info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

میں تم کو زندگی بھر ہاتھ نہیں لگاؤں گا،مجھ پر حرام ہے اگر میں تم کوہاتھ لگاؤں،متعدد بار الفاظ ایلاء کہنے کا حکم

سوال

بیوی کا بیان

سؤال: میرا نام کرن ریحان  اور میرے شوہر کا نام ریحان خان  ہے  مسئلہ یہ ہے کہ 13 سال پہلے ایک گھریلو جھگڑے میں میرے شوہر نے مجھے ایک ساتھ دو طلاقیں دی تھیں ،دو دفعہ میرے شوہر نے بولا تھا میں تم کو طلاق دیتا ہوں اس وقت اس کمرے میں میری ساس نجمہ خاتون ،میری نند روزینہ،اور ایک اور نند نازیہ اور میری نند کا شوہر ارشد  میرے شوہر موجود تھے اور میری نند کے شوہر نے میرے شوہر کے منہ پر ہاتھ رکھا تھا دو طلاق کہنے کے بعد  اس واقعے کے بعد میرا میرے شوہر کے ساتھ رجوع ہوگیا  تھا  ،اس کے بعد 2023 میں ہم  امریکہ آگئے ،ملک سے دوری سے میرے شوہر انزائٹی میں تھے،اور ہم ایک روم میں 2 بچے اور ہم میاں بیوی ساتھ تھے ،ایک روم کی وجہ سے رجوع میں بھی مسئلہ تھا لیکن بچے روم میں نہیں ہوتے تو بہت کم رجوع ہوتا تھا،شوہر نے مجھے غصے میں تین چار دفعہ الگ الگ وقت میں بولا کہ میں تم کو زندگی بھر یاتھ نہیں لگاؤں گا ، میں میرے شوہر نے مجھے بولا کہ"میں قسم کھاتا ہوں زندگی بھر ہاتھ نہیں لگاؤں گا "،پھر کسی اور دن بولا" ہوش وحواس میں بولتا ہوں تم سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے،زندگی بھر ہاتھ نہیں لگاؤں گا"ایسا دو تین بار بولا ،پھر کسی اور دن غصے میں بولا "میں تم کو زندگی بھر ہاتھ نہیں لگاؤں گا،مجھ پر حرام ہے اگر میں تم کو ہاتھ لگاؤں"۔اس بات کی گواہ صرف میں ہوں اور مجھے اچھی طرح بات یاد ہے کہ ایسا بولا تھا مجھے ۔میرے شوہر کو یاد نہیں کہ کیا ہوا تھا 13 سال پہلے بھی ان کو طلاق کا لفظ ٹھیک سے یاد نہیں آرہے اور نہ ان کو 2023 کی کوئی بات یاد آرہی ہے ،میرے شوہر کا کہنا ہے اگر ان سے کچھ بولا ہے تو ان کا مقصد طلاق نہیں تھا اور پھر شوہر قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھا کر بولا ہے مجھے ان کا مقصد طلاق یا کچھ اور نہیں تھا لیکن ان کو یاد نہیں آرہا ہے کہ بولا کیا تھا میرے شوہر کو کچھ یاد نہیں کیونکہ یہ دو سال پہلے ہوا تھا ان کا کہنا ہے کہ ان کی نیت میں کچھ غلط نہیں تھا،برائے مہربانی میری اور میرے شوہر کی راہنمائی کی جائے۔

وضاحت: شوہر نے جب  یہ بات کہی اس  کے ایک ماہ بعد پھر ہمبستری ہوئی تھی۔

شوہر کا بیان

میرا نام ریحان خان ہے اور بیوی کا نام کرن ریحان ہے گذارش یہ ہے کہ 13 سال پہلے گھر میں ایک گھریلو جھگڑا ہوا جس میں دو طلاق کا لفظ آیا ،لیکن مجھے یاد نہیں کہ طلاق دی یا دے دوں گا کا لفظ کہا تھا ،جھگڑا ختم ہوا اور ہم نے فورا رجوع کرلیا اور سب صحیح چلتا رہا  2023 میں ہم لوگ امریکہ آگئے جہاں پر ہم ایک کمرے میں رہتے تھے تو رجوع میں مشکلات تھیں بچوں کی وجہ سے اور ایک دن میں نے بولا کہ میں ہاتھ نہیں لگاؤں گا بیوی کو لیکن حرام کے الفاظ بولا تھا یا نہیں بولا تھا مجھے یاد نہیں ہے لیکن میری ایسی کوئی نیت نہیں تھی جس سے طلاق کا شبہ ہوا ،میں نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر اللہ کو حاضر ناظر جان کر بولا ہے کہ ایسی کوئی نیت نہیں تھی اور ہے اور ہم رجوع میں رہے ہیں اس بات کے بعد بھی اور ابھی تک ۔

