info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

مردوں کے لئے پینٹ شرٹ پہننے کا کیا حکم ہے

سوال

مردوں کے لئے پینٹ شرٹ پہننے کا  کیا حکم  ہے؟

جواب

مردوں کے لئے ایسی تنگ وچست  پینٹ شرٹ پہننا جس میں جسم کے مستورہ اعضاء(ناف سے لیکر گھنٹے تک کا حصہ ) کی بناوٹ اور حجم نظر آتا ہو تو اس کا  پہننا ،دیکھنا ،دکھانا سب ناجائز اور حرام  ہے ، اور عموماً ہمارے معاشرہ میں اکثر استعمال ہونے والی پتلونیں تنگ اور چست ہوتی ہیں اور اسی طرح اگر پتلون  ٹخنے سے نیچے لٹک رہی تب بھی اس کا پہننا ناجائز ہے ،ڈھیلی  ڈھالی پینٹ جس میں جسم کے اعضاء کی ہئیت وغیرہ واضح نہ ہو اس کے پہننے کی  گنجائش ہے لیکن فاسق اور فجار لوگوں کی مشابہت کی وجہ سے نہ پہننا اولیٰ ہے ۔مردوں کے لیے بہتر اور افضل یہ ہے کہ صلحاء اور اتقیاء جیسا لباس یعنی سفید کرتا اور شوار پہننے کا اہتمام کریں ۔

فتاوی شامی میں ہے:

(قَوْلُهُ لَا يَصِفُ مَا تَحْتَهُ) بِأَنْ لَا يُرَى مِنْهُ لَوْنُ الْبَشَرَةِ احْتِرَازًا عَنْ الرَّقِيقِ وَنَحْوِ الزُّجَاجِ (قَوْلُهُ وَلَا يَضُرُّ الْتِصَاقُهُ) أَيْ بِالْأَلْيَةِ مَثَلًا، وَقَوْلُهُ وَتَشَكُّلُهُ مِنْ عَطْفِ الْمُسَبَّبِ عَلَى السَّبَبِ. وَعِبَارَةُ شَرْحِ الْمُنْيَةِ: أَمَّا لَوْ كَانَ غَلِيظًا لَا يُرَى مِنْهُ لَوْنُ الْبَشَرَةِ إلَّا أَنَّهُ الْتَصَقَ بِالْعُضْوِ وَتَشَكَّلَ بِشَكْلِهِ فَصَارَ شَكْلُ الْعُضْوِ مَرْئِيًّا فَيَنْبَغِي أَنْ لَا يَمْنَعَ جَوَازَ الصَّلَاةِ لِحُصُولِ السَّتْرِ. اهـ. قَالَ ط: وَانْظُرْ هَلْ يَحْرُمُ النَّظَرُ إلَى ذَلِكَ الْمُتَشَكِّلِ مُطْلَقًا أَوْ حَيْثُ وُجِدَتْ الشَّهْوَةُ؟ . اهـ. قُلْت: سَنَتَكَلَّمُ عَلَى ذَلِكَ فِي كِتَابِ الْحَظْرِ، وَاَلَّذِي يَظْهَرُ مِنْ كَلَامِهِمْ هُنَاكَ هُوَ الْأَوَّلُ

(کتاب الصلوۃ ،باب شروط الصلاۃ ،مطلب فی ستر العورۃ 1/410 ط سعید )

قَوْلُهُ وَهِيَ غَيْرُ بَادِيَةٍ) أَيْ ظَاهِرَةٍ وَفِي الذَّخِيرَةِ وَغَيْرِهَا وَإِنْ كَانَ عَلَى الْمَرْأَةِ ثِيَابٌ فَلَا بَأْسَ بِأَنْ يَتَأَمَّلَ جَسَدَهَا وَهَذَا إذَا لَمْ تَكُنْ ثِيَابُهَا مُلْتَزِقَةً بِهَا بِحَيْثُ تَصِفُ مَا تَحْتَهَا، وَلَمْ يَكُنْ رَقِيقًا بِحَيْثُ يَصِفُ مَا تَحْتَهُ، فَإِنْ كَانَتْ بِخِلَافِ ذَلِكَ فَيَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَغُضَّ بَصَرَهُ اهـ.

