info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

خبیث مرد خبیث عورتوں کے لئےکی صحیح تفسیر

سوال

مفتی صاحب مندرجہ ذیل تحریر کے بارے میں راہنمائی درکار ہے کہ یہ درست ہے یا نہیں؟

 ہمارے ہاں ایک بات بہت عام ہے۔۔،،

بری عورتیں برے مردوں کے لیے اور برے مرد بری عورتوں کے لیے ہیں۔

ہمارے ہاں "سورۃ نور" کی آیت نمبر 26 کا ترجمہ سراسر غلط لیا جاتا ہے.،

ترجمہ:-

"بدکار عورتیں بدکار مردوں کے لیے ہیں اور بدکار مرد بدکار عورتوں کے لیے۔۔"

پہلی بات یاد رکھیں قرآن مجید کی کسی بھی آیت کی تفسیر اسکے سیاق وسباق کے بغیر نہیں کی جا سکتی، اور ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمیں آدھا سچ بتانے کی عادت ہے ۔ اگر "سورۃ نور" کی آیت کے آگے پیچھے کی آیت کو پڑھا جاۓ تو صاف پتا چلتا ہے کہ یہاں پر آخرت کی بات ہو رہی ہے نہ کہ دنیا کی۔

آخرت میں بری عورتیں برے مردوں کے ساتھ جہنم میں ہونگی اور اچھی عورتیں اچھے مردوں کے ساتھ جنت میں ہونگی۔ اگر دنیا کی بات کریں تو دنیا میں "فرعون" کی بیوی مسلمان تھی اور "نوح علیہ السلام" کی بیوی کافر تھی۔

لہذا اس آیت کا ترجمہ ٹھیک سے سمجھ لیں کہ یہاں آخرت کا ذکر ہو رہا ہے نہ کہ دنیا کا۔

جواب

مفسرین کرام نے سورۃ النور کی آیت نمبر 26 ٱلۡخَبِيثَٰتُ لِلۡخَبِيثِينَ وَٱلۡخَبِيثُونَ لِلۡخَبِيثَٰتِۖ وَٱلطَّيِّبَٰتُ لِلطَّيِّبِينَ وَٱلطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَٰتِۚ  [النور: 26]   جس کا ترجمہ یہ ہے کہ"گندی عورتیں گندے مردوں کے لائق ہوتی ہیں ،اورگندے مرد گندی عورتوں کے لائق ہوتے ہیں،پاک صاف  عورتیں پاک صاف مردوں کے لائق ہوتی ہیں ،اور پاک صاف مرد، پاک صاف  عورتیں کے لائق ہوتے ہیں"کے دو مطلب بیان کئے ہیں ، اور دونوں کا تعلق اسی دنیا کے احکامات کے ساتھ ہے:

پہلا مطلب یہ ہے کہ  اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک ضابطہ اور قاعدہ بیان کیا ہے طبعی طور پر پاکیزہ مرد  پاکیزہ عورت کی طرف رغبت رکھتا ہے ،اور اسی طرح پاکیزہ عورت طبعی طور پر پاکیزہ مرد سے رغبت رکھتی ہے،اور اسی رغبت کے نتیجہ اللہ پاک پاکیزہ مرد کوپاکیزہ عورت اور پاکیزہ عورت کو پاک دامن مرد عطا کردیتے ہیں اور دونوں کا ازدواجی تعلق قائم ہوجاتا ہے،اب اس آیت مبارکہ میں اس ضابطہ کو بیان کرکے اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی پاکدامنی پر استدلال کیا گیا ہے،انبیاء علیھم الصلوات والتسلیمات   کائنات  کی سب سے مبارک اور پاکیزہ ہستیاں ہیں  ،تو ان کی ازواج بھی پاکدامن ہیں ،اور آپ ﷺ چونکہ امام الانبیاء والصلحاء والاتقیاء ہیں ،پاکدامنی اور پاکیزگی کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہیں تو آپ ﷺ کی ازواج مطہرات بھی پاکدامنی کے اعلیٰ معیار پر فائز ہیں ،اور ازواج مطہرات میں اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر یہ تہمت جھوٹی ہے۔تمام انبیاء علیھم الصلوات والتسلیمات کی ازواج پاکیزہ تھیں ،ان میں کوئی بھی بدکار ،فاحشہ اور زانیہ نہ تھیں ،اگرچہ بعض انبیاء کی ازواج کافرہ ضرور تھیں لیکن وہ بھی کفر کے باوجود  فاحشہ اور زانیہ نہ تھیں ،حضورﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ کسی بھی نبیؑ کی بیوی فاحشہ اور زانیہ نہ تھیں ،اور وجہ اس کی یہ ہے طبعی طور پر بدکاری اور زنا سے عوام نفرت کرتی ہے ،اور کفر طبعی طور پر موجب نفرت نہیں ہے ،اگر نبی کی ازواج سے بدکاری اور زنا کا بالفرض صدرو ہوتا ہے تو تبلیغ دین میں یہ امر مخل ہوتا ۔