لہذا راہنمائی فرمائیں اور ہمیں اس معاملہ کا حل بتائیں اور کفارہ بتائیں۔

جواب

صورت مسؤلہ میں سائلہ کے بیان کے مطابق اس کو اس کے شوہر نے اپنی والدہ ،بہنوں اور بہنوئی کے سامنے دو مرتبہ ان الفاظ کے ساتھ طلاق دی تھی کہ"میں تم کو طلاق دیتا ہوں " اگر واقعی یہ بات درست ہے اور مذکورہ افراد سائلہ کی بات پر گواہی بھی دیتے ہیں تو سائلہ پر دو طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ،اور پھر اس کے  بعد میں دونوں کا رجوع ہوگیا تھا  ،اور سائلہ کے شوہر کے پاس ایک طلاق کا اختیار باقی رہ گیا تھا۔

پھر 2023 میں سائلہ اور اس کا شوہر امریکہ آگئے اور وہاں  چند سال پہلے سائلہ کو اس کے شوہر نے یہ الفاظ کہے کہ "میں قسم کھاتا ہوں زندگی بھر ہاتھ نہیں لگاؤں گا "،ان الفاظ سے شرعاً" ایلاء" منعقد ہوگیا تھا، جس کا حکم یہ ہے کہ مذکورہ الفاظ کہنے کے بعد اگر شوہر  نےبیوی سے چار ماہ یا اس سے زیادہ تک ہمبستری نہ کی تھی تو بیوی پرمزید  ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے ،اور پچھلی دو طلاقوں کے ساتھ مل کر تین طلاقیں مکمل ہوچکی ہیں اور سائلہ حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے اور اگر چار ماہ سے قبل ہم بستری  کرلی تھی تو مزید  طلاق تو واقع نہیں ہوئی لیکن  شوہر پر قسم توڑنے کا کفارہ لازم ہوچکا ہے ۔اورقسم توڑنے کا کفارہ یہ ہےکہ دس مسکینوں کو صبح وشام  دو وقت کھانا کھلایا جائے، یا دس مسکینوں کو صدقہ فطر کی مقدار(احتیاطاً دو کلو گندم یا اس کی قیمت) دے دی جائے ، یا ایک ہی غریب کو دس روز تک روزانہ ایک صدقہ فطر کی مقدار دے دیں، یا دس غریبوں کو پہننے کا جوڑا (لباس)  دےدیں۔ اگر مذکورہ صورتوں میں سے کسی کی استطاعت نہیں ہے تو پھر قسم کے کفارہ کی نیت سے مسلسل تین دن روزے رکھیں۔

 پھرسائلہ کے شوہر نے سائلہ  کسی اور دن یہ الفاظ  بولےکہ" ہوش وحواس میں بولتا ہوں تم سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے،زندگی بھر ہاتھ نہیں لگاؤں گا"ایسا دو تین بار بولا ،تو ان الفاظ سے اور ایک اور "ایلاء"منعقد ہوگیا،جس کا حکم یہ ہے کہ اگر شوہر یہ الفاظ کہنے کے بعد چار ماہ یا اس سے زیادہ  تک اپنی بیوی کے قریب نہیں آیا  تھا تو اس پر ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے ،اور اگر وہ چار ماہ گذرنے سے پہلے اپنی بیوی کے قریب آچکا تھا تو ایسی صورت میں مزید طلاق تو واقع نہیں ہوئی لیکن قسم توڑنے کے کفارے ادا کرنا لازم ہوں گے، اگر دو مرتبہ الفاظ کہے تھے تو دو کفارے اور اگر تین مرتبہ الفاظ ادا کئے تھے تو تین کفارے ادا کرنا لازم ہوں گے،کفارہ قسم کی تفصیل اوپر گذرچکی ہے۔

