info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

شوہر حرام کماتا ہو تو بیوی کے لئے کیا حکم ہے

سوال

مفتی صاحب اللہ تعالیٰ کی آپ پر رحمت ہو۔

میں آپ کے مدرسہ کی طالبہ ہوں میرا ایک مسئلہ حل فرماکر مجھے اس ذہنی اذیت سے نجات دلائیں۔میرے شوہر نے اپنا پیسہ بینک میں فکسڈ کیا ہوا ہے  اور اس سے جو منافع آتا ہے وہ گھر میں خرچ کرتے ہیں ،میں نے بارہا سمجھا یا کہ یہ سود ہے ،لیکن ایک تو ان کے پاس یہ وجہ ہے کہ وہ ہارٹ مریض ہیں ،ڈاکٹر نے ان کو کام سے منع کیا ہے ،دوسرے کاروبار وغیرہ میں بھی ہاتھ ڈالنے سے ڈرتے ہیں کہ پیسے برباد ہوجائیں گیں ،چار پانچ سال ہوگئے میرا ان سے اس بات پر تنازعہ رہتا ہے اور بجائے سمجھنے کے مجھ پر بگڑتے ہیں ،دین سے بھی دوری کا نتیجہ ہے ،اب جب سے میں نے مدرسہ جوائن کیا ہے تو بے چین ہوں کیا میں ان سے علیحدہ ہوجاؤں ؟میرے دو بچے ہیں ،ایک فرسٹ ائیر میں ہے اور ایک انٹر میں ہے۔

گھر میں ا س سودی رقم میں 20 ہزار روپے خرچ کرتے ہیں ،میں بھی جاب کرتی ہوں اسکول میں تو اپنا خرچہ اور بچوں کی تعلیم کا خرچہ اٹھاتی ہوں کیونکہ بچوں کو بھی پڑھانا ہے اور بچے ابھی کسی قابل نہیں ہیں ،اگر میں علیحدہ رہنے کا فیصلہ کروں تو گھر کا کرایہ اور راشن کا انتظام نہیں کرسکوں گی ،میری تنخواہ 27k ہے ،آپ بتائیں مجھے کیا کرنا چاہئے ؟ سود خور کے ساتھ رہنا سہنا بحیثیت ایک بیوی اور اس کی کمائی (سود) سے کھانا پینا کیسا ہے؟اس سلسلے میں دین کا کیا حکم ہے؟

میں نے اپنے بھائیوں اور گھر والوں سے بھی بات کی لیکن سب اپنے اپنے گھروں کی کفالت کررہے ہیں ،مفتی صاحب اس بہن کی ضرور مدد فرمائیں ،ایسا نہ ہو کہ میرے سارے اعمال ضائع ہوجائیں اور آخرت میں پکڑ ہوجائے۔

جواب

صورت  مسؤلہ میں بینک میں رقم جمع کرواکر نفع حاصل کرنا شرعاً ناجائز ہے،سائلہ کے لئے جس قدر ممکن ہو خود اور اپنے بچوں کو اس حرام  نفع  سے بچاتی رہیں،اور اپنے اور بچوں کے اخراجات اپنی حلال تنخواہ سے پورا کرنے کی کوشش کریں ،اور جہاں پر شوہر کے حرام مال کو  استعمال کرنا ناگزیر ہو تو  سائلہ کے لئے اس کو استعمال کرنے کی گنجائش ہے ،اس کا گناہ اور وبال شوہر پر ہوگا۔

سائلہ اپنے شوہر کو  لڑائی جگھڑا کئے بغیر وقتاً فوقتاً حکمت وبصیرت کے ساتھ سمجھاتی رہیں  اور کوشش کریں کہ ان کو اللہ والوں کی مجالس اور صحبت میں لے  کرجائیں جس سے خود ان کے دل میں اس عمل کی نفرت پیدا ہوجائے،اور گھر کے اندر اجتماعی طور ذکر کی مجلس شروع کی جائے ،جس میں سب گھر والے بشمول شوہر شرکت کریں اور اس  کا طریقہ یہ ہے کہ اول وآخر دورد شریف 100 مرتبہ اور درمیان میں 500 مرتبہ لاحول ولاقوۃ الاباللہپڑھاجائے اور آخر میں دعا کرلی جائے ،41 دن تک یہ عمل بلا ناغہ کیا جائے ،اس کی برکت سے شوہر کے دل میں خود بخود سود کی شناعت اور قباحت بیٹھ  جائے گی ،اور 41 دنوں کے بعد آگے کے لائحہ عمل کے لئے دوبارہ رجوع کیا جائے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وفي جامع الجوامع: اشترى الزوج طعاماً أو كسوةً من مال خبيث جاز للمرأة أكله ولبسها، والإثم على الزوج".