دوسرا مطلب بعض مفسرین نے اس کا یہ بیان کیا ہے ،خبیثات  اور  طیبات سے مراد عورتیں  نہیں ،بلکہ اقوال و کلمات مراد ہیں ،یعنی مطلب یہ ہے کہ گندی باتیں  گندوں کے لائق ہیں ،اور ستھری باتیں ستھروں کے لائق ہیں ، پاکبار اور ستھرے مرد و عورتیں ایسی تہمتوں سے بری ہوتے ہیں  یا یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ گندی باتیں گندوں کی زبان سے نکلتی ہیں تو جس کسی نے  پاکباز مرد یا عورت  کی طرف کوئی گندی بات منسوب کی تو سمجھ لو کہ وہ  خود گندا ہے ۔بہر حال آیت مبارکہ کا دونوں میں کوئی بھی بھی مطلب مراد لے لیا جائے دونوں کا تعلق اسی دنیا کے احکا م کے سے ہے ۔

علامہ آلوسی ؒ تفسیر روح المعانی میں لکھتے ہیں:

ولعل فائدة هذا العلم يأسهم من إنقاذ أحد إياهم مما هم فيه أو انسداد باب الاعتراض المروح للقلب في الجملة عليهم أو تبين خطئهم في رميهم حرم رسول الله صلى الله عليه وسلم بالباطل لما أن حقيته تأبى كونه عز وجل حقا أي موجدا للأشياء بحسب ما تقتضيه الحكمة لما قدمنا من أن فجور زوجات الأنبياء عليهم السلام مخل بحكمة البعثة، وكذا تأبى كونه عز وجل حقا أي واجبا لذاته بناء على أن الوجوب الذاتي يستتبع الإنصاف بالحكمة بل بجميع الصفات الكاملة، وهذه الجملة ظاهرة جدا في أن الآية في ابن أبيّ وأضرابه من المنافقين الرامين حرم الرسول صلى الله عليه وسلم لأن المؤمن عالم أن الله تعالى هو الحق المبين منذ كان في الدنيا لا أنه يحدث له علم ذلك يوم القيامة. ومن ذهب إلى أنها في الرامين من المؤمنين أو فيهم وفي غيرهم من المنافقين قال: يحتمل أن يكون المراد من العلم بذلك التفات الذهن وتوجهه إليه ولا يأبى ذلك كونه حاصلا قبل. قد حمل السيد السند قدس سره في حواشي المطالع العلم في قولهم في تعريف الدلالة كون الشيء بحالة يلزم من العلم به العلم بشيء آخر على ذلك لئلا يرد أنه يلزم على الظاهر أن لا يكون للفظ دلالة عند التكرار لامتناع علم المعلوم ويحتمل أن يكون قد نزل علمهم الحاصل قبل منزلة غير الحاصل لعدم ترتب ما يقتضيه من الكف عن الرمي عليه ومثل هذا التنزيل شائع في الكتاب الجليل، ويحتمل أن يكون المراد يعلمون عيانا مقتضى أن الله هو الحق المبين. أعني الانتقام من الظالم للمظلوم. ويحتمل غير ذلك.

وأنت تعلم أن الكل خلاف الظاهر فتدبر، وقوله تعالى: الْخَبِيثاتُ إلخ كلام مستأنف مؤسس على السنة الجارية فيما بين الخلق على موجب أن لله تعالى ملكا يسوق الأهل إلى الأهل، وقول القائل: «إن الطيور على أشباهها تقع» أي الخبيثات من النساء لِلْخَبِيثِينَ من الرجال أي مختصات بهم لا يتجاوزنهم إلى غيرهم على أن اللام للاختصاص وَالْخَبِيثُونَ أيضا لِلْخَبِيثاتِ لأن المجانسة من دواعي الانضمام وَالطَّيِّباتُ منهن لِلطَّيِّبِينَ منهم وَالطَّيِّبُونَ أيضا لِلطَّيِّباتِ منهن بحيث لا يتجاوزونهن إلى من عداهن وحيث كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أطيب الأطيبين وخيرة الأولين والآخرين تبين كون الصديقة رضي الله تعالى عنها من أطيب الطيبات بالضرورة واتضح بطلان ما قيل فيها من الخرافات حسبما نطق به قوله سبحانه: أُولئِكَ مُبَرَّؤُنَ مِمَّا يَقُولُونَ على أن الإشارة إلى أهل البيت النبوي رجالا ونساء ويدخل في ذلك الصديقة رضي الله تعالى عنها دخولا أوليا، وقيل: إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم والصديقة وصفوان وقال الفراء: إشارة إلى الصديقة وصفوان والجمع يطلق على ما زاد على الواحد

