info@bismillah.com +(00) 123-345-11

مدرسہ عارف العلوم

فتوے

Banner

بکری یا دنبی کے ایک سال سے کم عمر بچوں پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں

سوال

بکریوں اور دنبہ کا نصاب زکوۃ 40 عدد جو ایک سال یا اس سے زائد ہوں پر ایک بکری یا دنبہ واجب ہوتی ہے،اب سؤال یہ ہے کہ کسی شخص کے پاس اگر 30 عدد بکریاں یا دنبہ ایک سالہ ہوں اور 10 عدد دنبہ  یا بکریاں ایک سال سے کم ہوں تو ان چھوٹوں کو بڑوں کےساتھ ملا کر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟کیونکہ زکوۃ واجب ہونے کے لئے حولان حول اور سائمہ ہونا شرط ہے ،اور بچوں پر حولان حول نہیں ہوا۔

جواب

واضح رہے کہ اگر دنبے  اور بکریاں ایک سال سے کم  عمر تنہا ہوں اور ان کے ساتھ  ایک سالہ بکری یا دنبہ نہ ہو  تو ان پر زکوۃ واجب نہیں ہوتی  ،چاہے ان کی تعداد جتنی بھی زیادہ ہوجائے لیکن اگر یہ ایک سال سے کم عمر بچے ،بڑوں کے ساتھ م...

تفصیلات دیکھیں

Banner

ناسمجھ قریب البلوغ بچے کا اپنی والدہ کے ساتھ سونا ا ور والدہ کا اس کو استنجاء اور غسل کرانے کا حکم

سوال

: میرا بیٹا 14 سال کا ہے اور ایک نفسیاتی مسئلہ کا بچپن سے شکار ہے۔ ڈاکٹروں کی تشخیص کے مطابق اس نفسیاتی مسئلے کو آٹزم (Autism) کہتے ہیں۔ اس کو یہ مسئلہ شدید نوعیت کا ہے گو کہ کچھ بچے اس سے بھی زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس مسئلہ کی وجہ سے اس کی ذہنی نشوونما عمر کے لحاظ سے کافی پیچھے ہے۔ جسمانی طور پر 14 سال کا ہونے کے باوجود اس کی ذہنی عمر 8 سال کی ہے۔ اسی نفسیاتی مسئلہ کی وجہ سے عثمان کو ہر چیز اپنی سمجھ کے مطابق چاہیے ہوتی ہے اور جو کام ایک طرح سے کر لے وہ ہر روز اسی وقت پر اسی طرح کرنا چاہتا ہے، کھانے پینے، پہننے اوڑھنے، یہاں تک کہ صابن کے استعمال میں اس کو صرف اپنی سمجھ کی چیز چاہیے جو نہ ملنے پر وہ شدید پریشانی اور غصے کا شکار ہوتا ہے اور مارنے پیٹنے، توڑ پھوڑ کرنے، اور اپنے آپ کو نقصان پہنچانے تک چلا جاتا ہے۔ کئی موبائل فون، کئی ٹی وی، کئی کمپیوٹر، کئی دروازے، اور بہت کچھ اس کے غصے کی زد میں آچکے ہیں۔ اسی نفسیاتی کیفیت یا بیماری کی وجہ سے اس کے جسم کے کچھ حصے، خاص طور پر ہاتھ کی انگلیاں ٹھیک طرح گرفت اور قوت نہیں رکھتیں اور وہ باریک چیزیں مشکل سے پکڑتا ہے اور جہاں بھی ہاتھ کا استعمال درکار ہو وہاں اسے مشکل ہوتی ہے، اپنی طہارت کے لئے بھی وہ ماں پر انحصار کرتا ہے۔ خود سے وہ اپنے آپ کو صاف نہیں رکھ پاتا۔ گو کہ کوشش کرتا ہے اور ہم اس سے کروا بھی رہے ہیں۔ بولنے میں مشکل کے باعث بھی بہت بے چین اور غصیلہ رہتا ہے۔ اچھے اور برے کی تمیز بھی نہیں کر پاتا۔ شرم و حیا کی بھی سمجھ اور احساس نہیں ہے۔ یہ تمام عادات دراصل اسی نفسیاتی مسئلے کی علامات ہیں۔ اس کو دوا کے ذریعے پرسکون رکھنا پڑتا ہے۔ بہرحال اللہ کا شکر ہے کہ بہت سی اور علامات اس میں نہیں ہیں، جیسے بالکل ہی بات کرنے کے قابل نہ ہونا۔

