info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

امانت رکھوانے والےکے انتقال کے بعد ،جبکہ اس کے اوپر قرضہ بھی لازم ہو ، امانت کی رقم سے متعلق مودَع کی ذمہ داری

سوال

 

سؤال:محترم مفتی صاحب آپ سے درج ذیل مسئلہ پر رائے کی ضرورت ہے:

میرے ماموں سید حسین اصغر تقریبا ً 2 سال پہلے انتقال فرماگئے ،انتقال کے وقت ان کے پاس صرف ایک بینک اکاؤنٹ میں کچھ پیسے تھے ،ان کی نہ ہی کوئی اولاد ہے اور ان کی زوجہ کا پہلے ہی انتقال ہوچکا  تھا،ان کے لواحقین میں 2 چھوٹے بھائی اور دو چھوٹی بہنیں ہیں ۔

انتقال کے وقت ان کے اوپر کافی قرضہ تھا جو کہ کسی بیرون ملک بینک کا ہے ،انتقال سے پہلے انہوں نے اپنا گھر اس نیت سے بیچا کہ وہ قرضہ ادا کردیں ،سہولت کے لئے انہوں نے میرے بھائی کے ساتھ جوائنٹ اکاؤنٹ کھولا تھا،ان کے انتقال کے بعد یہ پیسا جو کہ مکان کے فروخت سے حاصل ہوا میرے بھائی کے پاس محفوظ ہے۔

سؤال1:میرا بھائی اس امانت داری سے سبکدوش ہونا چاہتا ہے ،اور چاہتا ہے کہ لواحقین اس سے یہ پیسے لے لیں ،مگر بھائی بہنوں میں کچھ اختلافات کے باعث کوئی بھی اس پیسے کو کسی دوسرے کے حوالہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔کیا میرے بھائی کے لئے یہ صحیح ہے کہ وہ ان بھائی بہنوں میں سے کسی ایک کو سارے پیسے دےدے تاکہ وہ خود ہی آپس میں تقسیم کرلیں اور میرے بھائی کی ذمہ داری پوری ہوجائے؟

سوال 2:انتقال سے پہلے جائیداد کی فروخت کے وقت بڑے ماموں نے  جائیداد کا آدھا حصہ اپنے چھوٹے بھائی کے صرف  نام کردیا تھا   جو کہ ایک انتظامی ضرورت کے تحت  ہوا تھا ان کو آدھا حصہ کا مالک نہیں بنایا تھا ،اور پھر انتظامی ضرورت پوری ہونے کے بعد بڑے ماموں نے چھوٹے ماموں سے جائیداد کی واپسی کا مطالبہ کرتے رہے ،لیکن چھوٹے ماموں نے واپس نہیں کیا اور مکان فروخت ہونے کے بعد زبردستی آدھی قیمت خود رکھ لی ،ان کا کیا یہ عمل جائز ہے ؟اور پھر کیا چھوٹے ماموں بقیہ آدھے مکان کی قیمت میں بھی حصہ دار ہوں گے؟

سوال3:قرضہ کی کل مالیت صرف اندازہ کے تحت ہے ،بینک بیرون ملک ہونے کی وجہ سے قرضے کی مالیت بتانے سے گریز کررہا ہے ،بینک چاہتا ہے کہ اصل وارثین میں سے کوئی ان سے رابطہ کرے سارے کاغذات کے ساتھ ،اب تک کسی بھائی یا بہن نے بینک سے بتائے ہوئے طریقہ پر رابطہ نہیں کیا ،اس سلسلے میں کیا کرنا چاہئے؟

سائل:فیصل نذیر  03172128464

جواب

شریعت مطہرہ میں اگر  کوئی شخص کسی دوسرے کے پاس امانت رکھوائے ،اور پھر امانت رکھوانے والے کا انتقال ہوجائے اور اس پر قرضہ بھی ہو اور اس امانت کی رقم کے علاوہ اس قرضہ کو ادا کرنے کا کوئی دوسرا مال بھی  اس کے ترکہ میں نہ ہو تو ایسی صورت میں مودَع(جس کے پاس امانت رکھوائی گی ہے )پر لازم ہے کہ وہ حاکم یا قاضی سے رجوع کرکے اس کی اجازت وحکم سے  اس رقم سے پہلے میت کا قرضہ ادا کرے اور پھر بقایا رقم ورثاء میں ان کے حصوں کے بقدر تقسیم کرکے ہر وارث کو اس کا حصہ پہنچا دے۔

