فتوے
یہ مجھ سے فارغ ہے
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ:
گھر میں ایک معمولی جھگڑے کے دوران مسمی محمد زکریا نے اپنے سالے (بیوی کے بھائی) سے مخاطب ہو کر اپنی بیوی کے بارے میں یہ جملہ کہا: "اب یہ مجھ سے فارغ ہے؟" اس پر سالے نے حیرت یا تصدیق کے لیے دوبارہ پوچھا کہ: "آپ کیا کہہ رہے ہو؟" تو محمد زکریا نے دوبارہ وہی لفظ دہراتے ہوئے کہا: "یہ مجھ سے فارغ ہے۔" سالے نے تیسری مرتبہ پھر پوچھا کہ: "کیا کہہ رہے ہو؟" تو محمد زکریا نے تیسری بار بھی یہی جملہ دہرایا کہ: "یہ مجھ سے فارغ ہے۔" واضح رہے کہ شوہر نے یہ لفظ "فارغ ہے" جملہ ملا کر تین مرتبہ استعمال کیا ہے، ۔
اب شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں درج ذیل سوالات کے جوابات عنایت فرمائیں:
مذکورہ بالا صورتِ حال میں اس جملے ("مجھ سے فارغ ہے") کے تین بار دہرانے سے شرعاً کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟
یہ طلاقِ رجعی ہے یا طلاقِ مغلظہ (بائنہ)؟
کیا اب دونوں کا نکاح قائم ہے، یا رجوع کی کوئی صورت ممکن ہے، یا پھر میاں بیوی کا ساتھ رہنا اب حرام ہو چکا ہے؟
برائے مہربانی قرآن و حدیث اور فقہ حنفی کی روشنی میں تفصیلی شرعی حکم (فتویٰ) صادر فرما کر ممنون فرمائیں۔
جواب
واضح رہے کہ" بیوی مجھ سے فارغ ہے" یہ کنائی طلاق کے الفاظوں میں سے ایک لفظ ہے جس کا حکم یہ ہے کہ رضامندی کی حالت میں شوہر کی نیت کے بغیر طلاق نہیں ہوتی البتہ مذاکرہ طلاق یا غصہ کی حالت میں بغیر نیت طلاق بھی ایک طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے،اور طلاق بائن کے بعد مزید طلاق بائن واقع نہیں ہوتیں۔
صورت مسؤلہ میں مسمیٰ محمد زکریا نے غصہ کی حالت میں اپنے سالہ سے مخاطب ہوکر اپنی بیوی کے متعلق یہ کہا کہ "یہ مجھ سے فارغ ہے"تو اس جملہ سے محمد زکریا کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے، اور نکاح ختم ہوچکا ہے ،پھر اس کے سالہ نے دوبارہ سؤالیہ انداز میں پوچھا کہ آپ کیا کہ رہے ہو ؟تو اس نے اس جملہ کو مزید دو مرتبہ دہرایا تو اس طرح دہرانے سے اس کی بیوی پر مزید طلاقیں واقع نہیں ہوئیں ۔اب محمد زکریا اور اس کی بیوی کا نکاح ختم ہوچکا ہے، (بیوی کی رضامندی سے )نکاح جدید کئے بغیر رجوع بھی نہیں ہوسکتا ، نکاح جدید کی صورت میں نیا مہر اور گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول ضروری ہوگا ،اور نکاح جدید کے بعد شوہر کو دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے جائیگا (اگر اس نے اس سے پہلے کوئی طلاق نہیں دی)، نیز مطلقہ اگر نکاح جدید پر راضی نہیں ہوتی تو اپنی عدت (تین ماہواریاں)گذارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
فتاوی شامی میں ہے:
«فَالْحَالَاتُ ثَلَاثٌ: رِضًا وَغَضَبٌ وَمُذَاكَرَةٌ وَالْكِنَايَاتُ ثَلَاثٌ مَا يَحْتَمِلُ الرَّدَّ أَوْ مَا يَصْلُحُ لِلسَّبِّ، أَوْ لَا وَلَا (فَنَحْوُ اُخْرُجِي وَاذْهَبِي وَقُومِي) تَقَنَّعِي تَخَمَّرِي اسْتَتِرِي انْتَقِلِي انْطَلِقِي اُغْرُبِي اُعْزُبِي مِنْ الْغُرْبَةِ أَوْ مِنْ الْعُزُوبَةِ (يَحْتَمِلُ رَدًّا، وَنَحْوُ خَلِيَّةٌ بَرِّيَّةٌ حَرَامٌ» «بَائِنٌ) وَمُرَادِفُهَا كَبَتَّةٍ بَتْلَةٍ (يَصْلُحُ سَبًّا، وَنَحْوُ اعْتَدِّي وَاسْتَبْرِئِي رَحِمَك، أَنْتِ وَاحِدَةٌ، أَنْتِ حُرَّةٌ، اخْتَارِي أَمْرَك بِيَدِك سَرَّحْتُكِ، فَارَقْتُكِ لَا يَحْتَمِلُ السَّبَّ وَالرَّدَّ، فَفِي حَالَةِ الرِّضَا) أَيْ غَيْرِ الْغَضَبِ وَالْمُذَاكَرَةِ (تَتَوَقَّفُ الْأَقْسَامُ) الثَّلَاثَةُ تَأْثِيرًا (عَلَى نِيَّةٍ) لِلِاحْتِمَالِ وَالْقَوْلُ لَهُ»«بِيَمِينِهِ فِي عَدَمِ النِّيَّةِ وَيَكْفِي تَحْلِيفُهَا لَهُ فِي مَنْزِلِهِ، فَإِنْ أَبَى رَفَعَتْهُ لِلْحَاكِمِ فَإِنْ نَكَلَ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا مُجْتَبًى.