اب سؤال یہ ہے کہ اس کی والدہ کا ایسے بچے کا استنجاء کرانا اور اس کو نہلانا اور غسل دینا کا شرعی حکم کیا ہے؟کیونکہ یہ امور وہ والدہ کے بغیر نہیں کرتا ،اور اسی طرح یہ رات کو اپنی والدہ کے ساتھ سوتا ہے اور ان کے بغیر یہ آرام نہیں کرتا تو اس کا اپنی والدہ کے ساتھ سونا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ ۔

جواب

صورت مسؤلہ میں ذکر کردہ بچہ  شرعاً معتوہ کے حکم میں ہے۔ ان کی والدہ کو اس بچہ کا ستر (ناف سے لیکر گھنٹے تک حصہ )دیکھنا شرعاً جائز نہیں ہے ،اس لئے بہتر یہی ہے کہ  مذکورہ بچہ استنجاء  اور غسل خود کرے  اور اس کو آہستہ آہستہ  اس...

تفصیلات دیکھیں

Banner

موٹیوشنل گانے لکھنے اور گانے کا حکم

سوال

محترم مفتی صاحب! میرا نام محمد اویس ہے۔ میری عمر 16 سال ہے۔ میں ایک سوال اللہ کی رضا جاننے کے لیے پوچھ رہا ہوں، بحث کرنے کے لیے نہیں۔ میری خواہش ہے کہ میں صرف ایسے موٹیویشنل گانے لکھوں اور گاؤں جن میں کوئی گالی، فحاشی، شرک، کفر یا گناہ کی دعوت نہ ہو۔ میرا مقصد لوگوں کو محنت، امید، والدین کی عزت، اچھے اخلاق اور اللہ پر بھروسہ کی طرف راغب کرنا ہے، نہ کہ لوگوں کو دین سے دور کرنا۔ میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں کوئی ایسا کام کر بیٹھوں جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہ ہو۔ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس مقصد کے ساتھ ایسے گانے لکھنا اور گانا جائز ہے یا نہیں؟ جزاکم اللہ خیراً؟

جواب

گانے لکھنا اور گانا جائز نہیں ہے،البتہ اصلاح معاشرہ،تربیت  اور دعوت الی اللہ کے ایسے اشعار کہنا جو قرآن وحدیث کے منافی نہ ہوں ،اور حقیقت پر مبنی ہوں،لکھنے کی گنجائش ہے ،اور پھر ان اشعار کو پڑھنے کے لئے ایسا انداز اختیار کیا جائے  جس میں میو...

تفصیلات دیکھیں

Banner

حقیقی بھائی کی رضاعی بہن سے شادی کرنے کا حکم

سوال

میرے بڑے بھائی کو ایک عورت نے دودھ پلایا تھا ،اور میں اس عورت کی بیٹی کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہوں ۔تو کیا میں یہ شادی کرسکتا ہوں؟

جواب

صورت مسؤلہ میں سائل کے  لئے اپنے حقیقی بھائی کی رضاعی بہن سے شادی کرنا شرعاً جائز ہے۔ فتاوی شامی میں ہے: «(وَتَحِلُّ أُخْتُ أَخِيهِ رَضَاعًا) يَصِحُّ اتِّصَالُهُ بِالْمُضَافِ كَأَنْ يَكُونَ لَهُ أَخٌ نَسَبِيٌّ لَهُ أُخْتٌ رَضَاعِيَّةٌ، و...