وَفِي التَّبْيِينِ قَالُوا: وَلَا بَأْسَ بِالتَّأَمُّلِ فِي جَسَدِهَا وَعَلَيْهَا ثِيَابٌ مَا لَمْ يَكُنْ ثَوْبٌ يُبَيِّنُ حَجْمَهَا، فَلَا يَنْظُرُ إلَيْهِ حِينَئِذٍ لِقَوْلِهِ عليه الصلاة والسلام «مَنْ تَأَمَّلَ خَلْفَ امْرَأَةٍ وَرَأَى ثِيَابَهَا حَتَّى تَبَيَّنَ لَهُ حَجْمُ عِظَامِهَا لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ» وَلِأَنَّهُ مَتَى لَمْ يَصِفْ ثِيَابُهَا مَا تَحْتَهَا مِنْ جَسَدِهَا يَكُونُ نَاظِرًا إلَى ثِيَابِهَا وَقَامَتِهَا دُونَ أَعْضَائِهَا فَصَارَ كَمَا إذَا نَظَرَ إلَى خَيْمَةٍ هِيَ فِيهَا وَمَتَى كَانَ يَصِفُ يَكُونُ نَاظِرًا إلَى أَعْضَائِهَا اهـ. أَقُولُ: مُفَادُهُ أَنَّ رُؤْيَةَ الثَّوْبِ بِحَيْثُ يَصِفُ حَجْمَ الْعُضْوِ مَمْنُوعَةٌ وَلَوْ كَثِيفًا لَا تُرَى الْبَشَرَةُ مِنْهُ، قَالَ فِي الْمُغْرِبِ يُقَالُ مَسِسْت الْحُبْلَى، فَوَجَدْت حَجْمَ الصَّبِيَّ فِي بَطْنِهَا وَأَحْجَمَ الثَّدْيُ عَلَى نَحْرِ الْجَارِيَةِ إذَا نَهَزَ، وَحَقِيقَتُهُ صَارَ لَهُ حَجْمٌ أَيْ نُتُوٌّ وَارْتِفَاعٌ وَمِنْهُ قَوْلُهُ حَتَّى يَتَبَيَّنَ حَجْمُ عِظَامِهَا اهـ وَعَلَى هَذَا لَا يَحِلُّ النَّظَرُ إلَى عَوْرَةِ غَيْرِهِ فَوْقَ ثَوْبٍ مُلْتَزِقٍ بِهَا يَصِفُ حَجْمَهَا فَيُحْمَلُ مَا مَرَّ عَلَى مَا إذَا لَمْ يَصِفْ حَجْمَهَا فَلْيُتَأَمَّلْ

(کتاب الحظر والاباحۃ ،فصل فی النظر واللمس 6/365،366 ط سعید )

الموسوعۃ الفقہیۃ میں ہے:

"لا یجوز لبس الرقیق من الثیاب إذا کان یشف عن العورۃ فیعلم لون الجلد من بیاض أو حمرۃ، سواء في ذلك الرجل والمرأۃ ولو في بیتها … وهو بالإضافة إلی ذلك مخل بالمروءۃ ولمخالفته لزي السلف … أما ما کان رقیقًا یسترر العورۃ؛لكنه یصف حَجمَها حتی یری شکل العضو فإنه مکروہ، لقول جریر بن عبد اللّٰہ: إن الرجل لیلبس وهو عار یعني الثیاب الرقاق."

(الموسوعة الفقهیة،الألبسة،ج:6،ص:136،ط:وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية كويت)

تکملہ فتح الملہم میں ہے:

فکل لباس ینکشف معہ جزء من عورۃ الرجل والمراۃ لاتقرہ الشریعۃ الاسلامیۃ ،مھما کان جمیلا او موافقا لدور الازیاء وکذالک اللباس الرقیق او اللاصق بالجسم الذی یحکی للناظر شکل حصۃ من الجسم الذی یجب سترہ فھو فی حکم ما سبق فی الحرمۃ عدم الجواز

(کتاب اللباس والزینۃ ۴؍۵۳ ط مکتبہ دارالعلوم کراتشی)

احسن الفتاویٰ میں ہے:

آج کل کوٹ پتلون وغیرہ کا اگرچہ مسلمانوں میں عام رواج ہوگیا ہے مگراس کے باوجود اسے انگریزی لباس ہی سمجھا جاتا ہے بالفرض تشبہ بالکفار نہ بھی ہو تو تشبہ بالفساق میں تو کوئی شبہ نہیں،لہذا ایسے لباس سے احتراز کرنا ضروری ہے،یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ پہلے زمانہ میں مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے لباس میں کوئی امتیاز نہ تھا نیز اگر کسی زمانہ میں یا کسی علاقہ میں امتیاز نہ ہو تو وہاں تشبہ کا مسئلہ ہی پیدا نہ ہوگا ،یہ مسئلہ تو وہاں پیدا ہوگا جہاں غیر مسلم قوم کا کوئی مخصوص لباس ہو ،احادیث میں غیر مسلموں کے مخصوص لباس سے ممانعت صراحۃً وارد ہوئی ہے۔یہ تفصیل اس لباس کے بارے میں ہے جس سے واجب الستر اعضاء کی بناوٹ اور حجم نظر نہ آتا ہو ،اگر پتلون اتنی چست اور تنگ ہو تو اس سے اعضاء کی بناوٹ اور حجم نظر آتا ہو جیسا کہ آج کل ایسی پتلون کا کثرت کا کثرت سے رواج ہوگیا ہے تو اس کا پہننا اور لوگوں کا دکھانا اور دیکھنا سب حرام ہے جیسا کہ ننگے آدمی کو دیکھنا حرام ہے

(کتاب الحظر والاباحت ،باب لباس ،پتلون پہننے کا حکم 8/64،65 ط سعید )

دار الافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے فتاویٰ میں ہے:

واضح رہے کہ پینٹ اگر اتنی چست اورتنگ ہو جس سے جسم کےاعضائے مستورہ یااس کی ساخت اوربناوٹ ظاہر ہوتی ہو یا ٹخنہ سے نیچے لٹکا کر پہنا جائے،تو اس کو پہننے اوربچوں کوپہنانے کی شرعاً  اجازت نہیں ہے، البتہ ڈھیلی ڈھالی پینٹ شرٹ جب کہ  (مرد کے) ٹخنے کھلے رکھنے کا اہتمام کیا جائے تو  پہننےاوربچوں کوپہنانے کی گنجائش ہے، باقی مجبوری نہ ہو تو نیک لوگوں کا لباس پہنے۔

(پینٹ شرٹ پہننے اور پہنانے کاحکم فتویٰ نمبر : 144506100957)

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

فتوی نمبر:542

تاریخ :26 صفر المظفر  1448ھ/10 اگست 2026ء