(وَفِي الْغَضَبِ) تَوَقَّفَ (الْأَوَّلَانِ) إنْ نَوَى وَقَعَ وَإِلَّا لَا (وَفِي مُذَاكَرَةِ الطَّلَاقِ) يَتَوَقَّفُ (الْأَوَّلُ فَقَطْ)
(کتاب الطلاق باب الکنایات 3/298 تا 301 ط سعید )
«(لَا) يَلْحَقُ الْبَائِنُ (الْبَائِنُ)»
(کتاب الطلاق باب الکنایات 3/308 ط سعید )
احسن الفتاویٰ میں ہے:
بندہ کا بھی یہی خیال ہے کہ عرف میں یہ لفظ صرف جواب ہی کے لئے مستعمل ہے اس لئے عند القرینہ بلا نیت بھی اس سے طلاق بائن واقع ہوجائے گی۔
(کتاب الطلاق ،تو فارغ ہے 5/188 ط سعید)
دارالافتاء دالعلوم دیوبند کے فتاویٰ میں ہے:
ہمارے عرف میں ”تو فارغ ہے“ کا جملہ سب وشتم کے لیے استعمال نہیں ہوتا، صرف جواب کا احتمال رکھتا ہے؛ اس لیے قرینہ کی صورت میں اس جملہ سے بلا نیت طلاق بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ (احسن الفتاوی 5: 188، مطبوعہ: ایچ، ایم سعید، کراچی، پاکستان) پس جب آپ کے شوہر نے لڑائی جھگڑے کے دوران آپ کے والد صاحب کو فون کرکے کہا کہ ”آپ کی بیٹی جھوٹی ہے، میری طرف سے فارغ ہے، اسے آکے لے جائیں“ تو آپ پر ایک طلاق بائن واقع ہوگئی، اگرچہ وہ طلاق کی نیت کا انکار کریں؛ کیوں کہ صورت مسئولہ میں غصہ گرمی کی حالت اور آخر کا جملہ: اسے آکے لے جائیں، دونوں طلاق پر قرینہ ہیں۔ اور اگر یہ بات صحیح ہے کہ آپ کے شوہر اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ غصہ کی حالت میں آپ سے ”تم فارغ ہو“ کے الفاظ کہہ چکے ہیں تو انھوں نے پہلی مرتبہ جب کہا تھا تبھی آپ پر ایک طلاق بائن واقع ہوگئی تھی، اس کے بعد آپ دونوں کا ساتھ رہنا جائز نہ تھا، اور اس کے بعد انھوں نے جتنی مرتبہ کہا، اسے خبر پر محمول کیا جاسکتا ہے؛ اس لیے اگر آپ ان کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں تو نیا نکاح کرکے رہ سکتی ہیں؛ البتہ آپ کے شوہر کو آئندہ صرف مابقیہ طلاق، یعنی: دو طلاق کا حق ہوگا، مکمل تین کا نہیں
(فتوی نمبر : جواب نمبر: 149087)
دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے فتاوی میں ہے:
واضح رہے کہ شوہر کا اپنی بیوی کے متعلق یہ الفاظ کہنا"کہ وہ فارغ ہے" یہ طلاق کےالفاظ کنائی ہیں ،اگرمذاکرہ طلاق کےدوران یاطلاق کی نیت سے کہےتواس سےایک طلاق بائن واقع ہوجاتی ہےنکاح ٹوٹ جاتاہے،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ شخص نے مذکورہ الفاظ "فارغ ہے"کےاستعمال کرتے وقت اگر واقعتاً طلاق کی نیت نہیں کی تھی اور نہ ہی مذاکرہ طلاق تھاتوایسی صورتِ میں شرعاًکوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے،نکاح بدستور قائم ہے۔
(لفظ فارغ ہے سے طلاق کا حکم ،فتویٰ نمبر : 144408101683)
طلاق بائن کے بعد عدت کے دوران اگر لفظ "طلاق یا چھوڑنا" جیسے صریح الفاظ سے طلاق دی جائے تو وہ طلاق واقع ہوجاتی ہے، عدت کے بعد واقع نہیں ہوتی، تاہم طلاقِ بائن کے بعد عدت کے اندر یا عدت کے بعد کنائی الفاظ سے دی جانے والی طلاق واقع نہیں ہوتی۔
(طلاقِ بائن کے بعد طلاق دینے کا حکم،فتویٰ نمبر : 144111201303)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاء مدرسہ عارف العلوم کراچی
23 محر م الحرام 1448ھ/9 جولائی 2026ء
فتوی نمبر:528