(سورۃ النور آیت 26 ،9/326 ط دار الکتب العلمیہ بیروت)

حضرت علامہ قاضی ثناء اللہ ؒتفسیر مظہری میں لکھتے ہیں:

الْخَبِيثاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثاتِ وَالطَّيِّباتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّباتِ قال اكثر المفسرين معناه الخبيثات من الكلمات يعنى كلمات الذم والتحقير والشتم ونحو ذلك يستحقها الخبيثون من الناس والخبيثون من الناس يستحقون الذم ونحو ذلك والطيبات من الكلمات من المدح والثناء والدعاء يستحقها الطيبون والطيبون يستحقون الطيبات فعائشة تستحق الثناء والصلاة والسلام والدعاء دون ما قيل فيه من الافك أُولئِكَ يعنى عائشة وأمثالها مُبَرَّؤُنَ مِمَّا يَقُولُونَ فيهم اهل الافك من الكلمة الخبيثة وقال الزجاج الخبيثات من الكلمات ككلمة الكفر والكذب وسبّ الصحابة واهل البيت وقدف المحصنات وأمثال ذلك للخبيثين من الناس نحو عبد الله بن ابى لا يتكلم بها الطيبون والخبيثون خلقوا وجبلوا لتلك الكلمات الخبيثة والطيبات من الكلمات كذكر الله وتلاوة القرآن والصلاة والسلام على النبي واهل بيته والدعاء بالمغفرة للمؤمنين والمؤمنات ميسر للطيبين من الناس والطيبون من الناس خلقوا مستعدين للطيبات من الكلمات- أولئك يعنى الطيبين من الناس مبرءون من ارتكاب ما قاله اهل الافك ونحو ذلك فهو ذم للقاذفين ومدح للذين برّاهم الله- وقال ابن زيد الخبيثات من النساء للخبيثين من الرجال يعنى غالبا والخبيثون من الرجال للخبيثات من النساء- والطيبات من النساء للطيبين من الرجال والطيبون من الرجال للطيبات من النساء يعنى في الأغلب … فعائشة طيبة ولذلك اختارها الله تعالى لازدواج رسوله الطيب الطاهر صلى الله عليه وسلم أولئك يعنى عائشة وأمثالها مبرءون مما يقول فيهم اهل الافك ولو لم تكن عائشة طيبة لما صلحت لمصاحبة النبي صلى الله عليه وسلم فكانّ هذه الاية بمنزلة البرهان على كذب اهل الافك- عن هند بن ابى هالة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الله ابى ان أتزوج او أزوج الا اهل الجنة رواه ابن عساكر لَهُمْ يعنى لعائشة وأمثالها من المؤمنين الطيبين مَغْفِرَةٌ من الذنوب وَرِزْقٌ كَرِيمٌ  يعنى الجنة۔

(سورۃ النور آیت 26 6/484،485 ط رشیدیہ کوئٹہ)

مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع صاحب ؒ   اپنی مایہ ناز تفسیر "معارف القرآن "میں لکھتے ہیں :

