہ حل فرماکر مجھے اس ذہنی اذیت سے نجات دلائیں۔میرے شوہر نے اپنا پیسہ بینک میں فکسڈ کیا ہوا ہے  اور اس سے جو منافع آتا ہے وہ گھر میں خرچ کرتے ہیں ،میں نے بارہا سمجھا یا کہ یہ سود ہے ،لیکن ایک تو ان کے پاس یہ وجہ ہے کہ وہ ہارٹ مریض ہیں ،ڈاکٹر نے ان کو کام سے منع کیا ہے ،دوسرے کاروبار وغیرہ میں بھی ہاتھ ڈالنے سے ڈرتے ہیں کہ پیسے برباد ہوجائیں گیں ،چار پانچ سال ہوگئے میرا ان سے اس بات پر تنازعہ رہتا ہے اور بجائے سمجھنے کے مجھ پر بگڑتے ہیں ،دین سے بھی دوری کا نتیجہ ہے ،اب جب سے میں نے مدرسہ جوائن کیا ہے تو بے چین ہوں کیا میں ان سے علیحدہ ہوجاؤں ؟میرے دو بچے ہیں ،ایک فرسٹ ائیر میں ہے اور ایک انٹر میں ہے۔

گھر میں ا س سودی رقم میں 20 ہزار روپے خرچ کرتے ہیں ،میں بھی جاب کرتی ہوں اسکول میں تو اپنا خرچہ اور بچوں کی تعلیم کا خرچہ اٹھاتی ہوں کیونکہ بچوں کو بھی پڑھانا ہے اور بچے ابھی کسی قابل نہیں ہیں ،اگر میں علیحدہ رہنے کا فیصلہ کروں تو گھر کا کرایہ اور راشن کا انتظام نہیں کرسکوں گی ،میری تنخواہ 27k ہے ،آپ بتائیں مجھے کیا کرنا چاہئے ؟ سود خور کے ساتھ رہنا سہنا بحیثیت ایک بیوی اور اس کی کمائی (سود) سے کھانا پینا کیسا ہے؟اس سلسلے میں دین کا کیا حکم ہے؟

میں نے اپنے بھائیوں اور گھر والوں سے بھی بات کی لیکن سب اپنے اپنے گھروں کی کفالت کررہے ہیں ،مفتی صاحب اس بہن کی ضرور مدد فرمائیں ،ایسا نہ ہو کہ میرے سارے اعمال ضائع ہوجائیں اور آخرت میں پکڑ ہوجائے۔

جواب

صورت  مسؤلہ میں بینک میں رقم جمع کرواکر نفع حاصل کرنا شرعاً ناجائز ہے،سائلہ کے لئے جس قدر ممکن ہو خود اور اپنے بچوں کو اس حرام  نفع  سے بچاتی رہیں،اور اپنے اور بچوں کے اخراجات اپنی حلال تنخواہ سے پورا کرنے کی کوشش کریں ،اور جہاں پر شوہ...

تفصیلات دیکھیں

Banner

شوہر کے انتقال کے بعد اگر گھریلو سامان کی ملکیت واضح نہ ہو تو کیا حکم ہوگا

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

میرا نام عظمیٰ اقبال ہے۔ میں قطر میں رہتی ہوں۔ میرے شوہر کا انتقال 2022 میں ہو گیا تھا۔ ان کے والدین حیات ہیں۔ والد صاحب بیمار ہیں اور اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہیں جبکہ والدہ الحمدللہ خیریت سے ہیں۔

میرے شوہر کے قطر میں موجود اثاثے قطر کے اسلامی قوانین کے مطابق تقسیم کر دیے گئے تھے اور جس کا جو شرعی حصہ بنتا تھا، وہ ادا کر دیا گیا۔

