info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

شوہر کے انتقال کے بعد اگر گھریلو سامان کی ملکیت واضح نہ ہو تو کیا حکم ہوگا

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

میرا نام عظمیٰ اقبال ہے۔ میں قطر میں رہتی ہوں۔ میرے شوہر کا انتقال 2022 میں ہو گیا تھا۔ ان کے والدین حیات ہیں۔ والد صاحب بیمار ہیں اور اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہیں جبکہ والدہ الحمدللہ خیریت سے ہیں۔

میرے شوہر کے قطر میں موجود اثاثے قطر کے اسلامی قوانین کے مطابق تقسیم کر دیے گئے تھے اور جس کا جو شرعی حصہ بنتا تھا، وہ ادا کر دیا گیا۔

میری تنخواہ میرے شوہر سے زیادہ تھی۔ پاکستان میں دو پلاٹ ہیں جو میری کمائی سے خریدے گئے تھے، لیکن میں نے اپنے شوہر کے نام کر دیے تھے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ میری نیت صرف اپنے شوہر کی مدد کرنا تھی، کیونکہ وہ 17 سال کی عمر سے محنت کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے والد کا گھر بھی بنایا تھا، لیکن ان کے اپنے نام کوئی جائیداد نہیں تھی۔ مجھے ہمیشہ یہ احساس رہتا تھا کہ جس شخص نے ساری زندگی محنت کی، اس کے نام کوئی اپنی پراپرٹی نہیں تھی۔

ہم قطر میں کرائے کے گھر میں رہتے تھے۔ گھر کا سامان، جیسے ٹی وی، فریج، واشنگ مشین، دیگر برقی آلات، برتن، فرنیچر، بستر اور روزمرہ استعمال کی اشیاء موجود ہیں۔ میں اس وقت ایک سنگل مدر ہوں اور الحمدللہ اپنے بچوں کی کفالت خود کر رہی ہوں۔

براہِ کرم درج ذیل سوالات کے جوابات قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں مرحمت فرمائیں:

سوال 1: پاکستان میں موجود وہ دو پلاٹ، جو میری کمائی سے خریدے گئے تھے لیکن میں نے اپنے شوہر کے نام کر دیے تھے، کیا میرے شوہر کے انتقال کے بعد شرعاً ان کے ترکہ میں شامل ہوں گے؟ اگر ہاں، تو کیا ان میں بھی ان کے والدین کا شرعی حصہ ہوگا؟

سوال 2: میرے شوہر کی ذاتی ملکیت کی چیزیں، جیسے ان کی گاڑی، موبائل فون اور دیگر ذاتی استعمال کی اشیاء، یقیناً ترکہ میں شامل ہوں گی، اس میں مجھے کوئی اشکال نہیں۔

لیکن جو گھر ہم قطر میں کرائے پر رہتے تھے، اس میں موجود گھر کے استعمال کا سامان، جیسے ٹی وی، فریج، واشنگ مشین، دیگر برقی آلات، برتن، فرنیچر، بستر اور وہ تمام اشیاء جو ہمارے اور بچوں کے روزمرہ استعمال کے لیے خریدی گئی تھیں، کیا وہ بھی شرعاً میرے شوہر کے ترکہ میں شامل ہوں گی؟ اگر ہاں، تو کیا ان میں بھی میرے شوہر کے والدین کا شرعی حصہ ہوگا؟

مزید یہ کہ چونکہ یہ تمام چیزیں بیوی اور بچوں کے استعمال اور گھر کی ضروریات کے لیے خریدی گئی تھیں، کیا شرعاً یہ بیوی اور بچوں کے استعمال کا حق شمار ہوں گی، یا پھر ان میں بھی دیگر ورثاء، خصوصاً میرے شوہر کے والدین، کا حصہ ہوگا؟ براہِ کرم اس بارے میں شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

سوال 3: اگر گھر کا استعمال شدہ سامان ترکہ میں شامل ہو، تو اس کی شرعی تقسیم کا صحیح اور عملی طریقہ کیا ہے؟ کیا ہر چیز کی الگ الگ قیمت لگانا ضروری ہے، یا شریعت میں اس کے لیے کوئی آسان اور عملی طریقہ موجود ہے؟

سوال 4: چونکہ زیادہ تر سامان استعمال شدہ ہے اور بعض چیزیں کافی پرانی یا خراب حالت میں ہیں، تو ایسی صورت میں ان کی قیمت کس بنیاد پر مقرر کی جائے؟ کیا موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق قیمت لگائی جائے گی؟

