فتوے
مکتب میں پڑھنےوالے طلباء کو مارنے کی حدود
سوال
مفتیان کرام سے ایک سوال یہ پوچھنا ہے کہ بچے کو تادیبا مارنا جائز ہے یا نہیں، اگر تادیبا مارنا جائز ہے تو پھر اس کے مارنے کی قوت کی کوئی حد بندی ہے یا نہیں کیونکہ دیکھنا یہ آیا ہے کہ اداروں کے اندر جب بچوں کو مارا جاتا ہے تو اتنی آواز آتی ہے کہ پوری کلاس گونج جاتی ہے اور ماں باپ بھی بعض ان چیزوں کی اجازت دیتے ہیں کیا بچوں کو اس قدر بری طرح سے مارنا جائز ہے جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری زندگی کسی بچے کو نہیں مارا، شرعی لحاظ سے میرے مسئلے کا جواب دیں۔
جواب
تعلیم و تربیت کی غرض سے نابالغ بچوں کو انکے اولیاء کی اجازت سے مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ مارنا جائز ہے : مار نےکا اثر جسم پر ظاہر نہ ہو اور ایک مرتبہ میں تین چپیٹ سے زیادہ نہ مارا جائے ،لکڑی سے نہ مارا جائے ،بچے کے تحمل و استطاعت سے زیادہ نہ مارا جائے ،سر اور چہرہ پر نہ مارا جائے ۔
جو شخص ان مذکورہ بالا حدود سے تجاوز کرکے بچوں کو اتنا زور سے مارے کہ مارنے کی آواز پوری کلاس میں گونج جائے یا اتنا زور سے مارا کہ بچے کے جسم پر نشان ظاہر ہوگیا یا اس کی ہڈی ٹوٹ گئی ،یا اسکو لکڑی سے مارا ،یا ایک ساتھ تین مرتبہ سے زیادہ چپیٹ ماردیں تو یہ ظلم و زیادتی ہے جو کسی صورت جائز نہیں(والدین یا اولیاء ایسی مار کی اجازت بھی دے دیں تب بھی ایسی پٹائی کرنا معلم کے لئے جائز نہیں ) ،ایسے شخص سے کل قیامت میں قصاص لیا جائے گا ،اور یہ عنداللہ مجرم ہوگا۔
الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:
(وَإِنْ وَجَبَ ضَرْبُ ابْنِ عَشْرٍ عَلَيْهَا بِيَدٍ لَا بِخَشَبَةٍ) لِحَدِيثِ «مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعٍ، وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ»
(قَوْلُهُ: بِيَدٍ) أَيْ وَلَا يُجَاوِزُ الثَّلَاثَ، وَكَذَلِكَ الْمُعَلِّمُ لَيْسَ لَهُ أَنْ يُجَاوِزَهَا «قَالَ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - لِمِرْدَاسٍ الْمُعَلِّمِ إيَّاكَ أَنْ تَضْرِبَ فَوْقَ الثَّلَاثِ، فَإِنَّك إذَا ضَرَبْت فَوْقَ الثَّلَاثِ اقْتَصَّ اللَّهُ مِنْك» اهـ إسْمَاعِيلُ عَنْ أَحْكَامِ الصِّغَارِ للأستروشني، وَظَاهِرُهُ أَنَّهُ لَا يُضْرَبُ بِالْعَصَا فِي غَيْرِ الصَّلَاةِ أَيْضًا.
(قَوْلُهُ: لَا بِخَشَبَةٍ) أَيْ عَصًا، وَمُقْتَضَى قَوْلِهِ بِيَدٍ أَنْ يُرَادَ بِالْخَشَبَةِ مَا هُوَ الْأَعَمُّ مِنْهَا وَمِنْ السَّوْطِ أَفَادَهُ ط.
