info@bismillah.com +(00) 123-345-11

page-title-ayat.png

فتوے

Banner

ونیلا فلیور،پروپیلین گلائیکول،رنگ (A150)،الکحل ،سائٹرک ایسڈ والے اجزاء کے استعمال کا حکم

سوال

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! کیا اس کا استعمال کی اجازت ہے یا  نہیں؟ایک چمچ کے آس پاس استعمال کیئے جاتے ہیں میٹھاٹی میں جیسے کسٹرڈ*اجزاء:*پانی، ونیلا فلیور، پروپیلین گلائیکول، الکحل، رنگ (150a)، تیزابیت کو کنٹرول کرنے والا (330)۔اس میں 5.4 فیصد الکحل شامل ہے۔*ایک چائے کے چمچ (1 teaspoon = 5ml) میں کتنی مقدار ہوگی:*بوتل پر ہر چیز کی الگ الگ مقدار نہیں لکھی، صرف ترتیب لکھی ہے۔ کمپنی نے سب سے زیادہ مقدار والی چیز پہلے لکھی ہے۔ایک چائے کا چمچ 5 ملی لیٹر کا ہوتا ہے، اس میں:- *الکحل:* 5.4 فیصد کے حساب سے تقریباً 0.27 ملی لیٹر الکحل ہوگا۔ باقی 4.73 ملی لیٹر پانی اور دیگر اجزاء ہوں گے۔- *پانی:* سب سے زیادہ مقدار میں، تقریباً 4 ملی لیٹر سے زیادہ۔- *ونیلا فلیور، پروپیلین گلائیکول، رنگ (150a)، اور سائٹرک ایسڈ (330):* یہ بہت ہی کم مقدار میں ہوں گے، چند قطرے ہی۔مطلب ایک چائے کے چمچ میں الکحل کی مقدار ایک چوتھائی ملی لیٹر سے بھی کم ہے، لیکن پھر بھی اس میں الکحل موجود ہے۔ ؟

جواب

شریعت مطہرہ میں کسی بھی چیز کی حلت وحرمت کا تعلق اس کے اجزاء کے ساتھ ہے ،اگر چیز حلال اجزاء سے مرکب ہے تو اس کااستعمال جائز ہے اور اگر اس میں حرام یا مشکوک اجزاء ہیں تو ان کا استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔

صورت مسؤلہ میں سائل نے جس چیز سے متعلق دریافت کیا ہے اس میں مندرجہ ذیل پانچ اجزاء پر مشتمل ہے،ذیل میں ان اجزاء سے متعلق ہمیں جو معلومات حاصل ہوئی ہیں ان کو ذکر کیا جاتا ہے پھر آخر میں اس کا حکم بیان کیا جائے گا:

۔ ونیلا فلیور (Vanilla Flavor):یہ ایک خوشبودار مادہ ہے جو چیزوں میں ونیلا کا ذائقہ لانے کے لئے استعمال ہوتا ہے ،بعض ونیلا فلیور ایسے ہیں جن میں حرام الکحل شامل ہوتا ہے لہذا مذکورہ ونیلا فلیور میں اگر کوئی حرام الکحل شامل نہیں ہے تو اس کا استعمال حلال ہے۔

۲۔ پروپیلین گلائیکول (Propylene Glycol):یہ فلیور کو محفوظ رکھنے اور حل کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے ،اور پروپیلین گلائیکول تین قسم کے ہوتے ہیں ،جن میں دو حلال ہیں اور ایک قسم مشکوک ہے۔پروپیلین گلائیکول جس کا کوڈ نمبر   E1520اور E405  ہے یہ دونوں قسم حلال ہیں اور جس کا کوڈ نمبر:E477 یہ مشکوک ہے۔لہذا مذکورہ چیز میں استعمال ہونے والا پروپیلین گلائیکول اگر پہلی دو قسموں میں سے ہے تو اس کا استعمال حلال ہے ورنہ احتیاط بہتر ہے۔

۳: رنگ 150: (Color E150a - Plain Caramel): یہ چینی یا نشاستہ (Starch) کو گرم کر کے بنایا جانے والا قدرتی بھورا رنگ ہے۔اور اس کا استعمال حلال اور جائز ہے۔

