info@bismillah.com +(00) 123-345-11

مدرسہ عارف العلوم

فتوے

Banner

والدہ کے ترکہ میں والدکا تصرف کرنا

سوال

محترم مفتی صاحب!

ہم چار بھائی اور دو بہنیں ہیں،ہمارے والدین  دونوں وفات پاچکے ہیں اور اب ہم ان کی وراثت تقسیم کرنا چاہتے ہیں،والدہ کے انتقال کے بعد ہماری دونوں بہنوں نے والدہ کے زیورات اپنے پاس رکھ لئے اور کہا کہ ہمارے والد صاحب نے اب یہ زیورات انہیں تحفے میں دئیے ہیں ،لیکن ہماری بہنوں کے پاس ا س بات کا کوئی ثبوت یا گواہ موجود نہیں کہ والد صاحب نے یہ سونا انہیں تحفے میں دینے کی بات کی تھی ،ہمارے والد صاحب نے بھی کبھی ہم سے یا خاندان میں سے کسی کے سامنے یہ نہیں کہا کہ انہوں نے یہ سونا ہماری بہنوں کو تحفے میں دے دیا ہے۔زیورات کا وزن 200 گرام سے زیادہ اور ان کی مالیت تقریباً 74 لاکھ روپے ہے،ہمارے مکان کی مالیت 3کروڑ 80 لاکھ روپے ہے،ہماری بہنیں زیورات اپنے پاس رکھنے کے باوجود مکان کی وراثت میں حصہ مانگ رہی ہیں۔برائے کرم راہنمائی فرمائیں کہ کیا زیورات تحفے میں دینے کے بارے میں ہماری بہنوں کا دعویٰ قابل قبول ہے؟

نوٹ:والدہ 2016 میں فوت ہوئی،والدہ کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں شوہر،چار بیٹے اور دو بیٹیاں حیات تھیں  اور والد  کا انتقال 2021 میں ہوا،ان کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں والدہ(ہماری دادی)،چار بیٹے اور دو بیٹیاں حیات تھیں۔پھر ہماری دادی کا انتقال 2024 میں ہوا ان کےانتقال کے وقت ان کے  ورثاء میں ان کا ایک بیٹا(یعنی ہمارا چچا) حیات ہے۔

وضاحت:مذکورہ سونا والدہ کی ملکیت تھااور ان کے قبضہ میں تھا۔

جواب

صورت مسؤلہ میں اگر مذکورہ سونا واقعۃً سائل کی مرحومہ والدہ کی ملکیت تھا تو ان کی وفات کے بعد یہ ان کا ترکہ ہے جو ان کے تمام ورثاء میں تقسیم ہوگا۔سائل کے والدین کی  وفات کے بعد سائل کی بہنوں کا یہ دعویٰ کہ مذکورہ سونا والد نے اپنی زندگی میں ان کو گفٹ کردیا تھا یہ شرعاً غلط اور  دو وجوہ سے ناقابل قبول ہے ،پہلی وجہ یہ ہے سائل کی بہنوں کے پاس اپنے دعوی کے ثبوت کے لئے کوئی گواہ نہیں اور شریعت مطہرہ میں بغیر دلیل اور گواہوں کے دعوی ناقابل قبول ہوتا ہے اور دوسری وجہ یہ ہے اگر وہ اپنے دعوی پر دو گواہ پیش بھی کردیں تب بھی ان کی بات معتبر نہیں ہوگی اس لئے کہ جب  سونا والدہ کی ملکیت تھا تو والد کو اس سونا میں اپنے حصے سے زیادہ کا تصرف کرنے کا شرعاً اختیار حاصل نہیں تھا ،لہذا سائل کی بہنوں پر لازم ہے کہ مذکورہ سونے میں سے اپنے بھائیوں کا جو شرعی حصہ بنتا ہے ان کے حوالہ کریں ،اور بھائی بھی دیگر تمام ترکہ جو ان کے قبضہ میں ہےسے اپنی بہنوں کا حصہ ادا کریں۔

مرحومہ والدہ کے ترکہ کو تقسیم کرنے کا شرعاً طریقہ یہ ہے کہ مرحومہ کے حقوق مقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کا بعد ،اگر مرحومہ پر کوئی قرضہ ہو تو اسے ادا کرکے،اور اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہوتو اسے ایک تہائی مال سے نافذ کرکے بقیہ کل جائیداد منقولہ وغیر منقولہ کو ۲۴۰ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، مرحومہ کے ہرایک بیٹے کو ۴۶حصے ،مرحومہ کی ہر ایک بیٹی کو ۲۳ حصے اور سائل کے چچا کو ۱۰حصے ملیں گے۔

یعنی مرحومہ والدہ کے کل ترکہ میں سے ان کے ہرایک بیٹے کو 19.16 فیصد حصہ ،ہرایک بیٹی کو 9.58 فیصد حصہ اور سائل کے چچا کو 4.16فیصد حصہ ملے گا۔

سائل کے مرحوم والد کے ترکہ کو تقسیم کرنے کا شرعاً طریقہ یہ ہے مرحوم کے حقوق مقدمہ یعنی تجہیز وتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد ،اگر مرحوم پر کوئی قرضہ ہے تو اسے ادا کرکے ،اور اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہے تو اسے ایک تہائی مال سے نافذ کرکے بقیہ کل جائیداد منقولہ وغیر منقولہ کو 12 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو 2 حصے ،مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو ایک حصہ اور سائل کے چچا کو 2 حصے ملیں گے۔

یعنی والد مرحوم کی کل جائیداد میں سے ہر ایک بیٹے کو 16.66 فیصد حصہ ،مرحوم کی ہرایک بیٹی کو 8.33 فیصد حصہ اور سائل کے چچا کو 16.66 فیصد حصہ ملے گا۔

واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

کتاب:ھبہ

باب: صحیح اور غیر صحیح ہبہ

فصل:

فتوی نمبر:571

16 جمادی الاولیٰ 1448ھ/28اکتوبر 2026ء