تفصیلات دیکھیں

Banner

میں تم کو زندگی بھر ہاتھ نہیں لگاؤں گا،مجھ پر حرام ہے اگر میں تم کوہاتھ لگاؤں،متعدد بار الفاظ ایلاء کہنے کا حکم

سوال

بیوی کا بیان

سؤال: میرا نام کرن ریحان  اور میرے شوہر کا نام ریحان خان  ہے  مسئلہ یہ ہے کہ 13 سال پہلے ایک گھریلو جھگڑے میں میرے شوہر نے مجھے ایک ساتھ دو طلاقیں دی تھیں ،دو دفعہ میرے شوہر نے بولا تھا میں تم کو طلاق دیتا ہوں اس وقت اس کمرے میں میری ساس نجمہ خاتون ،میری نند روزینہ،اور ایک اور نند نازیہ اور میری نند کا شوہر ارشد  میرے شوہر موجود تھے اور میری نند کے شوہر نے میرے شوہر کے منہ پر ہاتھ رکھا تھا دو طلاق کہنے کے بعد  اس واقعے کے بعد میرا میرے شوہر کے ساتھ رجوع ہوگیا  تھا  ،اس کے بعد 2023 میں ہم  امریکہ آگئے ،ملک سے دوری سے میرے شوہر انزائٹی میں تھے،اور ہم ایک روم میں 2 بچے اور ہم میاں بیوی ساتھ تھے ،ایک روم کی وجہ سے رجوع میں بھی مسئلہ تھا لیکن بچے روم میں نہیں ہوتے تو بہت کم رجوع ہوتا تھا،شوہر نے مجھے غصے میں تین چار دفعہ الگ الگ وقت میں بولا کہ میں تم کو زندگی بھر یاتھ نہیں لگاؤں گا ، میں میرے شوہر نے مجھے بولا کہ"میں قسم کھاتا ہوں زندگی بھر ہاتھ نہیں لگاؤں گا "،پھر کسی اور دن بولا" ہوش وحواس میں بولتا ہوں تم سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے،زندگی بھر ہاتھ نہیں لگاؤں گا"ایسا دو تین بار بولا ،پھر کسی اور دن غصے میں بولا "میں تم کو زندگی بھر ہاتھ نہیں لگاؤں گا،مجھ پر حرام ہے اگر میں تم کو ہاتھ لگاؤں"۔اس بات کی گواہ صرف میں ہوں اور مجھے اچھی طرح بات یاد ہے کہ ایسا بولا تھا مجھے ۔میرے شوہر کو یاد نہیں کہ کیا ہوا تھا 13 سال پہلے بھی ان کو طلاق کا لفظ ٹھیک سے یاد نہیں آرہے اور نہ ان کو 2023 کی کوئی بات یاد آرہی ہے ،میرے شوہر کا کہنا ہے اگر ان سے کچھ بولا ہے تو ان کا مقصد طلاق نہیں تھا اور پھر شوہر قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھا کر بولا ہے مجھے ان کا مقصد طلاق یا کچھ اور نہیں تھا لیکن ان کو یاد نہیں آرہا ہے کہ بولا کیا تھا میرے شوہر کو کچھ یاد نہیں کیونکہ یہ دو سال پہلے ہوا تھا ان کا کہنا ہے کہ ان کی نیت میں کچھ غلط نہیں تھا،برائے مہربانی میری اور میرے شوہر کی راہنمائی کی جائے۔

وضاحت: شوہر نے جب  یہ بات کہی اس  کے ایک ماہ بعد پھر ہمبستری ہوئی تھی۔

شوہر کا بیان

میرا نام ریحان خان ہے اور بیوی کا نام کرن ریحان ہے گذارش یہ ہے کہ 13 سال پہلے گھر میں ایک گھریلو جھگڑا ہوا جس میں دو طلاق کا لفظ آیا ،لیکن مجھے یاد نہیں کہ طلاق دی یا دے دوں گا کا لفظ کہا تھا ،جھگڑا ختم ہوا اور ہم نے فورا رجوع کرلیا اور سب صحیح چلتا رہا  2023 میں ہم لوگ امریکہ آگئے جہاں پر ہم ایک کمرے میں رہتے تھے تو رجوع میں مشکلات تھیں بچوں کی وجہ سے اور ایک دن میں نے بولا کہ میں ہاتھ نہیں لگاؤں گا بیوی کو لیکن حرام کے الفاظ بولا تھا یا نہیں بولا تھا مجھے یاد نہیں ہے لیکن میری ایسی کوئی نیت نہیں تھی جس سے طلاق کا شبہ ہوا ،میں نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر اللہ کو حاضر ناظر جان کر بولا ہے کہ ایسی کوئی نیت نہیں تھی اور ہے اور ہم رجوع میں رہے ہیں اس بات کے بعد بھی اور ابھی تک ۔