۴:سائٹرک ایسڈ 330 (Citric Acid E330): یہ ایک تیزابی مادہ ہے جو عام طور پر لیموں، مالٹے اور دیگر ترش پھلوں میں پایا جاتا ہے,لیکن تجارتی سطح پر مصنوعی طریقہ سے بھی تیار کیا جاتا ہے،اور تیزابیت کو کنٹرول کرنے لئے عموماً استعمال ہوتا ہے،اور اس کا استعمال حلال اور جائز ہے۔

مزید تفصیلات کے لئے حلال وحرام اشیاء سے متعلق عالمی ادارہ SANHA کی ویب سائٹ وزٹ کریں: https://www.sanha.org.pk/verify-Halal/ingredients

۵:الکحل (:(Alcoholلکحل کی دو قسمیں ہیں: (1) ایک وہ جو منقیٰ، انگور، یا کھجور کی شراب سےحاصل کی گئی ہو،  یہ بالاتفاق ناپاک  وحرام ہے، اس کا استعمال اور اس کی خریدوفروخت ناجائز ہے. (2) دوسری  وہ جو مذکورہ  بالا اشیاء کے علاوہ کسی اور چیز مثلاً جو، آلو، شہد، گنا، سبزی وغیرہ سے حاصل کی گئی ہو، اس کا استعمال اور اس کی خریدوفروخت جائز ہے بشر ط یہ کہ نشہ آور نہ ہو۔لہذا مذکورہ چیز میں اگر حرام الکحل شامل نہیں ہے تو اس کا استعمال جائز ہے بشرط یہ کہ اس میں نشہ نہ ہو۔

خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا چیز کے بعض اجزاء حلال ہیں اور بعض اجزاء جیسے ونیلا فلیور،الکحل اور پروپیلین گلائیکول میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے اگر یہ تمام اجزاء حلال ثابت ہوجائیں تو اس کا استعمال کرنا جائز اور حلال ہوگا۔

دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاون کے فتاوی میں ہے:

الکحل کی دو قسمیں ہیں: (1) ایک وہ جو منقیٰ، انگور، یا کھجور کی شراب سےحاصل کی گئی ہو،  یہ بالاتفاق ناپاک  وحرام ہے، اس کا استعمال اور اس کی خریدوفروخت ناجائز ہے. (2) دوسری  وہ جو مذکورہ  بالا اشیاء کے علاوہ کسی اور چیز مثلاً جو، آلو، شہد، گنا، سبزی وغیرہ سے حاصل کی گئی ہو، اس کا استعمال اور اس کی خریدوفروخت جائز ہے بشر ط یہ کہ نشہ آور نہ ہو۔

اگر چاکلیٹ میں ایتھائل الکحل پہلی قسم کا ہے تو خواہ وہ معمولی کیوں نہ ہو اس کا استعمال جائز نہیں ہے، اگر دوسری قسم کا ہو تو ایسے چاکلیٹ کا استعمال جائز ہے ؛ کیوں کہ اس میں شامل مقدار سے نشہ نہیں آتا۔

عام طور پر پرفیوم، ادویات ، اور دیگر مرکبات  مثلاً چاکلیٹ  وغیرہ میں جو الکحل استعمال ہوتی ہے وہ انگوریا کھجور وغیرہ سے حاصل نہیں کی جاتی، بلکہ  دیگر اشیاء سے بنائی جاتی ہے، لہذا  کسی چیز  کے بارے میں جب تک  تحقیق سے ثابت  نہ ہوجائے کہ اس  میں  پہلی قسم (منقیٰ، انگور، یا کھجور کی شراب )سے حاصل شدہ الکحل ہے ، اس وقت تک اس کے استعمال کو  ناجائز اور حرام نہیں کہہ سکتے،  تاہم اگر احتیاط پر عمل کرتے ہوئے اس سے بھی اجتناب کیا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔

غذائی مصنوعات میں عام طور پر ایتھائل الکحل استعمال ہوتا ہے،  مختلف چیزوں اور انڈسٹریوں میں استعمال  ہونے والے الکحل کا حکم درج ذیل ہے:

فوڈانڈسٹری میں الکحل کے استعمال کا  شرعی حکم:

 ٭ انگور اور کھجور سے حاصل شدہ ایتھائل الکحل کا استعمال  فوڈ انڈسٹری کی مصنوعات  میں کسی بھی  مقدارمیں جائز نہیں ۔

٭ انگور اور کھجور کے علاوہ  دیگر ذرائع سے حاصل شدہ ایتھائل الکحل کا استعمال  فوڈ انڈسٹری  کی مصنوعات میں اتنی مقدار میں جائز ہے ،  جس سے نشہ نہ ہوتا ہو۔