(قَوْلُهُ: لِحَدِيثِ إلَخْ) اسْتِدْلَالٌ عَلَى الضَّرْبِ الْمُطْلَقِ، وَأَمَّا كَوْنُهُ لَا بِخَشَبَةٍ فَلِأَنَّ الضَّرْبَ بِهَا وَرَدَ فِي جِنَايَةِ الْمُكَلَّفِ. اهـ. ح وَتَمَامُ
(کتاب الصلوۃ 1/352 ط سعید )
(قَوْلُهُ وَالْأَبُ يَأْمُرُ) جُمْلَةٌ حَالِيَّةٌ أَيْ لَا يَجُوزُ ضَرْبُ وَلَدِ الْحُرِّ بِأَمْرِ أَبِيهِ، أَمَّا الْمُعَلِّمُ فَلَهُ ضَرْبُهُ لِأَنَّ الْمَأْمُورَ يَضْرِبُهُ نِيَابَةً عَنْ الْأَبِ لِمَصْلَحَتِهِ، وَالْمُعَلِّمُ يَضْرِبُهُ بِحُكْمِ الْمِلْكِ بِتَمْلِيكِ أَبِيهِ لِمَصْلَحَةِ التَّعْلِيمِ، وَقَيَّدَهُ الطَّرَسُوسِيُّ بِأَنْ يَكُونَ بِغَيْرِ آلَةٍ جَارِحَةٍ، وَبِأَنْ لَا يَزِيدَ عَلَى ثَلَاثِ ضَرَبَاتٍ وَرَدَّهُ النَّاظِمُ بِأَنَّهُ لَا وَجْهَ لَهُ، وَيَحْتَاجُ إلَى نَقْلٍ وَأَقَرَّهُ الشَّارِحُ قَالَ الشُّرُنْبُلَالِيُّ: وَالنَّقْلُ فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ يَضْرِبُ الصَّغِيرَ بِالْيَدِ لَا بِالْخَشَبَةِ، وَلَا يَزِيدُ عَلَى ثَلَاثِ ضَرَبَاتٍ وَنَقَلَ الشَّارِحُ عَنْ النَّاظِمِ أَنَّهُ قَالَ: يَنْبَغِي أَنْ يُسْتَثْنَى مِنْ الْأَحْرَارِ الْقَاضِي، فَإِنَّهُ لَوْ أَمَرَهُ بِضَرْبِ ابْنِهِ جَازَ لَهُ أَنْ يَضْرِبَهُ بَلْ لَا يَجُوزُ لَهُ أَنْ لَا يَقْبَلَ اهـ وَقَيَّدَهُ الشُّرُنْبُلَالِيُّ بِكَوْنِ الْقَاضِي عَادِلًا، وَبِمُشَاهَدَةِ الْحُجَّةِ الْمُلْزِمَةِ قَالَ: وَلَا يَعْتَمِدُ عَلَى مُجَرَّدِ أَمْرِ الْقَاضِي الْآنَ
(کتاب الحظر والاباحۃ ،فصل فی البیع 6/430 ط سعید )
فتاوی محمودیہ میں ہے:
سوال:۔ بچوں کو جوحضرات تعلیم دیتے ہیں، وہ ان کو مارتے بھی ہیں، مرغابناتے ہیں تواس میں کس قدر گنجائش ہے ،اوراگرکسی کومارا ، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ بے خطاہے ، توکیا صورت تلافی کی ہے ؟
الجواب :بچوں کے اولیاء کی اجازت سے بضرورت تعلیم مارنا سزادینا شرعاً درست ہے ،مگر بچوں کے تحمل سے زائد نہیں ،ایک دفعہ تین ضربات سے زیادہ نہ مارے لکڑی وغیرہ سے نہ مارے۔
سوال:۔ استاذ اپنے شاگرد کو کتنا مارسکتاہے؟کیا شریعت نے اس کی کوئی حدمقرر کی ہے،ایک مولوی صاحب فرمارہے تھے کہ استاذ اپنے شاگردکو تین چھڑی سے زائد نہیں مار سکتا، اگرماراتویہ ظلم ہوگا ،احقر کہتاہے کہ اگرطالبعلم تین چھڑی کھانے کے باوجود سبق یاد نہ کرتاہو ،شرارت سے باز نہ آتا ہو ، تواس صورت میں استاذ اگراپنے شاگرد کو نیک نیتی سے اوراس کی خیرخواہی کی خاطر اوراس کی اصلاح کی خاطر اوراس کو سبق یاد ہونے کی خاطر اور طالبعلم اپنی شرارت سے باز آنے کی خاطر اپنے شاگرد کو تین چھڑی سے زائد مارے تو کیا یہ جور وظلم ہوگا،اورعنداللہ ظالم ہوگا؟