میری تنخواہ میرے شوہر سے زیادہ تھی۔ پاکستان میں دو پلاٹ ہیں جو میری کمائی سے خریدے گئے تھے، لیکن میں نے اپنے شوہر کے نام کر دیے تھے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ میری نیت صرف اپنے شوہر کی مدد کرنا تھی، کیونکہ وہ 17 سال کی عمر سے محنت کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے والد کا گھر بھی بنایا تھا، لیکن ان کے اپنے نام کوئی جائیداد نہیں تھی۔ مجھے ہمیشہ یہ احساس رہتا تھا کہ جس شخص نے ساری زندگی محنت کی، اس کے نام کوئی اپنی پراپرٹی نہیں تھی۔

ہم قطر میں کرائے کے گھر میں رہتے تھے۔ گھر کا سامان، جیسے ٹی وی، فریج، واشنگ مشین، دیگر برقی آلات، برتن، فرنیچر، بستر اور روزمرہ استعمال کی اشیاء موجود ہیں۔ میں اس وقت ایک سنگل مدر ہوں اور الحمدللہ اپنے بچوں کی کفالت خود کر رہی ہوں۔

براہِ کرم درج ذیل سوالات کے جوابات قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں مرحمت فرمائیں:

سوال 1: پاکستان میں موجود وہ دو پلاٹ، جو میری کمائی سے خریدے گئے تھے لیکن میں نے اپنے شوہر کے نام کر دیے تھے، کیا میرے شوہر کے انتقال کے بعد شرعاً ان کے ترکہ میں شامل ہوں گے؟ اگر ہاں، تو کیا ان میں بھی ان کے والدین کا شرعی حصہ ہوگا؟

سوال 2: میرے شوہر کی ذاتی ملکیت کی چیزیں، جیسے ان کی گاڑی، موبائل فون اور دیگر ذاتی استعمال کی اشیاء، یقیناً ترکہ میں شامل ہوں گی، اس میں مجھے کوئی اشکال نہیں۔

لیکن جو گھر ہم قطر میں کرائے پر رہتے تھے، اس میں موجود گھر کے استعمال کا سامان، جیسے ٹی وی، فریج، واشنگ مشین، دیگر برقی آلات، برتن، فرنیچر، بستر اور وہ تمام اشیاء جو ہمارے اور بچوں کے روزمرہ استعمال کے لیے خریدی گئی تھیں، کیا وہ بھی شرعاً میرے شوہر کے ترکہ میں شامل ہوں گی؟ اگر ہاں، تو کیا ان میں بھی میرے شوہر کے والدین کا شرعی حصہ ہوگا؟

مزید یہ کہ چونکہ یہ تمام چیزیں بیوی اور بچوں کے استعمال اور گھر کی ضروریات کے لیے خریدی گئی تھیں، کیا شرعاً یہ بیوی اور بچوں کے استعمال کا حق شمار ہوں گی، یا پھر ان میں بھی دیگر ورثاء، خصوصاً میرے شوہر کے والدین، کا حصہ ہوگا؟ براہِ کرم اس بارے میں شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

سوال 3: اگر گھر کا استعمال شدہ سامان ترکہ میں شامل ہو، تو اس کی شرعی تقسیم کا صحیح اور عملی طریقہ کیا ہے؟ کیا ہر چیز کی الگ الگ قیمت لگانا ضروری ہے، یا شریعت میں اس کے لیے کوئی آسان اور عملی طریقہ موجود ہے؟

سوال 4: چونکہ زیادہ تر سامان استعمال شدہ ہے اور بعض چیزیں کافی پرانی یا خراب حالت میں ہیں، تو ایسی صورت میں ان کی قیمت کس بنیاد پر مقرر کی جائے؟ کیا موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق قیمت لگائی جائے گی؟

سوال 5: ہم قطر میں رہتے تھے جبکہ میرے شوہر کے والدین پاکستان میں رہتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں گھر کے استعمال شدہ سامان کی شرعی تقسیم کس طرح کی جائے؟ کیا سامان پاکستان بھیجنا ضروری ہوگا یا اس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق ان کا حصہ ادا کیا جا سکتا ہے؟