1۔صورت مسؤلہ میں سائل کے بھائی کے پاس مرحوم ماموں کی رقم امانتاً موجود ہے،اور مرحوم پر قرضہ بھی  ہےاور اس امانت کی رقم کے علاوہ کوئی  ان کے ترکہ کوئی دوسرا مال موجود نہیں ہے جس سے ان کا قرضہ ادا ہوسکے تو سائل کے بھائی پر لازم ہے کہ وہ قاضی یا حاکم سے رجوع کرکے ان کی اجازت وحکم سے پہلے  مرحوم  کا  قرضہ ادا کرے،قرضہ ادا کرنے کے بعد،بقایا رقم تقسیم کرکے مرحوم کے ہر وراث کو اس کا شرعی حصہ  ادا کردے،اور اگر مرحوم ماموں کے ورثاء میں سے کوئی قابل اعتبار اور امانت دار وراث  موجود ہو ، جو اس ذمہ داری  کو ادا کرنے پر راضی ہو تو کل رقم اس کے حوالہ کرنا بھی جائز ہے ،اور پھر اس وارث پر لازم ہوگا کہ وہ پہلے اپنے مورث کا قرضہ ادا کرے اور بقیہ رقم تمام ورثاء میں کوان کے شرعی حصوں کے اعتبار سے ادا کردے۔

2۔سائل کے مرحوم ماموں نے اگر واقعی اپنا آدھا مکان اپنے چھوٹے بھائی کے صرف ایک انتظامی ضرورت کے تحت نام کیا تھا ،ان کو مالک نہیں بنایا تھا،اور پھر سائل کے چھوٹے ماموں زبردستی مکان کی آدھی قیمت پر زبردستی قبضہ کرلیا تو یہ ناجائز اور حرام ہے ،ان کے لئے ایسا کرنا شرعاً درست نہیں ہے ،قرآن وحدیث میں اس عمل پر سخت وعیدیں آئی ہیں،ان پر لازم ہے کہ یہ رقم واپس کردے تاکہ مرحوم کے تمام ورثاء میں ان کی شرعی حصص کے اعتبار سے تقسیم کرلی جائے،اور اگر سائل کے چھوٹے ماموں مذکورہ رقم واپس کرنے پر رضامند نہ ہو تو سائل کے بھائی  کے پاس مرحوم ماموں کی جو رقم امانتاً رکھی ہوئی ہے ، تو دیگر ورثاء کے لئے یہ جائز ہے کہ اس رقم میں غاصب ماموں(  یعنی چھوٹے ماموں جنہوں نے زبردستی آدھا مکان کی قیمت اپنے پاس رکھی ہوئی ہے) کے حصے میں سے اپنا حق وصول کرلیں۔

3۔سائل کے بھائی کو چاہئے کہ وہ مرحوم ماموں کے لواحقین اور ورثاء کو قرضہ کی ادائیگی پر آمادہ کرے ،اور ان کو  شرعی حکم کی اہمیت ونزاکت کو سمجھا کر اس کام میں معاونت پر آمادہ کرے۔

 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

«غاب المودع ولا يدري حياته ولا مماته يحفظها أبدا حتى يعلم بموته وورثته، كذا في الوجيز للكردري. ولا يتصدق بها بخلاف اللقطة، كذا في الفتاوى العتابية. وإذا مات رب الوديعة فالوارث خصم في طلب الوديعة، كذا في المبسوط. فإن مات ولم يكن عليه دين مستغرق يرد على الورثة، وإن كان يدفع إلى وصيه، كذا في الوجيز للكردري. المودع إذا دفع الوديعة إلى وارث المودع، وفي التركة دين يضمن للغرماء ولا يبرأ بالرد على الوارث، كذا في خزانة المفتين، والله أعلم.»

 (کتاب الودیعۃ ،الباب السابع فی رد الودیعۃ 4/354 ط رشیدیہ)

درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

(المادۃ:802)اذا توفی المودع تدفع الودیعۃ الیٰ وارثہ ۔واما اذا کانت الترکۃ متفرقۃ بالدین یراجع الحاکم  واذا دفعہا المستودع الیٰ الوارث بلا مراجعۃ الحاکم واستہلکہا الوارث یکون المستودع ضامناً۔

تعطیٰ الودیعۃ عند وفاۃ المودِع لوارثہ او لوصیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وامااذا کانت الترکۃ مستغرقۃ بالدین یراجع الحاکم وتعطیٰ الودیعۃ بامرہ الیٰ الجہۃ اللتی تقتضی اعطاءہا واذا اعطاہا المستودع الیٰ الوارث بدون امر الحاکم واستہلکہا الوارث یکون المستودع ضامنا للغرماء ،لان الدین مقدم علیٰ الارث فقد تعلق حق الغرماء الودیعۃ (الھندیۃ)۔ویستثنیٰ ما اذا کان الوارث المرقوم امینا فلہ ان یا خذا الودیعۃ ویفی الدین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ولزم مراجعۃ الحاکم فی اعادۃ الودیعۃ یکون فی الصورۃ اللتی تکون الترکۃ مستغرقۃ بالدین ،واما اذا لم تکن الترکۃ مستغرقۃ بالدین ،یعنی اذا کان للترکۃ مال اخر یکفی للدین بقطع النظر عن الودیعۃ لایلزم الضمان باعطائہا للوارث۔

(الکتاب السادس  الامانات،الباب الثانی ،الفصل الثانی 2/310،311 ،المادۃ 802 ط رشیدیہ)

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

    یکم صفر المظفر  1448ھ/16 جولائی 2026                          

فتوی نمبر :531