کھانے پینے کی مصنوعات  میں استعمال  ہونے والے کیمیکل اور فلیور انڈسٹری میں الکحل کےا ستعمال کا شرعی حکم:

٭ انگور اور کھجور  سے حاصل شدہ  ایتھائل الکحل کا استعمال کھانے پینے کی اشیاء میں استعمال  ہونے والے کیمیکل  اور فلیور انڈسٹری  کی مصنوعات  میں کسی بھی مقدار میں جائز نہیں۔

٭انگور  اور کھجور  کے علاوہ دیگرذرائع سے حاصل شدہ  ایتھائل الکحل کا استعمال  کھانے پینے  کی اشیاء میں استعمال ہونے والے کیمیکل  اور  فلیور انڈسٹری  کی مصنوعات   اتنی مقدار میں جائز نہیں ،  جس سے نشہ  ہوتا ہو، یا نشہ  ہونے کا امکان ہو۔

مشروبات  کی انڈسٹری میں الکحل کے استعمال کا  شرعی حکم:

٭جن مشروبات کا مقصد ہی نشہ حاصل کرنا ہو ان میں کسی  بھی ذریعے  سے حاصل   شدہ ایتھائل الکحل کا استعمال کسی  بھی مقدار  میں جائز نہیں ۔ اور نہ ہی ایسی  مصنوعات کا استعمال جائز ہے  ۔

٭ جن مشروبات کا مقصد نشہ کا  حصول نہیں  ( Non-Alcohlic bevergaes ) ان میں  انگور  اور کھجو ر کے علاوہ  دیگر ذرائع  سے حاصل  شدہ  ایتھائل الکحل کا استعمال اتنی مقدار  میں جائز ہے، جس سے نشہ نہ ہوتا ہو۔

٭ جن مشروبات کا مقصد نشہ کا حصول نہیں   ( Non-Alcoholic beverages) ان میں انگور  اور کھجور کے علاوہ  دیگر  ذرائع سے حاصل شدہ ایتھائل الکحل کا استعمال اتنی مقدار میں جائز نہیں  جس سے نشہ ہوتا ہو   یا نشہ ہونے کا امکان  ہو۔

٭اور نہ ہی ایسی مصنوعات  کا استعمال جائز ہے ۔

فارما انڈسٹری میں الکحل کے استعمال کا  شرعی حکم:

 ٭ فارما انڈسٹری  میں انگور اور کھجور سے حاصل شدہ ایتھائل الکحل کا استعمال حرام ہے،ا س  پر تداوی بالحرام کے شرعی احکام  وشرائط  جاری ہوں گے ۔

فارما انڈسٹری میں انگور اور کھجور کے علاوہ دیگر ذرائع سے حا صل شدہ ایتھائل الکحل کا استعمال بوقت ضرورت بقدر ضرورت جائز ہے۔

سنگھار اور ذاتی استعمال کی صنعت  ( Cosmetics & Personal care Products Industry)  میں الکحل کےا ستعمال کا  شرعی حکم:

 ٭ انگور اور کھجور سے حاصل شدہ  ایتھائل الکحل کا استعمال کاسمیٹکس اور  پرسنل کئیر انڈسٹری  کی مصنوعات  میں جائز نہیں ۔

٭ انگوراور کھجور  کے علاوہ  دیگر ذرائع سےحاصل شدہ  ایتھائل الکحل کا استعمال سنگھار اور ذاتی استعمال کی صنعت  کی خارجی استعمال کی مصنوعات   میں جائز ہے ۔ مثلاً ٹوتھ پیسٹ، خوشبویات  ہاتھ صاف  کرنے کی چیزیں  ، ذاتی استعمال کی دیگر اشیاء وغیرہ ۔

٭کاسمیٹکس انڈسٹری کی ایسی مصنوعات  جس کے خارجی  استعمال سے بھی ممکنہ طور پر نشہ  ہوسکتا ہو ،ا ن میں انگور  اور کھجور  کے علاوہ  دیگر  ذرائع سے حاصل شدہ ایتھائل الکحل کا استعمال جائز نہیں ہوگا۔فقط واللہ اعلم

(الکحل کی شرعی حیثیت ،فتوی نمبر: 144004200244)

                                                           واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب

 

فتوی نمبر:563

تاریخ :24ربیع الثانی1448ھ/7اکتوبر 2026ء