info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

بکری یا دنبی کے ایک سال سے کم عمر بچوں پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں

سوال

بکریوں اور دنبہ کا نصاب زکوۃ 40 عدد جو ایک سال یا اس سے زائد ہوں پر ایک بکری یا دنبہ واجب ہوتی ہے،اب سؤال یہ ہے کہ کسی شخص کے پاس اگر 30 عدد بکریاں یا دنبہ ایک سالہ ہوں اور 10 عدد دنبہ  یا بکریاں ایک سال سے کم ہوں تو ان چھوٹوں کو بڑوں کےساتھ ملا کر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں؟کیونکہ زکوۃ واجب ہونے کے لئے حولان حول اور سائمہ ہونا شرط ہے ،اور بچوں پر حولان حول نہیں ہوا۔

جواب

واضح رہے کہ اگر دنبے  اور بکریاں ایک سال سے کم  عمر تنہا ہوں اور ان کے ساتھ  ایک سالہ بکری یا دنبہ نہ ہو  تو ان پر زکوۃ واجب نہیں ہوتی  ،چاہے ان کی تعداد جتنی بھی زیادہ ہوجائے لیکن اگر یہ ایک سال سے کم عمر بچے ،بڑوں کے ساتھ مل جائیں تو بڑوں کے تابع ہوکر ان پر زکوۃ  بھی واجب ہوتی ہے،اور ان کے ذریعہ سے نامکمل  نصاب کی تکمیل بھی ضروری ہوتی ہے ۔

لہذا صورت مسؤلہ میں اگر کسی شخص  کے پاس  ایک سالہ تیس عدد دنبے یا بکریاں ہوں اور دس عدد ایک سال سے کم عمر دنبے یا بکریوں ہوں تو بچوں کو بڑوں کا تابع کرکے نصاب مکمل ہوجائے گا اور زکوۃ واجب ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

«نِصَابُ الْغَنَمِ ضَأْنًا أَوْ مَعْزًا) فَإِنَّهُمَا سَوَاءٌ فِي تَكْمِيلِ النِّصَابِ وَالْأُضْحِيَّةِ وَالرِّبَا لَا فِي أَدَاءِ الْوَاجِبِ وَالْأَيْمَانِ (أَرْبَعُونَ وَفِيهَا شَاةٌ)»

«قَوْلُهُ: فِي تَكْمِيلِ النِّصَابِ) فَإِنْ نَقَصَ نِصَابُ الضَّأْنِ وَعِنْدَهُ مِنْ الْمَعْزِ مَا يُكْمِلُهُ أَوْ بِالْعَكْسِ وَجَبَتْ فِيهِ الزَّكَاةُ، وَكَذَا لَوْ كَانَ الْمَعْزُ نِصَابًا تَامًّا تَجِبُ فِيهِ»

(کتاب الزکوۃ ،باب زکوۃ الغنم 5/493،494 مقولہ 8020 ط رشیدیہ ت فرفور)

«وَ) لَا فِي (حَمَلٍ) بِفَتْحَتَيْنِ وَلَدِ الشَّاةِ (وَفَصِيلٍ) وَلَدِ النَّاقَةِ (وَعُجُولُ) بِوَزْنِ سِنَّوْرٍ: وَلَدِ الْبَقَرَةِ؛ وَصُورَتُهُ أَنْ يَمُوتَ كُلُّ»«الْكِبَارِ وَيَتِمُّ الْحَوْلُ عَلَى أَوْلَادِهَا الصِّغَارِ (إلَّا تَبَعًا لِكَبِيرٍ) وَلَوْ وَاحِدًا،»

(کتاب الزکوۃ ،باب زکوۃ الغنم 5/500،501 ط رشیدیہ ت فرفور)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

«ليس في الحملان والفصلان والعجاجيل صدقة عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وهو آخر أقواله، وهو قول محمد - رحمه الله تعالى -

وإذا كانت فيها واحد من المسان جعل الكل تبعا له في انعقادها نصابا دون تأدية الزكاة كذا في الهداية. حتى لو كان له أربعون حملا إلا واحدة مسنة تجب شاة وسط فإن كانت المسنة وسطا أو دونه أخذ،»

(کتاب الزکوۃ ،الباب الثانی  فی صدقۃ السوائم ،الفصل الخامس  فیما لاتجب فیہ الزکوۃ 1/178 ط رشیدیہ)

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

فتوی نمبر:534

تاریخ :7 صفر المظفر  1448ھ/22 جولائی 2026