سوال 6: اگر گھر کی بعض اشیاء شوہر اور بیوی دونوں کی مشترکہ آمدنی سے خریدی گئی ہوں، یا اتنا عرصہ گزر جانے کی وجہ سے یہ معلوم نہ ہو کہ کون سی چیز کس کے پیسوں سے خریدی گئی تھی، تو ایسی صورت میں شرعاً کیا حکم ہے؟ ان اشیاء کی ملکیت کس طرح متعین کی جائے، اور ان کی تقسیم کا صحیح طریقہ کیا ہوگا؟ براہِ کرم اس بارے میں بھی شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ہمیں شریعت کے مطابق عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

جواب

۔صورت مسؤلہ میں سائلہ نے پاکستان میں موجود دو پلاٹ اپنے شوہر کے نام کئے تھے،تو اگر یہ دو پلاٹ سائلہ نے نام کرتے وقت مالکانہ حقوق(جب چاہیں،جیسے چاہیں ،بیچنے ،بنانے ،وغیرہ تمام اختیارات کے ساتھ ) اور قبضہ بھی شوہر کو دے دیا  تھا تو اب یہ پلاٹ مرحو...

تفصیلات دیکھیں

Banner

امانت رکھوانے والےکے انتقال کے بعد ،جبکہ اس کے اوپر قرضہ بھی لازم ہو ، امانت کی رقم سے متعلق مودَع کی ذمہ داری

سوال

 

سؤال:محترم مفتی صاحب آپ سے درج ذیل مسئلہ پر رائے کی ضرورت ہے:

میرے ماموں سید حسین اصغر تقریبا ً 2 سال پہلے انتقال فرماگئے ،انتقال کے وقت ان کے پاس صرف ایک بینک اکاؤنٹ میں کچھ پیسے تھے ،ان کی نہ ہی کوئی اولاد ہے اور ان کی زوجہ کا پہلے ہی انتقال ہوچکا  تھا،ان کے لواحقین میں 2 چھوٹے بھائی اور دو چھوٹی بہنیں ہیں ۔

انتقال کے وقت ان کے اوپر کافی قرضہ تھا جو کہ کسی بیرون ملک بینک کا ہے ،انتقال سے پہلے انہوں نے اپنا گھر اس نیت سے بیچا کہ وہ قرضہ ادا کردیں ،سہولت کے لئے انہوں نے میرے بھائی کے ساتھ جوائنٹ اکاؤنٹ کھولا تھا،ان کے انتقال کے بعد یہ پیسا جو کہ مکان کے فروخت سے حاصل ہوا میرے بھائی کے پاس محفوظ ہے۔

سؤال1:میرا بھائی اس امانت داری سے سبکدوش ہونا چاہتا ہے ،اور چاہتا ہے کہ لواحقین اس سے یہ پیسے لے لیں ،مگر بھائی بہنوں میں کچھ اختلافات کے باعث کوئی بھی اس پیسے کو کسی دوسرے کے حوالہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔کیا میرے بھائی کے لئے یہ صحیح ہے کہ وہ ان بھائی بہنوں میں سے کسی ایک کو سارے پیسے دےدے تاکہ وہ خود ہی آپس میں تقسیم کرلیں اور میرے بھائی کی ذمہ داری پوری ہوجائے؟

سوال 2:انتقال سے پہلے جائیداد کی فروخت کے وقت بڑے ماموں نے  جائیداد کا آدھا حصہ اپنے چھوٹے بھائی کے صرف  نام کردیا تھا   جو کہ ایک انتظامی ضرورت کے تحت  ہوا تھا ان کو آدھا حصہ کا مالک نہیں بنایا تھا ،اور پھر انتظامی ضرورت پوری ہونے کے بعد بڑے ماموں نے چھوٹے ماموں سے جائیداد کی واپسی کا مطالبہ کرتے رہے ،لیکن چھوٹے ماموں نے واپس نہیں کیا اور مکان فروخت ہونے کے بعد زبردستی آدھی قیمت خود رکھ لی ،ان کا کیا یہ عمل جائز ہے ؟اور پھر کیا چھوٹے ماموں بقیہ آدھے مکان کی قیمت میں بھی حصہ دار ہوں گے؟

