فتوے
ساس کو شہوت کے ساتھ ہاتھ یا گلے لگانا
سوال
جناب محترم مفتی صاحب مسئلہ یہ ہے کہ میرے شوہر اور میری والدہ کے 10 سال سے ناجائز تعلقات ہیں ،اور انہوں نے قسم کھا کر کہا ہے وہ میری والدہ کو شہوت کے ساتھ ہاتھ پکڑتے تھے اور گلے بھی لگاتے تھے اور اکیلے گھر میں بھی وقت ساتھ گذارا ہے تو اب ہمارا نکاح باقی رہتا ہے یا جو بھی بات ہے مجھے بتادیں۔
اگر طلاق واقع ہوجاتی ہے تو میں عدت کیسے کروں؟میرے گھر میں شوہر سے بچنا مشکل ہوگا ،اور میرے بھائی نے منع کردیا ہے کہ ہم نہیں رکھ سکتے اور میری بڑی بہن بول رہی ہیں کہ آجاؤ تو کیا میں ان کے گھر عدت گذار سکتی ہوں ،اور میں اپنے بچوں کا کیا کروں میں نہیں رکھ سکتی اور باپ کے پاس ان کا مستقبل خراب ہوجائے گا ،میرے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔
جواب
صورت مسؤلہ میں اگر واقعی سائلہ کے شوہر اپنی ساس کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھتے ہیں ،اور اس نے اپنی ساس کے جسم کے کسی عضو کوبغیر حائل ہاتھ لگایا یا گلہ لگایا اور یہ سب کام شہوت کے ساتھ ہوں جس کی حد یہ ہے ہاتھ لگاتے وقت شرمگاہ میں حرکت ہوئی یا حرکت میں زیادتی ہوئی تو ایسی صورت میں سائلہ اپنےشوہر پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوگی ہے۔البتہ نکاح ختم ہونے کے لئے ضروری ہےکہ سائلہ کا شوہر اپنی بیوی کو یوں کہ دے کہ "میں نے تمہیں چھوڑ دیا یا آزاد کردیا "تو اس سے نکاح ختم ہوجائے گا ،جس کے بعد عدت گذار نا ضروری ہوگا،اگر شوہر کے گھر میں عدت گذارنے میں فتنہ کا اندیشہ ہو تو والدین یا بہن ،بھائی میں سے کسی کے گھر عدت گذاری جاسکتی ہے ،عدت گذانے کے بعد سائلہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
اور اگر سائلہ کا شوہر سائلہ کو حرمت مصاہرت ثابت ہوجانے کے بعد طلاق کے الفاظ ادا نہیں کرتا تو عورت فسخ نکاح کے لئے عدالت سے رجوع کرسکتی ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
«(وَ) حَرَّمَ الْمُصَاهَرَةُ (بِنْتَ زَوْجَتِهِ الْمَوْطُوءَةِ وَأُمَّ زَوْجَتِهِ) وَجَدَّاتِهَا مُطْلَقًا بِمُجَرَّدِ الْعَقْدِ الصَّحِيحِ (وَإِنْ لَمْ تُوطَأْ) الزَّوْجَةُ»«لِمَا تَقَرَّرَ أَنَّ وَطْءَ الْأُمَّهَاتِ يُحَرِّمُ الْبَنَاتِ وَنِكَاحَ الْبَنَاتِ يُحَرِّمُ الْأُمَّهَاتِ،»«وَيَدْخُلُ بَنَاتُ الرَّبِيبَةِ وَالرَّبِيبِ. وَفِي الْكَشَّافِ وَاللَّمْسُ وَنَحْوُهُ كَالدُّخُولِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَقَرَّهُ الْمُصَنِّفُ»۔۔۔۔«(وَ) أَصْلُ (مَمْسُوسَتِهِ بِشَهْوَةٍ) وَلَوْ لِشَعْرٍ عَلَى الرَّأْسِ بِحَائِلٍ لَا يَمْنَعُ الْحَرَارَةَ»«وَأَصْلُ مَاسَّتِهِ وَنَاظِرَةٍ إلَى ذَكَرِهِ وَالْمَنْظُورُ إلَى فَرْجِهَا) الْمُدَوَّرِ (الدَّاخِلِ) وَلَوْ نَظَرَهُ مِنْ زُجَاجٍ أَوْ مَاءٍ هِيَ فِيهِ (وَفُرُوعُهُنَّ) مُطْلَقًا وَالْعِبْرَةُ لِلشَّهْوَةِ عِنْدَ الْمَسِّ وَالنَّظَرِ لَا بَعْدَهُمَا وَحَدُّهَا فِيهِمَا تَحَرُّكُ آلَتِهِ أَوْ زِيَادَتُهُ بِهِ يُفْتَى»
(کتاب النکاح ،باب المحرمات 3/30 تا 33 ط سعید)
وفي الدر وبحرمة المصاهرة لا يرتفع النكاح حتى لا يحل لها التزوج بآخر إلا بعد المتاركة وانقضاء العدة، والوطء بها لا يكون زنا.
وفي الرد :(قوله: وبحرمة المصاهرة إلخ)قال في الذخيرة: ذكر محمد في نكاح الأصل أن النكاح لا يرتفع بحرمة المصاهرة والرضاع بل يفسد حتى لو وطئها الزوج قبل التفريق لا يجب عليه الحد اشتبه عليه أو لم يشتبه عليه. اهـ.(قوله: إلا بعد المتاركة) أي، وإن مضى عليها سنون كما في البزازية، وعبارة الحاوي إلا بعد تفريق القاضي أو بعد المتاركة. اهـ.وقد علمت أن النكاح لا يرتفع بل يفسد وقد صرحوا في النكاح الفاسد بأن المتاركة لا تتحقق إلا بالقول، إن كانت مدخولا بها كتركتك أو خليت سبيلك، وأما غير المدخول بها فقيل تكون بالقول وبالترك على قصد عدم العود إليها.وقيل: لا تكون إلا بالقول فيهما، حتى لو تركها، ومضى على عدتها سنون لم يكن لها أن تتزوج بآخر فافهم."
(کتاب النکاح باب المحرمات 3/37 ط سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
«فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها وإن علت وابنتها وإن سفلت، وكذا تحرم المزني بها على آباء الزاني وأجداده وإن علوا وأبنائه وإن سفلوا، كذا في فتح القدير. ولو وطئها فأفضاها لا تحرم عليه أمها لعدم تيقن كونه في الفرج إلا إذا حبلت وعلم كونه منه، كذا في البحر الرائق وكما تثبت هذه الحرمة بالوطء تثبت بالمس والتقبيل والنظر إلى الفرج بشهوة، كذا في الذخيرة. سواء كان بنكاح أو ملك أو فجور عندنا، كذا في الملتقط. قال أصحابنا: الربيبة وغيرها في ذلك سواء هكذا في الذخيرة. والمباشرة عن شهوة بمنزلة القبلة وكذا المعانقة وهكذا في فتاوى قاضي خان. وكذا لو عضها بشهوة هكذا في الخلاصة
فإن نظرت المرأة إلى ذكر الرجل أو لمسته بشهوة أو قبلته بشهوة تعلقت به حرمت المصاهرة،»
(کتاب النکاح الباب الثالث فی بیان المحرمات 1/274 ط رشیدیہ)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی
8ذوالحجہ 1447ھ/25مئی 2026ء
فتویٰ نمبر:523
