info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

موھوبہ مکان میں رہائش رکھتے ہوئے گھر کا ایک حصہ اپنی بیٹی اور دوسرا حصہ اہلیہ کو ہدیہ کرنے کا حکم

سوال

:بعد از سلام عرض خدمت ہے کہ ہمارے والدصاحب کی ایک جگہ رہائشی مکان جو کہ لاڑکانہ میں موجود ہے وہ گھر والد صاحب نے اپنی زندگی میں آدھا حصہ ہماری ایک بہن بنام زیبا رانی اور باقی حصہ ہماری والدہ بنام رفیق بیگم کے نام کردیا تھا بعد از والد والدہ کے انتقال کے بعد ،والدہ کی میراث ہم پانچ بہن بھائیوں کے نام سٹی سروے ریکارڈ میں تبدیل ہوچکا ہے اب یہ جگہ جو کہ 5 بھائیوں اور 7 بہنوں کے نام تھی ان میں سے 3 بھائی اور ایک بہن انتقال کرگئے ہیں ،یہ یاد رہے کہ والدہ کے انتقال کے بعد یہ جگہ مندرجہ بالا تمام وارثین کے نام ٹرانسفر ہوچکی ہے اور ان بھائیوں کے انتقال کے بعد ان کے بچوں کے نام ریکارڈ پر موجود ہیں اب یہ جگہ فروخت کردی گی ہے لہذا معلوم یہ کرنا ہے کہ اس جگہ پر آنے والا خرچہ رجسٹری کاغذات کی بنوائی ،آفس کا خرچہ ،لاڑکانہ آنے جانے کا خرچہ کس طرح تقسیم ہوگا جبکہ آدھا حصہ بہن اور بقیہ آدھا حصہ تمام وارثین کو جاتا ہے اس میں وہ بہن بھی شامل ہے جس کا آدھا حصہ اس کے نام ہے یعنی زیبا رانی کا آدھا حصہ اور باقی آدھا حصہ تمام وارثین جنکے نام یہ ہیں:

1۔محمد ایوب 2۔محمد سرتاج(مرحوم)3۔خالد عبدالجبار(مرحوم)،4۔ظہیر الدین بابر،5۔مقصود گڈو بھائی۔

1۔نجمہ،2۔رئیسہ،3۔سلطانہ،4۔زیبا رانی،5۔ممتاز،6۔سلمیٰ،7۔نفیسہ (مرحومہ)

وضاحت :بہن بھائیوں کا انتقال والد اور والدہ کے انتقال کے بعد ہوا۔اور والد صاحب اپنی وفات تک اسی مذکورہ مکان میں رہائش پذیر تھے جس کا آدھا حصہ انہوں نے اپنی بیٹی زیبا رانی اور آدھا حصہ اپنی اہلیہ کو ہدیہ کیا تھا۔

جواب

شریعت مطہرہ کی روشنی میں ہدیہ(گفٹ) اس وقت درست ہوتا ہے جبکہ مالکانہ حقوق کے ساتھ قبضہ  بھی دے دیا جائے اور مکان کا قبضہ تام ہونے کا شرعاً طریقہ یہ ہے واہب(یعنی مالک مکان،ہدیہ کرنے والا)اپنا مکمل سامان اس مکان سے نکال دے اور خود بھی اس مکان سے نکل جائے ،پھر اس کے بعد وہ مکان جس کو ہدیہ کرنا چاہئے مالکانہ حقوق اور قبضہ کے ساتھ اس کے حوالہ کردے ،اور اگر واہب نے اس طرح نہیں کیا بلکہ وہ خود یا اس کا سامان مکان میں موجود تھا پھر اس نے کسی کو ہدیہ کردیا پھر چاہئے حکومتی کاغذات میں ان کے نام ٹرانسفر بھی کردیا ہو تب بھی شرعاً یہ ہدیہ درست نہیں ہوتا ۔

صورت مسؤلہ میں سائل کے والد مرحوم نے اپنی زندگی میں اپنے مکان کا آدھا حصہ اپنی بیٹی زیبا رانی اور بقیہ آدھا حصہ اپنی اہلیہ کو ہدیہ کردیا تھا  اور باقاعدہ حکومتی کاغذات میں مکان ان دونوں کے نام ٹرانسفر بھی کردیا تھا لیکن والد مرحوم چونکہ وفات تک خود مذکورہ مکان میں رہتے رہے اس لئے شرعاً یہ ہدیہ درست نہیں ہوا بلکہ بدستور مکمل مکان والد کی زندگی میں ان  کی ملکیت میں تھا اور اب ان کی وفات کے بعد  مکمل مکان ان کا ترکہ شمار ہوگا جو ان کے ورثاء کے درمیان شرعی طور پر تقسیم ہوگا۔

والد مرحوم کے ترکہ کو تقسیم کرنا کا شرعاً طریقہ یہ ہے کہ میت کے حقوق مقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد ،اگر مرحوم پر کوئی قرضہ ہو تو اسے ادا کرکےاور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے ایک تہائی مال سے ادا کرکے بقیہ کل جائیداد منقولہ (سونا ،چاندی،نقدی)و غیر منقولہ(زمین ،مکان)کو 17 حصوں میں تقسیم کرکے،مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو دو حصے اور ہر ایک بیٹی کو ایک حصہ ملے گا ،والد مرحوم کے تین بیٹوں (محمد سرتاج،خالد عبدالجبار،مقصود گڈو بھائی)اور ایک بیٹی(نفیسہ)کا چونکہ اب انتقال ہوچکا ہے اس لئے ان کا حصہ ان کی اولاد اور ورثاء میں تقسیم ہوگا۔ مرحومین کے ورثاء کی کل تعداد بتاکر ان کا شرعی حصہ معلوم کیا جاسکتا ہے۔

والد کے ترکہ کا مذکورہ مکان فروخت ہوچکا ہے تو اس کے فروخت پر آنے والے اخراجات ان کے تمام ورثاء یعنی 5 بیٹوں اور 7 بیٹیوں پر ان کے حصص کے مطابق لازم ہونگے۔

تقریرات الرافعی علی رد المحتار میں ہے:

وبخلاف ما اذا کان الساکن ھو الواھب لان الشرط قبضہ ویدہ علی الدار تقرر قبضہ وفیہ ایضا عن ابی یوسف لایجوز للرجل ان یہب لامراتہ اؤ تہب لزوجہا اؤ لاجنبی وھما ساکنان فیہا۔

(کتاب الھبۃ 5/251 ط سعید)

الدر المختار میں ہے:

(وَتَتِمُّ) الْهِبَةُ (بِالْقَبْضِ) الْكَامِلِ (وَلَوْ الْمَوْهُوبُ شَاغِلًا لِمِلْكِ الْوَاهِبِ لَا مَشْغُولًا بِهِ) وَالْأَصْلُ أَنَّ الْمَوْهُوبَ إنْ مَشْغُولًا بِمِلْكِ الْوَاهِبِ مُنِعَ تَمَامَهَا،

(کتاب الھبۃ 5/690 ط سعید)

فتاوي هندیہ میں ہے:

ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب ولا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب حتى لو وهب أرضا فيها زرع للواهب دون الزرع، أو عكسه أو نخلا فيها ثمرة للواهب معلقة به دون الثمرة، أو عكسه لا تجوز، وكذا لو وهب دارا أو ظرفا فيها متاع للواهب، كذا في النهاية

(کتاب الھبۃ ،الباب الاول4/374 ط رشیدیہ)

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

فتوی نمبر:540

تاریخ :20 صفر المظفر  1448ھ/4 اگست 2026ء