(کتاب الغصب 6/191 ط سعید)

«وَفِي الذَّخِيرَةِ: سُئِلَ أَبُو جَعْفَرٍ عَمَّنْ اكْتَسَبَ مَالَهُ مِنْ أَمْرِ السُّلْطَانِ وَالْغَرَامَاتِ الْمُحَرَّمَةِ، وَغَيْرِ ذَلِكَ هَلْ يَحِلُّ لِمَنْ عَرَفَ ذَلِكَ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ طَعَامِهِ؟ قَالَ: أَحَبُّ إلَيَّ فِي دِينِهِ أَنْ لَا يَأْكُلَ وَيَسَعُهُ حُكْمًا إنْ لَمْ يَكُنْ غَصْبًا أَوْ رِشْوَةً اهـ وَفِي الْخَانِيَّةِ: امْرَأَةٌ زَوْجُهَا فِي أَرْضِ الْجَوْرِ إذَا أَكَلَتْ مِنْ طَعَامِهِ، وَلَمْ يَكُنْ عَيْنُهُ غَصْبًا أَوْ اشْتَرَى طَعَامًا أَوْ كِسْوَةً مِنْ مَالٍ أَصْلُهُ لَيْسَ بِطَيِّبٍ فَهِيَ فِي سَعَةٍ مِنْ ذَلِكَ وَالْإِثْمُ عَلَى الزَّوْجِ اهـ»

(کتاب الحظر والاباحۃ ،فصل فی البیع 6/386 ط سعید)

فتاوی محمودیہ میں ہے:

سوال :اگر کوئی آدمی حرام کما کر اپنی عورت کو کھلا وے تو عورت کو کھانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب :اگر وہ رشوت اور غصب نہ ہو تو گنجائش ہے،یعنی بعینہ حرام مال کا لینا ناجائز ہے ،البتہ اس کے عوض کی چیزوں میں وسعت ہے اور گناہ شوہر پر ہے۔

(کتاب الحظر والاباحۃ ،باب المال الحرام و مصرفہ 18/412 ط فاروقیہ)

دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے فتاوی میں ہے:

حرام کمانے والوں کے گھر والوں کے لیےیہ حکم ہے کہ حرام کمانے والوں سے حرام ذریعۂ  آمدن چھڑانے کی پوری کوشش کرتے رہیں،  پوری  کوشش کے باوجود اگر وہ نہ چھوڑیں تو  اگر ان کی بیوی کے لیے جائز  طریقے سے اپنے اخراجات برداشت کرنا ممکن ہو تو اس صورت میں ان کے لیےاپنے شوہر کے مال سے کھانا جائز نہیں اور اگر اپنے اخراجات برداشت کرنا ممکن نہ ہو تو اس صورت میں اپنے شوہر کے مال سے کھانا جائز ہے، حرام کھانے اور کھلانے کا گناہ شوہر پر ہوگا۔ نابالغ اور چھوٹے بچوں کے لیے بھی یہی حکم ہے۔ البتہ گھر کے بالغ افراد پر لازم ہے کہ خود کما کر کھائیں، حرام کمانے والے کے مال سے نہ کھائیں۔

(گھر کا سربراہ حرام کماتاہو تو اہلِ خانہ کے لیے حکم فتویٰ نمبر : 144105200276)

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

دارالافتاء مدرسہ عارف العلوم کراچی

25 محر م الحرام 1448ھ/11 جولائی 2026ء

                                                                                                                                                                     فتوی نمبر:529