سوال 5: ہم قطر میں رہتے تھے جبکہ میرے شوہر کے والدین پاکستان میں رہتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں گھر کے استعمال شدہ سامان کی شرعی تقسیم کس طرح کی جائے؟ کیا سامان پاکستان بھیجنا ضروری ہوگا یا اس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق ان کا حصہ ادا کیا جا سکتا ہے؟

سوال 6: اگر گھر کی بعض اشیاء شوہر اور بیوی دونوں کی مشترکہ آمدنی سے خریدی گئی ہوں، یا اتنا عرصہ گزر جانے کی وجہ سے یہ معلوم نہ ہو کہ کون سی چیز کس کے پیسوں سے خریدی گئی تھی، تو ایسی صورت میں شرعاً کیا حکم ہے؟ ان اشیاء کی ملکیت کس طرح متعین کی جائے، اور ان کی تقسیم کا صحیح طریقہ کیا ہوگا؟ براہِ کرم اس بارے میں بھی شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور ہمیں شریعت کے مطابق عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

جواب

۔صورت مسؤلہ میں سائلہ نے پاکستان میں موجود دو پلاٹ اپنے شوہر کے نام کئے تھے،تو اگر یہ دو پلاٹ سائلہ نے نام کرتے وقت مالکانہ حقوق(جب چاہیں،جیسے چاہیں ،بیچنے ،بنانے ،وغیرہ تمام اختیارات کے ساتھ ) اور قبضہ بھی شوہر کو دے دیا  تھا تو اب یہ پلاٹ مرحوم شوہر کا ترکہ شمار ہوگا اور اس میں شوہر کے والدین کا بھی حصہ شامل ہوگا۔اور اگر صرف پلاٹ نام کروائے تھے مالکانہ حقوق وقبضہ نہیں دیا تھا تو یہ شوہر کا ترکہ شمار نہ ہوگا۔

2،3،4،5۔جو چیزیں شوہر کی ذاتی استعمال کی تھیں ،مثلا ان کے کپڑے،گھڑی  وغیرہ وہ سامان بھی شوہر کا ترکہ شمار ہوگا ،اور اسی طرح گھر میں استعمال ہونے والی وہ تمام اشیاء جو شوہر نے اپنی ذاتی رقم سے خریدیں تھیں وہ بھی شوہر کا ترکہ شمار ہوں گی،مثلا ،فریج،اے سی،فرنیچر ،برتن ،واشگ مشین ،برقی آلات وغیرہ البتہ اگر کسی سامان سے متعلق شوہر نے اپنی زندگی میں صراحت کردی تھی کہ یہ بیوی یا بیٹے کی ملکیت ہے تو وہ ترکہ شمار نہ ہوگا۔

مرحوم شوہر کے متروکہ سامان سے متعلق تمام ورثاء (بشمول مرحوم کے والدین ) باہمی رضامندی سے بھی تقسیم کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں اور اگر باہمی رضامندی سے تقسیم نہ ہوسکے تو ان  تمام اشیاء کی مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قیمت لگوا ئی جائے،پھر سامان کوئی ایک وارث یا زیادہ  وراث لینے چاہیں تو  وہ اپنے پاس رکھ لیں اور بقیہ ورثاء کو ان کے شرعی حصوں کے بقدر قیمت دے دی جائے۔

6۔جو چیزیں سائلہ اور اس کے مرحوم شوہر  کی مشترکہ آمدنی سے خریدی گئیں  تھیں ،وہ دونوں کے درمیان مشترک شمار ہوں گیں ،اور شوہر کے حصہ میں ترکہ جاری ہوگا،اور اگر کسی چیز کے بارے میں حتمی طور معلوم نہ ہو کہ  مرحوم شوہر یا بیوی کی رقم سے خریدی گئیں تو اگر وہ چیز مردوں کے استعمال کے ساتھ خاص ہے تووہ شوہر کا ترکہ شمار ہوگا،اور اگروہ عورتوں کے ساتھ خاص ہے تو سائلہ کی ملکیت ہوگا اور اگر وہ چیز ایسی ہے جو مرد اور عورت دونوں استعمال کرتے ہیں تو اب وہ سائلہ کی ملکیت شمار ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