سوال3:قرضہ کی کل مالیت صرف اندازہ کے تحت ہے ،بینک بیرون ملک ہونے کی وجہ سے قرضے کی مالیت بتانے سے گریز کررہا ہے ،بینک چاہتا ہے کہ اصل وارثین میں سے کوئی ان سے رابطہ کرے سارے کاغذات کے ساتھ ،اب تک کسی بھائی یا بہن نے بینک سے بتائے ہوئے طریقہ پر رابطہ نہیں کیا ،اس سلسلے میں کیا کرنا چاہئے؟

سائل:فیصل نذیر  03172128464

جواب

شریعت مطہرہ میں اگر  کوئی شخص کسی دوسرے کے پاس امانت رکھوائے ،اور پھر امانت رکھوانے والے کا انتقال ہوجائے اور اس پر قرضہ بھی ہو اور اس امانت کی رقم کے علاوہ اس قرضہ کو ادا کرنے کا کوئی دوسرا مال بھی  اس کے ترکہ میں نہ ہو تو ایسی صورت میں مو...

تفصیلات دیکھیں

Banner

میت کا وہ متروکہ مال جس میں ملکیت یقینی نہ ہو ،وہ میت کا ترکہ نہیں بنے گا۔

سوال

میرا نام عظمیٰ ہے۔

میرے شوہر کا انتقال 2022 میں ہو گیا تھا۔ انہوں نے اپنی والدہ اور بہن کو سونے کے کچھ تحائف دیے تھے۔ بعد میں ان کی والدہ اور بہن نے وہ زیورات انہیں واپس کر دیے تھے۔ میرے شوہر نے یہ سمجھا کہ چونکہ ہمارے بیٹے کی بیماری کی وجہ سے مالی ضرورت تھی، اس لیے انہوں نے ہمدردی کے طور پر یہ زیورات واپس کیے ہیں۔

بعد میں ان کی والدہ اور بہن نے شکوہ کیا کہ تم نے زیورات اپنے پاس رکھ لیے اور ہم سے کچھ پوچھا بھی نہیں۔

2022 میں میرے شوہر نے پاکستان چھٹی پر آنا تھی۔ انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ تم پہلے پاکستان چلی جاؤ اور یہ زیورات میری والدہ اور بہن کو واپس کر دینا۔ لیکن میں نے عرض کیا کہ آپ خود جا کر اپنے ہاتھ سے واپس کر دیجیے۔ اس کے بعد اچانک میرے شوہر کا انتقال ہو گیا۔

میرا سوال یہ ہے کہ جو زیورات ان کی والدہ اور بہن اپنے اختیار سے میرے شوہر کو واپس کر چکی تھیں، کیا وہ میرے شوہر کی وفات کے بعد ان کے ترکہ کا حصہ شمار ہوں گے اور میرے بچوں سمیت تمام شرعی ورثاء میں تقسیم ہوں گے، یا وہ زیورات ان کی والدہ اور بہن کو واپس کیے جائیں گے؟

جواب

صورت مسؤلہ میں سائلہ کے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ اپنے  مرحوم شوہر کی والدہ اور بہن سے دریافت کرلے کہ جو سونا انہوں نے اپنے بھائی کو واپس کیا تھا وہ کس نیت اور جہت سے تھا ؟ انہوں نے قرضہ کے طور  پر،وقتی ضرورت پورا کرنے کے لئے بھیجا تھا؟ یا ...

تفصیلات دیکھیں

Banner

قریبی رشتہ داروں پر یتیم بچوں کی کفالت اور نان نفقہ سے متعلق احکامات

سوال

: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

میرا نام عظمیٰ ہے۔ میرے شوہر کا انتقال 2022 میں ہوا۔ ان کی گریجویٹی کی رقم اسلامی شریعت کے مطابق ان کے والدین، میری اور ہمارے تمام بچوں کے درمیان تقسیم کر دی گئی ہے۔

میرے شوہر نے اپنے والد کا پرانا گھر اپنے ذاتی خرچ سے دوبارہ تعمیر کروایا تھا۔ اس وقت میرے سسر اور ساس دونوں حیات ہیں۔ میری ساس الحمدللہ خیریت سے ہیں، لیکن میرے سسر اپنی ذہنی حالت کی وجہ سے اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہیں۔

