info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

بچے کو نماز کے دوران واش روم لے جانے کے بعد کیا دوبارہ وضو کرنا ضروری ہے

سوال

اگر نماز کے دوران بچے کو واش روم لے جانا ہو تو کیا اس کو واش روم کروانے کے بعد دوبارہ وضو کرنا لازمی ہے ،بچہ چھوٹا ہے ،ابھی ۴ سال کا ہے ،جیسے تراویح کی نماز کے دوران اگر بچے کو واش جانا ہوتا ہے؟

جواب

بچے کو واش روم لے جانے کی صورت میں والدہ کا اگر اپنا وضو برقرار ہے اور نواقض  وضو(وضو كو توڑنے والی چیزیں)میں سے کوئی ناقض لاحق نہیں ہوا، تو محض بچے کو دھلانے اور واش روم لے جانے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا، اُن کو دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

منها ما يخرج من السبيلين من البول والغائط والريح الخارجة من الدبر والودي والمذي والمني والدودة والحصاة، الغائط يوجب الوضوء قل أو كثر وكذلك البول والريح الخارجة من الدبر. كذا في المحيط.

(کتاب الطہارۃ الباب الاول ،الفصل الخامس 1/9 ط رشیدیہ)

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

فتوی نمبر:543

تاریخ :27 صفر المظفر  1448ھ/11 اگست 2026ء