«وَإِنْ اخْتَلَفَ الزَّوْجَانِ) وَلَوْ مَمْلُوكَيْنِ أَوْ مُكَاتَبَيْنِ أَوْ صَغِيرَيْنِ وَالصَّغِيرُ يُجَامِعُ أَوْ ذِمِّيَّةٌ مَعَ مُسْلِمٍ قَامَ النِّكَاحُ أَوَّلًا فِي بَيْتٍ لَهُمَا أَوْ لِأَحَدِهِمَا خِزَانَةُ الْأَكْمَلِ لِأَنَّ الْعِبْرَةَ لِلْيَدِ لَا لِلْمِلْكِ (فِي مَتَاعِ) هُوَ هُنَا مَا كَانَ فِي (الْبَيْتِ) وَلَوْ ذَهَبًا أَوْ فِضَّةً فا (لِقَوْلِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِيمَا صَلَحَ لَهُ مَعَ يَمِينِهِ) إلَّا إذَا كَانَ كُلٌّ مِنْهُمَا يَفْعَلُ أَوْ يَبِيعُ مَا يَصْلُحُ لِلْآخَرِ فَالْقَوْلُ لَهُ تَعَارُضُ الظَّاهِرَيْنِ دُرَرٌ وَغَيْرُهَا (وَالْقَوْلُ لَهُ فِي الصَّالِحِ لَهُمَا) لِأَنَّهَا وَمَا فِي يَدِهَا فِي يَدِهِ وَالْقَوْلُ لِذِي الْيَدِ بِخِلَافِ مَا يَخْتَصُّ بِهَا لِأَنَّ ظَاهِرَهَا أَظْهَرُ مِنْ ظَاهِرِهِ وَهُوَ يَدُ الِاسْتِعْمَالِ (وَلَوْ أَقَامَا بَيِّنَةً يُقْضَى بِبَيِّنَتِهَا) لِأَنَّهَا خَارِجَةٌ خَانِيَةٌ»«وَالْبَيْتُ لِلزَّوْجِ إلَّا أَنْ يَكُونَ لَهَا بَيِّنَةٌ بَحْرٌ. وَهَذَا لَوْ حَيَّيْنِ۔

(وَإِنْ مَاتَ أَحَدُهُمَا وَاخْتَلَفَ وَارِثُهُ مَعَ الْحَيِّ فِي الْمُشْكِلِ) الصَّالِحُ لَهُمَا (فَالْقَوْلُ) فِيهِ (لِلْحَيِّ)»

(کتاب الدعوی،باب التحالف 5/563،564 ط سعید)

«(أَخْرَجَتْ الْوَرَثَةُ أَحَدَهُمْ عَنْ) التَّرِكَةِ وَهِيَ (عَرَضٌ أَوْ) هِيَ (عَقَارٌ بِمَالٍ) أَعْطَاهُ لَهُ (أَوْ) أَخْرَجُوهُ (عَنْ) تَرِكَةٍ هِيَ (ذَهَبٌ بِفِضَّةٍ) دَفَعُوهَا لَهُ (أَوْ) عَلَى الْعَكْسِ أَوْ عَنْ نَقْدَيْنِ بِهِمَا (صَحَّ) فِي الْكُلِّ صَرْفًا لِلْجِنْسِ بِخِلَافِ جِنْسِهِ (قَلَّ) مَا أَعْطَوْهُ (أَوْ كَثُرَ) لَكِنْ بِشَرْطِ التَّقَابُضِ فِيمَا هُوَ صَرْفٌ (وَفِي) إخْرَاجِهِ عَنْ (نَقْدَيْنِ) وَغَيْرِهَا بِأَحَدِ النَّقْدَيْنِ لَا يَصِحُّ (إلَّا أَنْ يَكُونَ مَا أُعْطِيَ لَهُ أَكْثَرَ مِنْ حِصَّتِهِ مِنْ ذَلِكَ الْجِنْسِ) تَحَرُّزًا عَنْ الرِّبَا، وَلَا بُدَّ مِنْ حُضُورِ النَّقْدَيْنِ عِنْدَ الصُّلْحِ وَعِلْمِهِ بِقَدْرِ نَصِيبِهِ شُرُنْبُلَالِيَّةٌ وَجَلَالِيَّةٌ وَلَوْ بِعَرَضٍ جَازَ مُطْلَقًا لِعَدَمِ الرِّبَا، وَكَذَا لَوْ أَنْكَرُوا إرْثَهُ لِأَنَّهُ حِينَئِذٍ لَيْسَ بِبَدَلٍ بَلْ لِقَطْعِ الْمُنَازَعَةِ.»

(کتاب الصلح،فصل فی  التخارج 5/642 ط سعید)

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

دارالافتاء مدرسہ عارف العلوم کراچی

27 محر م الحرام 1448ھ/13 جولائی 2026ء

                                                                                                                                                                                                       فتوی نمبر:530