فتوے
موٹیوشنل گانے لکھنے اور گانے کا حکم
سوال
محترم مفتی صاحب! میرا نام محمد اویس ہے۔ میری عمر 16 سال ہے۔ میں ایک سوال اللہ کی رضا جاننے کے لیے پوچھ رہا ہوں، بحث کرنے کے لیے نہیں۔ میری خواہش ہے کہ میں صرف ایسے موٹیویشنل گانے لکھوں اور گاؤں جن میں کوئی گالی، فحاشی، شرک، کفر یا گناہ کی دعوت نہ ہو۔ میرا مقصد لوگوں کو محنت، امید، والدین کی عزت، اچھے اخلاق اور اللہ پر بھروسہ کی طرف راغب کرنا ہے، نہ کہ لوگوں کو دین سے دور کرنا۔ میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں کوئی ایسا کام کر بیٹھوں جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہ ہو۔ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس مقصد کے ساتھ ایسے گانے لکھنا اور گانا جائز ہے یا نہیں؟ جزاکم اللہ خیراً؟
جواب
گانے لکھنا اور گانا جائز نہیں ہے،البتہ اصلاح معاشرہ،تربیت اور دعوت الی اللہ کے ایسے اشعار کہنا جو قرآن وحدیث کے منافی نہ ہوں ،اور حقیقت پر مبنی ہوں،لکھنے کی گنجائش ہے ،اور پھر ان اشعار کو پڑھنے کے لئے ایسا انداز اختیار کیا جائے جس میں میوزک،موسیقی ،ساز وغیر ہ کچھ نہ ہو ۔گانے کے اصول وضوابط اور گانے کی راگ اور اس کے انداز اور لب ولہجہ میں ان مذکورہ اشعار کا پڑھنا جائز نہیں ہے۔
فتاوی بزازیہ علی ھامش فتاوی ہندیہ میں ہے:
استماع صوت الملاھی کالضرب بالقضیب ونحوہ حرام قال علیہ السلام استماع الملاھی معصیۃ والجلوس علیہا فسق والتلذذ بہا کفر ای بالنعمۃ فصرف الجوارح الیٰ غیر ما خلق لاجلہ کفر بالنعمۃلاشکر فالواجب کل الواجب ان یجتنب کی لایستمع لما روی انہ علیہ السلام ادخل اصبعہ فی اذنہ عند سماعہ واشعار العرب
لوفیہا ذکر الفسق یکرہ۔
(کتاب الکراھیۃ ،الثالث فی ما یتعلق بالمناھی 6/ 359ط رشدیہ)
الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیہ میں ہے:
«ذهب جمهور الفقهاء إلى أن استماع الغناء يكون محرما في الحالات التالية:
أ - إذا صاحبه منكر.
ب - إذا خشي أن يؤدي إلى فتنة كتعلق بامرأة، أو بأمرد، أو هيجان شهوة مؤدية إلى الزنى.
ج - إن كان يؤدي إلى ترك واجب ديني كالصلاة، أو دنيوي كأداء عمله الواجب عليه، أما إذا أدى إلى ترك المندوبات فيكون مكروها. كقيام الليل، والدعاء في الأسحار ونحو ذلك.»
(باب الالف،استماع ،4/90 ط الکویت)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
|
فتوی نمبر:537 |
تاریخ :8 صفر المظفر 1448ھ/23 جولائی 2026 |
