فتوے
سرکاری مقررکردہ نرخ سے زائد قیمت پر چیز کو فروخت کرنا
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ چنے کی دال کا بازار میں جو عام ریٹ چل رہا ہے تقریبا 280 روپے فی کلو اب ایک دکاندار ہے اس کے پاس اگر کوئی گاہگ آتا ہے اور وہ ایک کلو مانگتا ہے یا آدھا کلو مانگتا ہے تو وہ دکاندار 280 کے حساب سے کلو یا آدھا کلو دے دیتا ہے لیکن عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ گاہک 50 روپے کا یا 20 روپے کا یا 30 روپے کا دال مانگتا ہے تو پھر اس صورت میں دکاندار اس دال کی قیمت 300 روپے یا 310روپے لگاتا ہے کیونکہ دکاندار کا کہنا ہے کہ اگر میں 50 50 روپے کا یا 30 30 روپے کا تول کر280کے حساب سے کلو دیتا رہوں تو اس میں میرا نقصان ہے اور ساتھ میں 20 یا 30 روپے دال کے ساتھ شاپر کا خرچہ بھی آئے گا ۔تو کیا بازار کی قیمت سے زیادہ کا ریٹ لگا کر 310 کے حساب سے دال بیچنا جائز ہے یا نہیں ؟جبکہ گاہک کے ذہن میں یہ ہو کہ مجھے مارکیٹ کے ریٹ کے حساب سے ہی دال دے رہا ہے اور دونوں کے درمیان ریٹ کی وضاحت نہ ہوئی ہو
جواب
واضح رہے کہ شریعت مطہرہ نے اشیاء کی قیمتوں کا تعین بیچنے والے اور خریدنے والے کی باہمی رضامندی پر موقوف رکھا ہے،ہر شخص اپنے مملوکہ مال کو ظلم و زیادتی کئے بغیر جس قیمت پر بھی فروخت کرنا چاہے اس کو شرعاً اختیار حاصل ہے، عام حالات میں حکومت کو کسی بھی چیز کی قیمت مقرر کرکے مالک کو اس قیمت پر اپنی چیز فروخت کرنے پر مجبور کرنا جائز نہیں ہے۔تاہم اگر تاجروں کی اجارہ داریوں اور عوام پر ظلم وزیادتی کی وجہ سے حکومت دیانتداری کے ساتھ ماہرین کے مشورے سے چیزوں کی ایسی قیمت مقرر کردیتی ہےجس میں عوام اور تاجر دونوں میں سے کسی کا نقصان نہ ہو تو حکومت کو شرعاً اس کا اختیار حاصل ہے ،اور پھر اس کی خلاف ورزی کرنا جائز نہیں ہے۔
صورت مسؤلہ میں اگر چنے کی دال کے سرکاری نرخ مقرر شدہ ہیں اور حکومت نےتاجروں کو اسی ریٹ پر فروخت کرنے کا پابند کیا ہوا ہے اور زائد فروخت کرنے پر جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے ،تو دوکاندار کو مقررہ نرخ پر دال بیچنا لازم ہے،یعنی اگر مقرر شدہ قیمت 280 روپے طے ہے اور حکومت دوکاندار کو 280 روپے کے حساب سے فروخت کرنے کو ضروری قرار دیتی ہے تو ایسی صورت میں دوکاندار کو 280 روپے کے حساب سے فروخت کرنا لازم ہے،چاہے خریدار دال کم خریدے یا زیادہ اور زائد قیمت پر فروخت کرنا قانوناً جرم ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے ،تاہم اگرکسی دوکاندار نے زائد قیمت پر دال فروخت کردی تو اس کو حرام نہیں کہا جائیگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
(وَلَا يُسَعِّرُ حَاكِمٌ) لِقَوْلِهِ عليه الصلاة والسلام «لَا تُسَعِّرُوا فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ» (إلَّا إذَا تَعَدَّى الْأَرْبَابُ عَنْ الْقِيمَةِ تَعَدِّيًا فَاحِشًا فَيُسَعِّرُ بِمَشُورَةِ أَهْلِ الرَّأْيِ)
(قَوْلُهُ بِمَا تَجِبُ) فَحِينَئِذٍ بِأَيِّ شَيْءٍ بَاعَهُ يَحِلُّ زَيْلَعِيٌّ. وَظَاهِرُهُ أَنَّهُ لَوْ بَاعَهُ بِأَكْثَرَ يَحِلُّ وَيَنْفُذُ الْبَيْعُ وَلَا يُنَافِي ذَلِكَ مَا ذَكَرَهُ الزَّيْلَعِيُّ وَغَيْرُهُ مِنْ أَنَّهُ لَوْ تَعَدَّى رَجُلٌ وَبَاعَ بِأَكْثَرَ أَجَازَهُ الْقَاضِي، لِأَنَّ الْمُرَادَ أَنَّ الْقَاضِيَ يُمْضِيهِ وَلَا يَفْسَخُهُ، وَلِذَا قَالَ الْقُهُسْتَانِيُّ: جَازَ وَأَمْضَاهُ الْقَاضِي، خِلَافًا لِمَا فَهِمَهُ أَبُو السُّعُودِ مِنْ أَنَّهُ لَا يَنْفُذُ مَا لَمْ يُجِزْهُ الْقَاضِي
(کتاب الحظر والاباحۃ ،فصل فی البیع 6/399،400 ط سعید)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
|
فتوی نمبر:554 |
تاریخ :10 ربیع الاول1448ھ/24اگست 2026ء |