الجواب حامداًومصلیاً چھوٹے بچوں کو بغیر چھڑی وغیرہ کے صرف ہاتھ سے وہ بھی انکے تحمل کے موافق تین چپت تک مارسکتاہے، وہ بھی سراورچہرہ کو چھوڑ کر یعنی گردن اور کمر پر ،اس سے زیادہ کی اجازت نہیں، ورنہ بچہ قیامت میں قصاص لیں گے،بچوں پر شفقت اور نرمی کی جائے، اب پیٹنے کا دور تقریباً ختم ہوگیا، اس کے اثرات اچھے نہیں ہوتے، بچے بے حیا اور نڈر ہوجاتے ہیں، مارکھانے کے عادی ہوکریادنہیں کرتے، بلکہ اکثر توپڑھنا ہی چھوڑ دیتے ہیں، شامی میں یہ مسئلہ مذکور ہے ، اس سلسلہ میں حدیث بھی نقل کی ہے ۔۱ فقط واللہ تعالیٰ اعلم
(کتاب الحدود و القصاص والشھادۃ 14/127،129 ط فاروقیہ )
شیخ الاسلام حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب اپنے مواعظ میں ارشاد فرماتے ہیں کہ:
یہ بات بھی سمجھ لینی چاہئے کہ استاد کے لئے یا ماں باپ کے لئے بچے کو اس حدتک مارنا جائز ہے، جس سے بچے کے جسم پر مارکا نشان نہ پڑے۔ آج کل یہ جو بےتحاشہ مارنے کی ریت ہے یہ کسی طرح بھی جائز نہیں ۔ جیسا کہ ہمارے یہاں قرآن کریم کے مکتبوں میں مارپٹائی کا رواج ہے اور بعض اوقات اس مارپٹائی میں خون نکل آتا ہے، زخم ہوجاتا ہے یا نشان پڑجاتا ہے یہ عمل اتنا بڑا گناہ ہے کہ حضرت حکیم الامت مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ اس گناہ کی معافی کی کیا شکل ہوگی؟ اس لئے کہ اس گناہ کی معافی کس سے مانگے؟ اگر اس بچے سے مانگے تو وہ نابالغ بچہ معاف کرنے کا اہل نہیں ہے اس لئے کہ اگر نابالغ بچہ معاف بھی کردے تو شرعاً اس کی معافی کا اعتبار نہیں اس لئے حضرت والا فرمایا کرتے تھے اس کی معافی کا کوئی راستہ سمجھ میں نہیں آتا، اتنا خطرناک گناہ ہے۔ اس لئے استاد اور ماں باپ کو چاہئے کہ وہ بچے کو اس طرح نہ ماریں کہ اس سے زخم ہوجائے یا نشان پڑجائے۔ البتہ ضرورت کے تحت جہاں مارنا ناگزیر ہوجائے صرف اس وقت مارنے کی اجازت دی گئی ہے۔