info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

پرنٹ شدہ تصویر موبائل کے پیچھے لگانا

سوال

پرنٹ شدہ تصویر موبائل کے پیچھے لگانا جائز ہے یا نہیں ؟اس کی کمائی کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جاندار کی تصویر بنانا ،اور اس کا پرنٹ کرکے موبائل کے پیچھے لگانا حرام اور ناجائز ہے،اور اگر کوئی شخص اس کی کمائی کرتا ہے تو ایسی کمائی بھی حرام اور ناجائز ہے۔

حدیث شریف میں ہے:

عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ. قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ :لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تَمَاثِيلُ

حیح مسلم کتاب اللباس والزینۃ باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان 3/1666 رقم الحدیث 2106 ط دار احیاء التراث العربی)

ترجمہ:حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ"رحمت کے فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو یا (جاندار کی) تصاویر ہوں"

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: «أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ المصوِّرون»

(مشكوه المصابيح،کتاب اللباس الفصل الاول 2/1274 رقم الحدیث :4497 ط المکتب الاسلامی)

ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ"سب سے زیادہ سخت عذاب اللہ تعالیٰ کے ہاں تصویر بنانے والوں کو ہوگا۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُول: «كُلُّ مُصَوِّرٍ  فِي النَّارِ يُجْعَلُ لَهُ بِكُلِّ صُورَةٍ صَوَّرَهَا نَفْسًا فَيُعَذِّبُهُ فِي جَهَنَّمَ» . قَالَ ابْن عَبَّاس: فَإِن كنت لابد فَاعِلًا فَاصْنَعِ الشَّجَرَ وَمَا لَا رُوحَ فِيهِ

(مشكوه المصابيح،کتاب اللباس الفصل الاول 2/1274 رقم الحدیث :4498 ط المکتب الاسلامی)

ترجمہ:حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ ہر تصویر بنانے والا جھنم میں ہوگا اور اس کو ہر تصویر بنانے کے بدلہ میں جھنم میں عذاب دیا جائیگا۔حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر آپ کو لازمی تصویر بنانا ہے تو درخت اور بے جان چیزوں کی بنالو۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ قَتَلَ نَبِيًّا أَوْ قَتَلَهُ نَبِيٌّ أَوْ قَتَلَ أَحَدَ وَالِدَيْهِ وَالْمُصَوِّرُونَ وعالم لم ينْتَفع بِعِلْمِهِ»

(مشكوه المصابيح،کتاب اللباس الفصل الاول 2/1277 رقم الحدیث :4509 ط المکتب الاسلامی)

ترجمہ:حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کل قیامت کے دن تمام لوگوں میں سب سے زیادہ عذاب پانچ لوگوں کو دیا جائیگا(1)جس نے نبی کو قتل کیا(2) نبی نے جس کو قتل کیا (3)جس نے اپنے والدین میں سے کسی ایک کو قتل کیا (4) تصویر بنانے والے(5)وہ عالم جس نے اپنے علم پر عمل نہیں کیا ۔

فتاوی شامی میں ہے:

وَظَاهِرُ كَلَامِ النَّوَوِيِّ فِي شَرْحِ مُسْلِمٍ الْإِجْمَاعُ عَلَى تَحْرِيمِ تَصْوِيرِ الْحَيَوَانِ، وَقَالَ: وَسَوَاءٌ صَنَعَهُ لِمَا يُمْتَهَنُ أَوْ لِغَيْرِهِ، فَصَنْعَتُهُ حَرَامٌ بِكُلِّ حَالٍ لِأَنَّ فِيهِ مُضَاهَاةَ لِخَلْقِ اللَّهِ تَعَالَى، وَسَوَاءٌ كَانَ فِي ثَوْبٍ أَوْ بِسَاطٍ أَوْ دِرْهَمٍ وَإِنَاءٍ وَحَائِطٍ وَغَيْرِهَا اهـ فَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ حَرَامًا لَا مَكْرُوهًا إنْ ثَبَتَ الْإِجْمَاعُ أَوْ قَطْعِيَّةُ الدَّلِيلِ بِتَوَاتُرِهِ اهـ

(،کتاب الصلاۃ باب الاستخلاف 1/647 ط سعید)

 

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

فتوی نمبر:541تاریخ :26 صفر المظفر  1448ھ/10 اگست 2026ء