فتوے
میت کا وہ متروکہ مال جس میں ملکیت یقینی نہ ہو ،وہ میت کا ترکہ نہیں بنے گا۔
سوال
میرا نام عظمیٰ ہے۔
میرے شوہر کا انتقال 2022 میں ہو گیا تھا۔ انہوں نے اپنی والدہ اور بہن کو سونے کے کچھ تحائف دیے تھے۔ بعد میں ان کی والدہ اور بہن نے وہ زیورات انہیں واپس کر دیے تھے۔ میرے شوہر نے یہ سمجھا کہ چونکہ ہمارے بیٹے کی بیماری کی وجہ سے مالی ضرورت تھی، اس لیے انہوں نے ہمدردی کے طور پر یہ زیورات واپس کیے ہیں۔
بعد میں ان کی والدہ اور بہن نے شکوہ کیا کہ تم نے زیورات اپنے پاس رکھ لیے اور ہم سے کچھ پوچھا بھی نہیں۔
2022 میں میرے شوہر نے پاکستان چھٹی پر آنا تھی۔ انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ تم پہلے پاکستان چلی جاؤ اور یہ زیورات میری والدہ اور بہن کو واپس کر دینا۔ لیکن میں نے عرض کیا کہ آپ خود جا کر اپنے ہاتھ سے واپس کر دیجیے۔ اس کے بعد اچانک میرے شوہر کا انتقال ہو گیا۔
میرا سوال یہ ہے کہ جو زیورات ان کی والدہ اور بہن اپنے اختیار سے میرے شوہر کو واپس کر چکی تھیں، کیا وہ میرے شوہر کی وفات کے بعد ان کے ترکہ کا حصہ شمار ہوں گے اور میرے بچوں سمیت تمام شرعی ورثاء میں تقسیم ہوں گے، یا وہ زیورات ان کی والدہ اور بہن کو واپس کیے جائیں گے؟
جواب
صورت مسؤلہ میں سائلہ کے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ اپنے مرحوم شوہر کی والدہ اور بہن سے دریافت کرلے کہ جو سونا انہوں نے اپنے بھائی کو واپس کیا تھا وہ کس نیت اور جہت سے تھا ؟ انہوں نے قرضہ کے طور پر،وقتی ضرورت پورا کرنے کے لئے بھیجا تھا؟ یا آپ کے شوہر کو مالک بنا کر مدد اور تعاون کے لئےبھیجا تھا ؟اگر قرضہ کے طور پر بھیجا تھا تو یہ مرحوم کا ترکہ شمار نہیں ہوگا ،بلکہ ان دونوں(مرحوم کی والدہ اور بہن ) کو واپس کرنا ضروری ہے ،بصورت دیگر یہ آپ کے شوہر کا ترکہ شمار ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
«عَقْدٌ مَخْصُوصٌ) أَيْ بِلَفْظِ الْقَرْضِ وَنَحْوِهِ (يَرِدُ عَلَى دَفْعِ مَالٍ) بِمَنْزِلَةِ الْجِنْسِ (مِثْلِيٍّ) خَرَجَ الْقِيَمِيُّ (لِآخَرَ لِيَرُدَّ مِثْلَهُ) خَرَجَ نَحْوُ وَدِيعَةٍ وَهِبَةٍ.»
(کتاب البیوع ،باب المرابحۃ والتولیۃ ،فصل فی القرض 5/161 ط سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
(وَتَتِمُّ) الْهِبَةُ (بِالْقَبْضِ) الْكَامِلِ
(کتاب الھبۃ 5/690 ط سعید)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
|
فتوی نمبر:532 |
تاریخ اجراء:6 صفر المظفر 1448ھ/21 جولائی 2026 |