اس کے لئے حکیم الامت حضرت مولانا تھانوی قدس اللہ سرہٗ نے ایک عجیب نسخہ بتایا ہے اور ایسا نسخہ وہی بتاسکتے تھے، یاد رکھنے کا ہے، فرماتے تھے کہ جب کبھی اولادکو مارنے کی ضرورت محسوس ہو، یا اس پر غصہ کرنے کی ضرورت محسوس ہوتو جس وقت غصہ آرہا ہو اس وقت نہ مارو بلکہ بعد میں جب غصہ ٹھنڈا ہوجائے تو اس وقت مصنوعی غصہ پیدا کرکے مارلو اس لئے کہ جس وقت طبعی غصہ کے وقت اگر ماروگے یا غصہ کروگے تو پھر حد پر قائم نہیں رہوگے، بلکہ حد سے تجاوز کرجائوگے، اور چونکہ ضرورتاً مارنا ہے اس لئے مصنوعی غصہ پیدا کرکے پھر مارلو، تاکہ اصل مقصد بھی حاصل ہوجائے اور حد سے گزرنا بھی نہ پڑے۔اور فرمایا کرتے تھے کہ میں نے ساری عمر اس پر عمل کیا کہ طبعی غصے کے وقت نہ کسی کو مارا اور نہ ڈانٹا۔ پھر جب غصہ ٹھنڈا ہوجاتا تو اس کو بلاکر مصنوعی قسم کا غصہ پیدا کرکے وہ مقصد حاصل کرلیتا۔ تاکہ حدود سے تجاوز نہ ہوجائے۔ کیونکہ غصہ ایک ایسی چیز ہے کہ اس میں انسان اکثر و بیشتر حد پر قائم نہیں رہتا۔اسی لئے حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ایک اصول بیان فرمایا کرتے تھے۔ جو اگرچہ کلی اصول تو نہیں ہے، اس لئے کہ حالات مختلف بھی ہوسکتے ہیں لیکن اکثر و بیشتر اس اصول پر عمل کیا جاسکتا ہے کہ جس وقت کوئی شخص غلط کام کر رہا ہو، ٹھیک اس وقت میں اس کو سزا دینا مناسب نہیں ہوتا بلکہ وقت پر ٹوکنے سے بعض اوقات نقصان ہوتا ہے۔ اس لئے بعد میں اس کو سمجھادو، یا سزادینی ہوتو سزا دیدو۔ دوسرے یہ کہ ہرہرکام پر بار بار ٹوکتے رہنا بھی ٹھیک نہیں ہوتا۔ بلکہ ایک مرتبہ بٹھاکر سمجھادو کہ فلاں وقت تم نے یہ غلط کام کیا، فلاں وقت یہ غلط کیا اورپھر ایک مرتبہ جو سزا دینی ہے دیدو۔ واقعہ یہ ہے کہ غصہ ہرانسان کی جبلت میں داخل ہے، اور یہ ایسا جذبہ ہے کہ جب ایک مرتبہ شروع ہوجائے تو بعض اوقات انسان اس میں بے قابو ہوجاتا ہے اور پھر حدود پر قائم رہنا ممکن نہیں رہتا، اس لئے اس کا بہترین علاج وہی ہے جو ہمارے حضرت تھانوی قدس اللہ سرہٗ نے تجویز فرمایا۔بہرحال! اس سے یہ معلوم ہوا کہ اگر ضرورت محسوس ہوتو کبھی کبھی مارنا بھی چاہئے، آج کل اس میں افراط و تفریط ہے، اگر ماریں گے تو حد سے گزرجائیں گے، یا پھر بالکل مارنا چھوڑدیا ہے، اور یہ سمجھتے ہیں کہ بچے کو کبھی نہیں مارنا چاہئے۔ یہ دونوں باتیں غلط ہیں وہ افراط ہے اوریہ تفریط ہے، اعتدال کا راستہ وہ ہے جو نبی کریم ﷺ نے بیان فرمادیا ہے۔
(اصلاحی خطبات ،أولاد کی اصلاح و تربیت ،بچوں کی مارنے کی حد 4/45،46،47 ط میمن اسلامک پبلشرز)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
دارالافتاء مدرسہ عارف العلوم کراچی 7 دسمبر 2019ء/9ربیع الثانی 1441 ھ فتویٰ نمبر:3
