فتوے
بچے کو نماز کے دوران واش روم لے جانے کے بعد کیا دوبارہ وضو کرنا ضروری ہے
سوال
اگر نماز کے دوران بچے کو واش روم لے جانا ہو تو کیا اس کو واش روم کروانے کے بعد دوبارہ وضو کرنا لازمی ہے ،بچہ چھوٹا ہے ،ابھی ۴ سال کا ہے ،جیسے تراویح کی نماز کے دوران اگر بچے کو واش جانا ہوتا ہے؟
جواب
بچے کو واش روم لے جانے کی صورت میں والدہ کا اگر اپنا وضو برقرار ہے اور نواقض وضو(وضو كو توڑنے والی چیزیں)میں سے کوئی ناقض لاحق نہیں ہوا، تو محض بچے کو دھلانے اور واش روم لے جانے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا، اُن کو دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
منها ما يخرج من السبيلين من البول والغائط والريح الخارجة من الدبر والودي والمذي والمني والدودة والحصاة، الغائط يوجب الوضوء قل أو كثر وكذلك البول والريح الخارجة من الدبر. كذا في المحيط.
(کتاب الطہارۃ الباب الاول ،الفصل الخامس 1/9 ط رشیدیہ)
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
|
فتوی نمبر:543 |
تاریخ :27 صفر المظفر 1448ھ/11 اگست 2026ء |
