info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

ناسمجھ قریب البلوغ بچے کا اپنی والدہ کے ساتھ سونا ا ور والدہ کا اس کو استنجاء اور غسل کرانے کا حکم

سوال

: میرا بیٹا 14 سال کا ہے اور ایک نفسیاتی مسئلہ کا بچپن سے شکار ہے۔ ڈاکٹروں کی تشخیص کے مطابق اس نفسیاتی مسئلے کو آٹزم (Autism) کہتے ہیں۔ اس کو یہ مسئلہ شدید نوعیت کا ہے گو کہ کچھ بچے اس سے بھی زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس مسئلہ کی وجہ سے اس کی ذہنی نشوونما عمر کے لحاظ سے کافی پیچھے ہے۔ جسمانی طور پر 14 سال کا ہونے کے باوجود اس کی ذہنی عمر 8 سال کی ہے۔ اسی نفسیاتی مسئلہ کی وجہ سے عثمان کو ہر چیز اپنی سمجھ کے مطابق چاہیے ہوتی ہے اور جو کام ایک طرح سے کر لے وہ ہر روز اسی وقت پر اسی طرح کرنا چاہتا ہے، کھانے پینے، پہننے اوڑھنے، یہاں تک کہ صابن کے استعمال میں اس کو صرف اپنی سمجھ کی چیز چاہیے جو نہ ملنے پر وہ شدید پریشانی اور غصے کا شکار ہوتا ہے اور مارنے پیٹنے، توڑ پھوڑ کرنے، اور اپنے آپ کو نقصان پہنچانے تک چلا جاتا ہے۔ کئی موبائل فون، کئی ٹی وی، کئی کمپیوٹر، کئی دروازے، اور بہت کچھ اس کے غصے کی زد میں آچکے ہیں۔ اسی نفسیاتی کیفیت یا بیماری کی وجہ سے اس کے جسم کے کچھ حصے، خاص طور پر ہاتھ کی انگلیاں ٹھیک طرح گرفت اور قوت نہیں رکھتیں اور وہ باریک چیزیں مشکل سے پکڑتا ہے اور جہاں بھی ہاتھ کا استعمال درکار ہو وہاں اسے مشکل ہوتی ہے، اپنی طہارت کے لئے بھی وہ ماں پر انحصار کرتا ہے۔ خود سے وہ اپنے آپ کو صاف نہیں رکھ پاتا۔ گو کہ کوشش کرتا ہے اور ہم اس سے کروا بھی رہے ہیں۔ بولنے میں مشکل کے باعث بھی بہت بے چین اور غصیلہ رہتا ہے۔ اچھے اور برے کی تمیز بھی نہیں کر پاتا۔ شرم و حیا کی بھی سمجھ اور احساس نہیں ہے۔ یہ تمام عادات دراصل اسی نفسیاتی مسئلے کی علامات ہیں۔ اس کو دوا کے ذریعے پرسکون رکھنا پڑتا ہے۔ بہرحال اللہ کا شکر ہے کہ بہت سی اور علامات اس میں نہیں ہیں، جیسے بالکل ہی بات کرنے کے قابل نہ ہونا۔

اب سؤال یہ ہے کہ اس کی والدہ کا ایسے بچے کا استنجاء کرانا اور اس کو نہلانا اور غسل دینا کا شرعی حکم کیا ہے؟کیونکہ یہ امور وہ والدہ کے بغیر نہیں کرتا ،اور اسی طرح یہ رات کو اپنی والدہ کے ساتھ سوتا ہے اور ان کے بغیر یہ آرام نہیں کرتا تو اس کا اپنی والدہ کے ساتھ سونا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ ۔

جواب

صورت مسؤلہ میں ذکر کردہ بچہ  شرعاً معتوہ کے حکم میں ہے۔ ان کی والدہ کو اس بچہ کا ستر (ناف سے لیکر گھنٹے تک حصہ )دیکھنا شرعاً جائز نہیں ہے ،اس لئے بہتر یہی ہے کہ  مذکورہ بچہ استنجاء  اور غسل خود کرے  اور اس کو آہستہ آہستہ  اس کی تعلیم دی جائے اور سمجھایا جائے اور اگر اس کو استنجاء وغیرہ کرنے میں والدہ کی ضرورت پڑے تو ان کی والدہ نظروں کی حفاظت کرتے ہوئے شرمگاہ کو دیکھے بغیر ان کی مدد کریں ،اور غسل کرتے وقت اگر بچہ کو اپنے والدہ کے تعاون کی ضرورت پیش آئے تو بچہ کو بالکل برھنہ کرکے نہ نہلایا جائے بلکہ اس کے ستر یعنی ناف سے لیکر گھنٹے تک کا حصہ پر کپڑا ہو ،یاشلوار یا پتلون پہن کر اسے غسل کروایا جائے۔اور رات کو سوتے وقت بھی والدہ کے ساتھ سونے سے احتراز کرنا بہتر ہے ،اور اگر بچہ شدید اصرار کرے تو درمیان میں کوئی  تکیہ وغیرہ کا حائل رکھ دیا جائے۔

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیہ میں ہے:

«والعته في الاصطلاح: آفة ناشئة عن الذات، توجب خللا في العقل، ويصير صاحبه مختلط العقل، فيشبه بعض كلامه كلام العقلاء، وبعضه كلام المجانين»

(حرف العین ،عتہ 29/275 ط الکویت)

 

الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیہ میں ہے:

«اعتبر جمهور الفقهاء أن العته يسلب التكليف من صاحبه، وأنه نوع من الجنون، وينطبق على المعتوه ما ينطبق على المجنون من أحكام، سواء في أمور العبادات، أو في أمور المال والمعاملات المتصلة به، أو في العقود الأخرى كعقود النكاح والطلاق وغير ذلك من التصرفات الأخرى. واستدلوا بقوله صلى الله عليه وسلم: رفع القلم عن ثلاثة: عن النائم حتى يستيقظ، وعن الصبي حتى يحتلم، وعن المجنون حتى يعقل وفي رواية: عن الصبي حتى يبلغ، وعن النائم حتى يستيقظ، وعن المجنون حتى يبرأ وفي رواية: وعن المعتوه حتى يعقل

(حرف العین ،عتہ 29/276 ط کویت)

 

 

 

 

فتاوی شامی میں ہے:

«وَكَذَا) تَنْظُرُ الْمَرْأَةُ (مِنْ الرَّجُلِ) كَنَظَرِ الرَّجُلِ لِلرَّجُلِ (إنْ أَمِنَتْ شَهْوَتَهَا) فَلَوْ لَمْ تَأْمَنْ أَوْ خَافَتْ أَوْ شَكَّتْ حَرُمَ اسْتِحْسَانًا كَالرَّجُلِ هُوَ الصَّحِيحُ فِي الْفَصْلَيْنِ تَتَارْخَانِيَّةٌ مَعْزِيًّا لِلْمُضْمَرَاتِ»

(کتاب الحظر والاباحۃ ،فصل فی النظر واللمس 21/448 ط رشیدیہ ت فرفور)


واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

فتوی نمبر:535

تاریخ اجراء7 صفر المظفر  1448ھ/22 جولائی 2026