اَلْخَبِيْثٰتُ لِلْخَبِيْثِيْنَ وَالْخَبِيْثُوْنَ لِلْخَبِيْثٰتِ  وَالطَّيِّبٰتُ للطَّيِّبِيْنَ وَالطَّيِّبُوْنَ للطَّيِّبٰتِ  اُولٰىِٕكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا يَقُوْلُوْنَ  لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ، یعنی گندی عورتیں گندے مردوں کے لائق ہوتی ہیں اور گندے مرد گندی عورتوں کے لائق ہوتے ہیں اور پاک صاف عورتیں پاک صاف مردوں کے لائق ہوتی ہیں اور پاک صاف مرد پاک صاف عورتوں کے لائق ہوتے ہیں ۔اس آخری آیت میں اول تو عام ضابطہ یہ بتلا دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے طبائع میں طبعی طور پر جوڑ رکھا ہے ۔ گندی اور بدکار عورتیں بدکار مردوں کی طرف اور گندے بدکار مرد گندی بدکار عورتوں کی طرف رغبت کیا کرتے ہیں ۔ اسی طرح پاک صاف عورتوں کی رغبت پاک صاف مردوں کی طرف ہوتی ہے اور پاک صاف مردوں کی رغبت پاک صاف عورتوں کی طرف ہوا کرتی ہے اور ہر ایک اپنی اپنی رغبت کے مطابق اپنا جوڑ تلاش کرتا ہے اور قدرة اس کو وہی مل جاتا ہے۔اس عام عادت کلیہ اور ضابطہ سے واضح ہوگیا کہ انبیاء علیہم السلام جو دنیا میں پاکی اور صفائی ظاہری و باطنی میں مثالی شخصیت ہوتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ان کو ازواج بھی ان کے مناسب عطا فرماتے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو تمام انبیاء کے سردار ہیں ان کو ازواج مطہرات بھی اللہ تعالیٰ نے پاکی اور صفائی ظاہری اور اخلاقی برتری میں آپ ہی کی مناسب شان عطا فرمائی ہیں اور صدیقہ عائشہ ان سب میں ممتاز ہیں ۔ ان کے بارے میں شک و شبہ وہی کرسکتا ہے جس کو خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہ ہو اور حضرت نوح حضرت لوط علیہما السلام کی بیبیوں کے بارے میں جو قرآن کریم میں ان کا کافر ہونا مذکور ہے تو ان کے متعلق بھی یہ ثابت ہے کہ کافر ہونے کے باوجود فسق و فجور میں مبتلا نہیں تھیں ۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا ما بغت امراة نبی قط، یعنی کسی نبی کی عورت نے کبھی زنا نہیں کیا (ذکر فی الدر المنثور) اس سے معلوم ہوا کہ کسی نبی کی بیوی کافر ہو جائے اس کا تو امکان ہے مگر بدکار فاحشہ ہو جائے یہ ممکن نہیں ۔ کیونکہ بدکاری طبعی طور پر موجب نفرت عوام ہے کفر طبعی نفرت کا موجب نہیں (بیان القرآن)

(سورۃ النور آیت 26 ، 6/383،384 ط مکتبہ معارف القرآن )

شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانئ  تفسیر عثمانی میں لکھتے ہیں :

یعنی بدکار اور گندی عورتیں گندے اور بدکار مردوں کے لائق ہیں ۔ اسی طرح بدکار اور گندے مرد اس قابل ہیں کہ ان کا تعلق اپنے جیسی گندی اور بدکار عورتوں سے ہو ۔ پاک اور ستھرے آدمیوں کا ناپاک بدکاروں سے کیا مطلب۔ ابن عباس نے فرمایا کہ پیغمبر کی عورت بدکار (زانیہ) نہیں ہوتی، یعنی اللہ تعالیٰ ان کی ناموس کی حفاظت فرماتا ہے۔ نقلہ فی موضح القرآن۔ (تنبیہ) آیت کا یہ مطلب تو ترجمہ کے موافق ہوا۔ مگر بعض مفسرین سلف سے یہ منقول ہے کہ "الخبیثات" اور "الطیبات" سے یہاں عورتیں مراد نہیں ۔ بلکہ اقوال و کلمات مراد ہیں ۔ یعنی گندی باتیں گندوں کے لائق ہیں ۔ اور ستھری باتیں ستھرے آدمیوں کے۔ پاکباز اور ستھرے مرد و عورت ایسی گندی تہمتوں سے بری ہوتے ہیں جیسا کہ آگے (اُولٰىِٕكَ مُبَرَّءُوْنَ مِمَّا يَقُوْلُوْنَ  لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ) 24۔ النور :26) سے ظاہر ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ گندی باتیں گندوں کی زبان سے نکلا کرتی ہیں تو جنہوں نے کسی پاکباز کی نسبت گندی بات کہی، سمجھ لو کہ وہ خود گندے ہیں ۔

(سورۃ النور آیت 26)

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

                                                           دارالافتاءمدرسہ عارف العلوم کراچی

                                                                                                     2 جمادی الاخرۃ 1445ھ/16دسمبر 2023ء

                                                                                                            فتویٰ نمبر:343