پھر سائلہ کے شوہر نے سائلہ کو کسی اور دن غصے میں بولا  کہ "میں تم کو زندگی بھر ہاتھ نہیں لگاؤں گا،مجھ پر حرام ہے اگر میں تم کو ہاتھ لگاؤں"تو ان الفاظ سے اور ایک اور "ایلاء"منعقد ہوگیا،جس کا حکم یہ ہے کہ اگر شوہر یہ الفاظ کہنے کے بعد چار ماہ یا اس سے زیادہ  تک اپنی بیوی کے قریب نہیں آیا تھا تو اس پر مزید ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے ،اور اگر وہ چار ماہ گذرنے سے پہلے اپنی بیوی کے قریب آچکا تھا تو ایسی صورت میں مزید طلاق تو واقع نہیں ہوئی لیکن قسم توڑنے کے ایک کفارہ لازم ہوگا، اورکفارہ قسم کی تفصیل اوپر گذرچکی ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

«وَمِنْ الْكِنَايَةِ لَا أَمَسُّكِ لَا آتِيكِ لَا أَغْشَاكِ لَا أَقْرَبُ فِرَاشَكِ لَا أَدْخُلُ عَلَيْكِ،»«وَمِنْ الْمُؤَبَّدِ نَحْوُ حَتَّى تَخْرُجَ الدَّابَّةُ أَوْ الدَّجَّالُ، أَوْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا (فَإِنْ قَرِبَهَا فِي الْمُدَّةِ) ، وَلَوْ مَجْنُونًا (حَنِثَ) وَحِينَئِذٍ (فَفِي الْحَلِفِ بِاَللَّهِ وَجَبَتْ الْكَفَّارَةُ، وَفِي غَيْرِهِ وَجَبَ الْجَزَاءُ وَسَقَطَ الْإِيلَاءُ) لِانْتِهَاءِ الْيَمِينِ (وَإِلَّا) يَقْرَبْهَا (بَانَتْ بِوَاحِدَةٍ) بِمُضِيِّهَا، وَلَوْ ادَّعَاهُ بَعْدَ مُضِيِّهَا لَمْ يُقْبَلْ قَوْلُهُ إلَّا بِبَيِّنَةٍ (وَسَقَطَ الْحَلِفُ لَوْ) كَانَ (مُؤَقَّتًا) وَلَوْ بِمُدَّتَيْنِ إذْ بِمُضِيِّ الثَّانِيَةِ تَبِينُ بِثَانِيَةٍ وَسَقَطَ الْإِيلَاءُ (لَا لَوْ كَانَ مُؤَبَّدًا) وَكَانَتْ طَاهِرَةً كَمَا مَرَّ.»

(کتاب الطلاق،باب الایلاء3/426،427 ط سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

«وَفِي الْجَوْهَرَةِ: كَرَّرَ " وَاَللَّهِ لَا أَقْرَبُكِ " ثَلَاثًا فِي مَجْلِسٍ؛ وَإِنْ نَوَى التَّكْرَارَ اتَّحَدَا؛ وَإِلَّا فَالْإِيلَاءُ وَاحِدٌ وَالْيَمِينُ ثَلَاثٌ، وَإِنْ تَعَدَّدَ الْمَجْلِسُ تَعَدَّدَ الْإِيلَاءُ وَالْيَمِينُ.»

