info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

والد مرحوم کے نام پلاٹ نکلا تو کیا سب ورثاء کا حق ہوگا

سوال

مؤدبانہ گذارش ہے۔میں نے ایک عدد ممبر شپ 2015/4/23 فیس 25000 روپے جو کہ گورنمنٹ اسکیم فیڈرل جس کا نام federal govt.employers  housing foundation Islamabad membership phase 2جو کہ ریٹائر گورنمنٹ سروینٹ اور حاضر سروس  ودیگر میں ممبر شپ فیس مبلغ 25000 روپے والد محترم محمد یامین کے فارم میں جمع کرائی تھی،والد محترم 17 گریڈ کے ریٹائر گورنمنٹ سرونٹ تھے ،دفتری،کاغذی کاروائی اور دیگر فارم مکمل کرنے کے بعد فارم (والد محترم کے آفس سے تصدیق کے بعد)فیس 25000 روپے askari comm. Bank جو کہ nominalled تھا جمع کروائی اپنے پاس سے۔

والد صاحب کے مشورہ اور رضامندی سےسال بتاریخ 2017/2/23 میں والد محترم کا پلاٹ اسکیم میں نکل آیا اس کا خط آیا جس میں 387500 قسط جمع کروانا کا کہا گیا (پندرہ دن کے اندر)میں نے وہ پہلی قسط 387500 روپے اپنے ایک دوست سے پیسے، لیکر جمع کروائی۔

کچھ عرصے کے بعد یہ اسکیم بند ہونے کی خبر ملی جس پر والد محترم سے مشورہ کیا جس میں یہ طے پایا کہ ہم قسط کا amount جو کہ 387500 تھا اس کو واپس لے لیں۔

بعد از درخواست کے ذریعہ قسط واپسی کے لئے اپلائی کیا ،درخواست دی اور کچھ دنوں کے بعد پہلی قسط کی قیمت 387500 روپے واپس مل گی،اور میں نے وہ رقم اپنے دوست کو واپس کردی ۔والد محترم کی خواہش یہ تھی کہ پلاٹ اسلام آباد میں نکل آئے اور میں اپنے بیٹے کو دے دوں ،2021-2022 سے والد صاحب بیمار رہنے لگے،ہسپتالوں میں داخل ہوئے اور مستقل زیر علاج رہے،اس دوران اسلام آباد سے مختلف ایجنٹ حضرات کے فون آئے ان کے پاس  کہ ہم آپ سے agreement کرتے ہیں ،آپ کی جو ممبر شپ جو 25000 روپے جو کہ 2015 میں جمع کروائی تھی،اب ایک  dealing through agreement  کرلیں ،ہم آپ کو اچھے پیسے دیں گے،لیکن انہوں نے کسی سے agreement نہیں کیا ۔جبکہ اچھی آفرز آئی ان کو ۔سال 2025 میں کافی بیمار ہوئے ،جنوری میں ہسپتال میں داخل کیا ،پھر گھر آگئے،4 فروری 2025 کو قضائے الہی سے انتقال کرگئے،3 اکتوبر 2025 کو والدہ انتقال فرماگئیں۔

اب گذارش میری یہ ہے کہ مستقبل میں اگر کوئی letter والد مرحوم کے نام آتا ہے تو وہ ترکہ میں آئے گا یا جو وہ اپنی زندگی میں خواہش رکھتے تھے کہ میں اپنے بیٹے کو دےد وں۔دیگر یہ کہ کاغذائی کاروائی جو govt  کی ( اس کے بارے میں راہنمائی فرمائیے  کہ ورثاء میں آٹھ بیٹیاں شادی شدہ اور ایک بیٹا شادی شدہ) برائے مہربانی وضاحت فرمائیے اور راہنمائی فرمائیے ،حل بتائیے ۔

Member ship fee rs 25000 in the year 2015(23/4/2015) complete file  مکمل فائل میرے پاس ہے جس میں تمام کاغذات منسلک ہیں۔

خلاصہ سؤال:والد صاحب مرحوم کے نام اسلام آباد میں ایک پلاٹ الاٹ ہوا تھا ،اور اس کی ایک قسط بھی جمع کرادی تھی ،پھر بعد میں وہ اسکیم بند ہوگی  اور رقم واپس لے لی گئ تھی ،لیکن والد صاحب کے نام وہ ممبر شپ ابھی تک برقرار ہے اور مستقبل قریب میں ممکن ہے کہ اسی ممبر شپ کی بنیاد پر دوبارہ کوئی پلاٹ نکل آئے یا پراپرٹی ڈیلر ایجنٹ حضرات کے دوبارہ سے فون آتے ہیں کہ ممبر شپ والد مرحوم کے حوالہ سے ،کہ ہم سے معاہدہ کرلیں  ڈیل کرلیں ممبر شپ  کی بنیاد پر تو سوال یہ ہے کہ یہ والد مرحوم کا ترکہ شمار ہوگا یا بیٹے کی ملکیت ہوگا۔

جواب

صورت مسؤلہ میں سائل نے اپنے  والد محمد یامین مرحوم کے نام ان کی زندگی میں سرکاری اسکیم کے تحت  اسلام آباد کی سوسائٹی میں پلاٹ کے حصول کے لئے 25000 روپے کی ممبر شپ جمع کروائی گی تھی جس کی بنیاد پر سائل کے والد کے نام  کا ایک پلاٹ اسلام آبا دکی سوسائٹی میں نکل آیا تھا ،جس کی ایک قسط بھی جمع کروائی گی تھی لیکن بعد میں وہ اسکیم بند ہوجانے کی وجہ سے رقم واپس لے لی گی تھی،اب اگر مستقبل میں اسی ممبر شپ کی بنیاد پر دوبارہ کوئی پلاٹ نکل آتا ہے یا کوئی ایجنٹ سائل سے اسی ممبر شپ کی بنیاد پر کوئی ڈیل کرتا ہے تو یہ سب ورثاء کا ترکہ شمار ہوگا،البتہ  اگر  کوئی  وارث (بیٹے یا بیٹی)  ممبر شپ یا پلاٹ کی اقساط کی ادائیگی  اپنے ذاتی رقم سے کرے گا، تو وہ پلاٹ کی کل قیمت سے اتنی رقم لینے کا حقدار ہوگا۔

واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم بالصواب

                                                                                                                                          دارالافتاء مدرسہ عارف العلوم کراچی                                                                                                                                                                                                                                20 محرم الحرام 1448ھ/6 جولائی 2026ء                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                            فتوی نمبر:527