جہاں تک میری سمجھ ہے، چونکہ وہ گھر میرے سسر کی ملکیت تھا، اس لیے میرے شوہر کے انتقال کے بعد اس گھر میں ان کا کوئی حصہ باقی نہیں رہا، لہٰذا میرے بچوں کا بھی اس گھر میں کوئی حق نہیں بنتا۔ اسی طرح میرے شوہر نے اس گھر کی تعمیر پر جو رقم خرچ کی تھی، وہ غالباً والدین کے ساتھ احسان اور حسنِ سلوک کے زمرے میں آتی ہے، اس لیے بظاہر اس رقم میں بھی ان کے بچوں کا کوئی حق نہیں بنتا۔ اگر میری یہ سمجھ درست نہیں ہے تو براہِ کرم شریعتِ اسلامیہ کی روشنی میں اس کی صحیح وضاحت فرما دیں۔

میرے چند تحفظات اور سوالات ہیں۔ میں قطر میں رہتی ہوں اور اپنے بچوں کی کفالت خود کر رہی ہوں۔ میرے شوہر کے انتقال کے بعد میرے بچوں کی تمام ذمہ داریاں مجھ پر آ گئی ہیں، اور الحمدللہ اپنی استطاعت کے مطابق ان کی پرورش، تعلیم، علاج اور دیگر ضروریات پوری کر رہی ہوں۔ میری خواہش ہے کہ میں ہر معاملے میں صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کے مطابق عمل کروں، اسی لیے درج ذیل سوالات کے جوابات جاننا چاہتی ہوں۔

مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرے شوہر کے انتقال کے بعد میرے یتیم بچوں کی تمام ذمہ داری صرف میرے ہی کندھوں پر آ گئی ہے۔ اسلام یتیموں اور بیواؤں کے ساتھ حسنِ سلوک، ان کی کفالت، خبرگیری اور ان کی مدد کی بہت تاکید کرتا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف ایک اخلاقی ترغیب ہے یا شریعت نے بعض قریبی رشتہ داروں پر اس حوالے سے کوئی ذمہ داری بھی عائد کی ہے؟

خاص طور پر میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ میرے مرحوم شوہر کے والدین اور ان کے بہن بھائیوں پر میرے یتیم بچوں کے حوالے سے کوئی شرعی ذمہ داری عائد ہوتی ہے یا نہیں؟ اگر ہوتی ہے تو اس کی نوعیت کیا ہے؟ کیا ان پر صرف صلہ رحمی، خیریت دریافت کرنا اور حسنِ سلوک لازم ہے، یا حالات کے مطابق مالی یا عملی تعاون بھی ان کی ذمہ داری میں شامل ہو سکتا ہے؟

الحمدللہ میرے اپنے بھائی نے ہر مشکل وقت میں ہمارا بہت ساتھ دیا ہے۔ وہ وقتاً فوقتاً ہماری مالی مدد کرتا رہا ہے، میری بیٹی کی اسکول فیس بھی کئی مرتبہ ادا کی ہے، اور ہماری کفالت میں بھی بھرپور تعاون کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں بہترین جزا عطا فرمائے۔

میں کسی سے شکایت یا حق تلفی کا دعویٰ نہیں کرنا چاہتی، بلکہ صرف یہ جاننا چاہتی ہوں کہ قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں میرے اور میرے یتیم بچوں کے کیا حقوق ہیں، اور میرے مرحوم شوہر کے والدین اور بہن بھائیوں کی کیا ذمہ داریاں ہیں، تاکہ میں کسی کے بارے میں غلط گمان نہ رکھوں اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق عمل کر سکوں۔

جواب

دین اسلام ایک کامل اور مکمل دین ہے جو زندگی کے ہر مرحلہ میں انسان کی راہنمائی کرتا ہے،دین اسلام میں یتیم بچوں کے نان و نفقہ  سے متعلق بھی بڑی وضاحت کے ساتھ احکام بیان کئے گئے ہیں،جو ذیل میں ذکر کئے جاتے ہیں: ·    &nbs...

تفصیلات دیکھیں