لہذا راہنمائی فرمائیں اور ہمیں اس معاملہ کا حل بتائیں اور کفارہ بتائیں۔

جواب

صورت مسؤلہ میں سائلہ کے بیان کے مطابق اس کو اس کے شوہر نے اپنی والدہ ،بہنوں اور بہنوئی کے سامنے دو مرتبہ ان الفاظ کے ساتھ طلاق دی تھی کہ"میں تم کو طلاق دیتا ہوں " اگر واقعی یہ بات درست ہے اور مذکورہ افراد سائلہ کی بات پر گواہی بھی دیتے ہیں تو سائلہ پ...

تفصیلات دیکھیں

Banner

موھوبہ مکان میں رہائش رکھتے ہوئے گھر کا ایک حصہ اپنی بیٹی اور دوسرا حصہ اہلیہ کو ہدیہ کرنے کا حکم

سوال

:بعد از سلام عرض خدمت ہے کہ ہمارے والدصاحب کی ایک جگہ رہائشی مکان جو کہ لاڑکانہ میں موجود ہے وہ گھر والد صاحب نے اپنی زندگی میں آدھا حصہ ہماری ایک بہن بنام زیبا رانی اور باقی حصہ ہماری والدہ بنام رفیق بیگم کے نام کردیا تھا بعد از والد والدہ کے انتقال کے بعد ،والدہ کی میراث ہم پانچ بہن بھائیوں کے نام سٹی سروے ریکارڈ میں تبدیل ہوچکا ہے اب یہ جگہ جو کہ 5 بھائیوں اور 7 بہنوں کے نام تھی ان میں سے 3 بھائی اور ایک بہن انتقال کرگئے ہیں ،یہ یاد رہے کہ والدہ کے انتقال کے بعد یہ جگہ مندرجہ بالا تمام وارثین کے نام ٹرانسفر ہوچکی ہے اور ان بھائیوں کے انتقال کے بعد ان کے بچوں کے نام ریکارڈ پر موجود ہیں اب یہ جگہ فروخت کردی گی ہے لہذا معلوم یہ کرنا ہے کہ اس جگہ پر آنے والا خرچہ رجسٹری کاغذات کی بنوائی ،آفس کا خرچہ ،لاڑکانہ آنے جانے کا خرچہ کس طرح تقسیم ہوگا جبکہ آدھا حصہ بہن اور بقیہ آدھا حصہ تمام وارثین کو جاتا ہے اس میں وہ بہن بھی شامل ہے جس کا آدھا حصہ اس کے نام ہے یعنی زیبا رانی کا آدھا حصہ اور باقی آدھا حصہ تمام وارثین جنکے نام یہ ہیں:

1۔محمد ایوب 2۔محمد سرتاج(مرحوم)3۔خالد عبدالجبار(مرحوم)،4۔ظہیر الدین بابر،5۔مقصود گڈو بھائی۔

1۔نجمہ،2۔رئیسہ،3۔سلطانہ،4۔زیبا رانی،5۔ممتاز،6۔سلمیٰ،7۔نفیسہ (مرحومہ)

وضاحت :بہن بھائیوں کا انتقال والد اور والدہ کے انتقال کے بعد ہوا۔اور والد صاحب اپنی وفات تک اسی مذکورہ مکان میں رہائش پذیر تھے جس کا آدھا حصہ انہوں نے اپنی بیٹی زیبا رانی اور آدھا حصہ اپنی اہلیہ کو ہدیہ کیا تھا۔

جواب

شریعت مطہرہ کی روشنی میں ہدیہ(گفٹ) اس وقت درست ہوتا ہے جبکہ مالکانہ حقوق کے ساتھ قبضہ  بھی دے دیا جائے اور مکان کا قبضہ تام ہونے کا شرعاً طریقہ یہ ہے واہب(یعنی مالک مکان،ہدیہ کرنے والا)اپنا مکمل سامان اس مکان سے نکال دے اور خود بھی اس مکان سے نک...