«قَوْلُهُ: إنْ نَوَى التَّكْرَارَ) أَيْ التَّأْكِيدَ اتَّحَدَا أَيْ يَكُونُ الْإِيلَاءُ وَاحِدًا وَيَمِينًا وَاحِدَةً حَتَّى لَوْ لَمْ يَقْرَبْهَا فِي الْمُدَّةِ طَلُقَتْ طَلْقَةً وَاحِدَةً وَإِنْ قَرِبَهَا فِيهَا لَزِمَهُ كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ (قَوْلُهُ: وَإِلَّا) أَيْ وَإِنْ لَمْ يَنْوِ شَيْئًا، أَوْ أَرَادَ التَّشْدِيدَ وَالتَّغْلِيظَ وَهُوَ الِابْتِدَاءُ دُونَ التَّكْرَارِ، كَذَا فِي الْفَتْحِ (قَوْلُهُ: فَالْإِيلَاءُ وَاحِدٌ إلَخْ) وَالْقِيَاسُ أَنْ يَكُونَ الْإِيلَاءُ ثَلَاثًا أَيْضًا، وَهُوَ قَوْلُ مُحَمَّدٍ، حَتَّى إذَا مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَلَمْ يَقْرَبْهَا تَبِينُ بِتَطْلِيقَةٍ ثُمَّ عَقِيبَهَا تَبِينُ بِأُخْرَى ثُمَّ بِأُخْرَى إلَّا أَنْ تَكُونَ غَيْرَ مَدْخُولٍ بِهَا فَلَا يَقَعُ إلَّا وَاحِدَةٌ. وَفِي الِاسْتِحْسَانِ وَهُوَ قَوْلُهُمَا: الْإِيلَاءُ وَاحِدٌ فَلَا يَقَعُ إلَّا وَاحِدَةٌ لِأَنَّ الْمُدَّةَ لَمَّا كَانَتْ مُتَّحِدَةً كَانَ الْمَنْعُ مُتَّحِدًا فَلَا يَتَكَرَّرُ الْإِيلَاءُ، وَيَجِبُ بِالْقُرْبَانِ ثَلَاثُ كَفَّارَاتٍ إجْمَاعًا لِأَنَّ الشَّرْطَ الْوَاحِدَ يَكْفِي لِأَيْمَانٍ كَثِيرَةٍ كَمَا فِي الْفَتْحِ، وَاَللَّهُ سبحانه وتعالى أَعْلَمُ»

(کتاب الطلاق،باب الایلاء3/439 ط سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

«(ثم الإيلاء على أربعة أوجه) إيلاء واحد ويمين واحدة كقوله: والله لا أقربك وإيلاءان ويمينان وهو إذا آلى من امرأته في مجلسين أو قال إذا جاء غد فوالله لا أقربك وإذا جاء بعد غد فوالله لا أقربك وإيلاء واحد ويمينان وهي مسألة الخلاف إذا قال في مجلس واحد: والله لا أقربك والله لا أقربك وأراد به التغليظ فالإيلاء واحد واليمين ثنتان عند أبي حنيفة وأبي يوسف - رحمهما الله تعالى - حتى إذا مضت أربعة أشهر ولم يقربها بانت بواحدة وإن قربها وجب كفارتان وإيلاءان ويمين واحدة وهو إذا قال لامرأته: كلما دخلت هذين الدارين فوالله لا أقربك فدخلت إحداهما دخلتين أو دخلتهما جميعا دخلة واحدة فهو إيلاءان ويمين واحدة فالأول منعقد عند الدخلة الأولى والثاني عند الدخلة الثانية كذا في السراج الوهاج.»

(کتاب الطلاق ،الباب السابع فی الایلاء 1/483 ط رشیدیہ)

دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاون کے فتاوی میں ہے:

اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہے کہ :  ”مجھ پر حرام ہے کہ میں تمہارے قریب آو ں“ تو   شرعاً یہ  '' اِیلاء'' ہے اور  ''ایلاء''  کا حکم یہ ہے کہ اگر مذکورہ شخص  چار مہینے  تک اپنی بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم نہیں کرے گا تو  چار مہینے  مکمل ہوتے ہی اس  کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوجائے گی، اور  نکاح ختم ہوجائے گا، اس کے بعد دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے نیا مہر مقرر کر کے گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہوگا۔

اور اگر مذکورہ شخص نے  چار مہینہ کے اندر   اپنی بیوی سے ازدواجی تعلق قائم کرلیا تو پھر طلاق واقع نہیں ہوگی، البتہ قسم ٹوٹ جائے گی، جس  کا کفارہ ادا کرنا لازم ہوگا، قسم کا کفارہ یہ ہے کہ :

دس مسکینوں کو صبح وشام  دو وقت کھانا کھلایا جائے، یا دس مسکینوں کو صدقہ فطر کی مقدار دے دی جائے ، یا ایک ہی غریب کو دس روز تک روزانہ ایک صدقہ فطر کی مقدار دیں، یا دس غریبوں کو پہننے کا جوڑا (لباس) دیں۔ اگر مذکورہ صورتوں میں سے کسی کی استطاعت نہیں ہے تو پھر قسم کے کفارہ کی نیت سے مسلسل تین دن روزے رکھیں۔

(بیوی کو مجھ پر حرام ہے کہ میں تمہارے قریب آؤں کہنے کا حکم، فتویٰ نمبر : 144502100712)

فتوی نمبر:539

تاریخ :17 صفر المظفر  1448ھ/یکم اگست 2026ء