تفصیلات دیکھیں

Banner

پرنٹ شدہ تصویر موبائل کے پیچھے لگانا

سوال

پرنٹ شدہ تصویر موبائل کے پیچھے لگانا جائز ہے یا نہیں ؟اس کی کمائی کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جاندار کی تصویر بنانا ،اور اس کا پرنٹ کرکے موبائل کے پیچھے لگانا حرام اور ناجائز ہے،اور اگر کوئی شخص اس کی کمائی کرتا ہے تو ایسی کمائی بھی حرام اور ناجائز ہے۔ حدیث شریف میں ہے: عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ. قَالَ: سَمِعْتُ رَسُول...

تفصیلات دیکھیں

Banner

مردوں کے لئے پینٹ شرٹ پہننے کا کیا حکم ہے

سوال

مردوں کے لئے پینٹ شرٹ پہننے کا  کیا حکم  ہے؟

جواب

مردوں کے لئے ایسی تنگ وچست  پینٹ شرٹ پہننا جس میں جسم کے مستورہ اعضاء(ناف سے لیکر گھنٹے تک کا حصہ ) کی بناوٹ اور حجم نظر آتا ہو تو اس کا  پہننا ،دیکھنا ،دکھانا سب ناجائز اور حرام  ہے ، اور عموماً ہمارے معاشرہ میں اکثر استعمال ہونے والی...

تفصیلات دیکھیں

Banner

بچے کو نماز کے دوران واش روم لے جانے کے بعد کیا دوبارہ وضو کرنا ضروری ہے

سوال

اگر نماز کے دوران بچے کو واش روم لے جانا ہو تو کیا اس کو واش روم کروانے کے بعد دوبارہ وضو کرنا لازمی ہے ،بچہ چھوٹا ہے ،ابھی ۴ سال کا ہے ،جیسے تراویح کی نماز کے دوران اگر بچے کو واش جانا ہوتا ہے؟

جواب

بچے کو واش روم لے جانے کی صورت میں والدہ کا اگر اپنا وضو برقرار ہے اور نواقض  وضو(وضو كو توڑنے والی چیزیں)میں سے کوئی ناقض لاحق نہیں ہوا، تو محض بچے کو دھلانے اور واش روم لے جانے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا، اُن کو دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہے...

تفصیلات دیکھیں

Banner

سرکاری مقررکردہ نرخ سے زائد قیمت پر چیز کو فروخت کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ  چنے کی دال کا بازار میں جو عام ریٹ چل رہا ہے تقریبا  280 روپے فی کلو  اب ایک دکاندار ہے اس کے پاس اگر کوئی گاہگ آتا ہے اور وہ ایک کلو مانگتا ہے یا آدھا کلو مانگتا ہے تو وہ دکاندار 280 کے حساب سے کلو یا آدھا کلو دے دیتا ہے لیکن عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ گاہک 50 روپے کا یا 20 روپے کا یا 30 روپے کا دال مانگتا ہے تو پھر اس صورت میں دکاندار اس دال کی قیمت 300 روپے یا 310روپے لگاتا ہے کیونکہ دکاندار کا کہنا ہے کہ اگر میں 50 50 روپے کا یا 30 30 روپے کا تول کر280کے حساب سے کلو دیتا رہوں  تو اس میں میرا نقصان ہے اور ساتھ میں 20 یا 30 روپے دال کے ساتھ شاپر کا خرچہ بھی آئے گا ۔تو کیا بازار کی قیمت سے زیادہ کا ریٹ لگا کر 310 کے حساب سے دال بیچنا جائز ہے یا نہیں ؟جبکہ گاہک  کے ذہن میں یہ ہو کہ مجھے مارکیٹ کے ریٹ کے حساب سے ہی دال دے رہا ہے اور دونوں کے درمیان ریٹ کی وضاحت نہ ہوئی ہو

جواب

واضح رہے کہ شریعت مطہرہ نے اشیاء کی قیمتوں کا تعین بیچنے والے اور خریدنے والے کی باہمی رضامندی پر موقوف رکھا ہے،ہر شخص اپنے مملوکہ مال کو ظلم و زیادتی کئے بغیر جس قیمت پر بھی فروخت کرنا چاہے اس کو شرعاً اختیار حاصل ہے، عام حالات میں حکومت کو کسی بھی...

تفصیلات دیکھیں